سرینگر// جموں کشمیر کے تمام اضلاع میں550روز بعد تیز رفتار4جی انٹرنیٹ سروس بحال کرنیکا اعلان کردیا گیا ہے۔فور جی انٹر نیٹ سروس سمیت ہر طرح کی مواصلاتی خدمات18ماہ قبل، اُس وقت معطل کی گئیں تھیں جب 5اگست 2019کو 370منسوخ کرکے جموں کشمیر کو تقسیم کیا گیا اور یوٹی بنایا گیا۔حکومتی ترجمان روہت کنسل نے جمعہ کو اس سلسلے میں سماجی رابطہ گاہ پر اس کی اطلاع فراہم کرتے ہوئے تحریر کیا’’تمام جموں کشمیر میں4جی موبائل انٹرنیٹ خدمات بحال کی جارہی ہیں‘‘۔ اس سے قبل فور جی انٹر نیٹ سروس کی بدستور بندش کے سلسلے میں آخری سرکاری ہدایت نامہ22جنوری2021 کو جاری کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ جموں کشمیر میں6 فروری تک4جی انٹرنیٹ سروس بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ پچھلے 18ماہ میں اس طرح کے 18آرڈر جاری کئے گئے ہیں۔شام دیر گئے پرنسپل سیکریٹری داخلہ شالین کابرا نے اس سلسلے میں با ضابطہ طور پر تحریری حکم نامہ جاری کیا۔’’ سپریم کورٹ کی ہدایت پرتشکیل دی گئی خصوصی کمیٹی کے 4فروری کو منعقدہ چھٹی میٹنگ کے دوران کئے گئے مشورے اور مجموعی طور پر سکیورٹی منظرنامے کا بغور جائزہ لینے کے بعد ، میں محکمہ داخلہ کے پرنسپل سکریٹری(مواصلات کے عارضی معطلی کے قاعدہ 2 شق(1) کے تحت مجاز اتھارٹی سروسز (پبلک ایمرجنسی یا پبلک سیفٹی) رولز ، 2017 ، اس کے تحت موبائل ڈیٹا سروسز اور فکسڈ لائن انٹرنیٹ پر عائد پابندیوں کو کالعدم قرار دیتا ہوں۔ پرنسپل سکریٹری کی طرف سے جاری کردہ ایک آرڈر میں لکھا گیا ہے کہ پہلے سے پیشگی ادائیگی(پری پیڈ)سم کارڈ ہولڈرز کو پوسٹ پیڈ کنکشن کے لاگو ہونے والے اصولوں کے مطابق تصدیق کے بعد ہی انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے جموں اور کشمیر زونوں کے انسپکٹر جنرل آف پولیس کو بھی ہدایت دی کہ وہ اپنے دائرہ اختیار والے علاقوں میں فوری طور پر اس حکم کی تعمیل کو یقینی بنائے،جبکہ وہ پابندیوں کو ختم کرنے کے اثرات پر بھی قریبی نگرانی کریں گے‘‘۔یاد رہے کہ5اگست 2029کو مرکزی حکومت کی جانب سے جموں کشمیر آئین کی تخصیص اور تقسیم کا اعلان کرنے سے قبل 4اور5اگست کی درمیانی شب جموں کشمیر میں تمام مواصلاتی نظام منقطع کیا گیا۔جس کے بعد اگر چہ مرحلہ وار بنیادوں پر مواصلاتی نظام کو بحال کیا گیا تاہم4جی انٹرنیٹ مسلسل بند رہا۔اس دوران حکام نے18ایسے حکم نامے جاری کئے جن میں4جی موبائل انٹرنیٹ بندشوں کے جاری رہنے کے اعلانات کئے گئے۔
کب کیا ہوا؟
5اگست2019 کو جموں کشمیر میں دفعہ370کی تنسیخ اور جموں کشمیر کو دو مرکزی زیر انتظام والی اکائیوںمیں تبدیل کرنے کے اعلان سے 12گھنٹے قبل ہی جموں کشمیر میں مواصلاتی بندشیں عائد کی گئیں،اور انٹرنیٹ کو بھی منقطع کیا گیا۔اسکے بعدلگاتار 12دنوں تک وادی کا بیرون دنیا سے مواصلاتی رابطے مکمل طور پر منقطع رہے۔12دنوں کے بعد انتظامیہ نے17اگست2019 سے مرحلہ وار بنیادوں پر لینڈ لائن فونوں کو بحال کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔لینڈ لائن بحال کرنے کا سلسلہ ضلع وار بنیادوں پر کیا گیا۔ پوسٹ پیڈ موبائلوں میں77دنوں کے بعد14اکتوبر2019 کو گھنٹی بجی۔اسکے بعدپری پیڈ موبائل سروس کی بحالی18جنوری 2020 کو کی گئی۔مجموعی طور پر174دنوں کے بعد 25جنوری 2020 کو 2جی انٹرنیٹ کو بحال کیا گیا۔16اگست2020 کو قریب ایک سال کی بندش کے بعدادھمپور اور گاندربل میں 4جی انٹرنیٹ سروس بحال کی گئی۔جموں کشمیر میں یہ انٹرنیٹ بندشیں دنیا کی طویل ترین انٹرنیٹ بندشوں میں پہلے پائیدان پر پہنچ چکی ہے۔سال2016 ایجی ٹیشن کے بعد133روز تک موبائل انٹرنیٹ سروس کومنقطع کیا گیا تھا،تاہم اس دوران براڈ بینڈ انٹرنیٹ سہولیات جاری رکھی گئی تھیں،جو کہ اب دوسرے پائیدان پر پہنچ گئی ہے۔ مغربی بنگال میں گورکھا تحریک پر احتجاج کے دوران کئی اضلاع میں100دنوں تک انٹرنیٹ بندشیں عائد کی گئی تھیں،جس کا نمبر اب تیسرا ہوگیا ہے۔
زندگی کا ہر پہلو متاثر
انٹرنیٹ بندشوں سے زندگی کا ہر پہلو متاثر ہوا۔ میڈیا اداروں میں انٹرنیٹ کی عدم رسائی نے انہیں میڈیا سہولیاتی مرکز کے8کمپیوٹروں کے رحم و کرم پر چھوڑتے ہوئے دو بوندانٹرنیٹ کا استعمال کرنے پر مجبور کیا۔انٹرنیٹ کی سست رفتاری کے نتیجے میں طلاب اور پیشہ وارانہ لوگوں کے علاوہ اس سے جڑے دیگر صارفین کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔انٹر نیٹ کی بندش سے طلاب اور تاجر سب سے زیادہ متاثر رہے۔
لیفٹیننٹ گورنر کا اظہار اطمینان
عمر عبداللہ کی مبارکباد
نیوز ڈیسک
سرینگر// جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے وزیر اعظم ہند اور وزیر داخلہ کو جموں کشمیر میں4جی انٹرنیٹ کی بحالی کیلئے شکریہ دا کیا ۔ منوج سنہا نے سماجی رابطہ گاہ ٹیوٹر پر تحریر کیا’’میں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کا شکریہ ادا کرتا ہوںکہ انہوں نے جموں کشمیر میں4جی سروس کی بحالی کی انکی حکومت کی درخواست کو خاطر میں لایا‘‘۔انہوں نے کہا کہ اس پیشرفت سے لوگوں بالخصوص نوجوانوں کی خواہشات کی تکمیل ہو سکے گی۔ادھرنیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے4 جی موبائل انٹرنیٹ سروس کی بحالی کیلئے مبارکباد پیش کرتے ہوئے دیر آید درست آید کے مصداق قرار دیا۔ عمر عبداللہ نے حکومت کی جانب سے جموں کشمیر میں4جی انٹرنیٹ کی بحالی کے اعلان کے بعد سماجی رابطہ گاہ ٹیوٹر پر تحریر کیا’’4جی مبارک!اگست2019کے بعد پہلی بار جموں کشمیر کے تمام حصوں میں4جی موبائل ڈاٹا ممکن ہوگا،دیر آید درست آید‘‘۔