سرینگر//معالجین نے کہا کہ ذیابیطس بیماری سے لڑنے والے 50فیصد لوگ بیماری سے واقف نہیں جبکہ ذیابیطس بیماری میں مبتلا مریضوں میں 80فیصد مکمل علاج نہیں کرپارہے ہیں۔کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ ڈی ایس ڈبلو کی جانب سے بدھ کو ذیابیطس بیماری کی وجوہات اور علاج کے بارے میں جانکاری فراہم کرنے کیلئے ایک کیمپ کا انعقاد کیا گیا ۔ پروگرام میں بحث و مباحثے اور قومی سطح کا ویبنارسکمز کے شعبہ کلینکل ریسرچ اور ڈائریکٹر لائف لانگ لرننگ کے اشتراک سے منعقد ہوا۔ وائس چا نسلر پروفیسر طلعت احمد نے ابتدائی سیشن میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور یونیورسٹی کی جانب سے سماجی پروگراموں میں طلبہ اور تدریسی عملہ کی شمولیت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ذیابیطس بیماری ایک عالمی مسئلہ بن گیا ہے اور اس کو کم کرنے کیلئے ہمیں مثبت سوچ اور ماہرین کی ضرورت ہوگی۔ اس موقع پر سکمز صورہ کے معروف انڈوکرائنولاجسٹ پروفیسر محمد اشرف گنائی نے بطور مہمان ذی وقار شرکت کی اور ذیابیطس بیماری کو ایک سماجی مسئلہ قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر بیماری کی نشاندہی اور ان کا مشاہدہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہذیابیطس بیماری سے لڑنے والے 50فیصد لوگ بیماری سے واقف نہیں جبکہ ذیابیطس بیماری میں مبتلا مریضوں میں 80فیصد مکمل علاج نہیں کرپارہے ہیں۔پروگرام میں ڈین ایکڈمسک پروفیسر فاروق احمد مسعودی، رجسٹرار ڈاکٹر نثار احمد میر اور پروفیسر عمر جاوید کے علاوہ سکمز میڈیکل فیکلٹی سے وابستہ افراد بھی موجود تھے۔