نئی دہلی // مرکزی سرکار نے کہا ہے کہ دفعہ 370کے خاتمے اور سابق ریاست کی تقسیم کے بعدجموں کشمیر اور لداخ کی مرکزی زیر انتظام اکائیوں کو مکمل طور پر ملک کے مین سٹریم میں شامل کرلیا گیا ہے۔ امور داخلہ کے وزیر مملکت جی کشن ریڈی نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں کہاکہ مرکزی سرکارنے کہا ہے کہ عسکریت پسندی کو قطعاً برداشت نہ کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے کیونکہ جموں و کشمیر گزشتہ تین دہائیوں سے سرحد پار حمایت سے انجام دی جانے والی عسکریت پسندی سے متاثر ہے۔ادھر راجیہ سبھا میں انہوں نے کہا کہ دفعہ 370کی منسوخی کے بعد جموں کشمیر میں 613افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے 430کو رہا کیا گیا۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئین میں تبدیلی اور جموں کشمیر تنظیم نو سے دونوں یوٹیز کا ادغام بھارت میں مکمل ہوگیا ہے۔ریڈی نے کہا’’ اس کے نتیجے میں آئین ہند میں جو حقوق وضع کئے گئے ہیں، انکے سبھی فوائد سابق ریاست کے شہریوں کو مل گئے ہیں نیزوہ سبھی مرکزی قوانین ،جن کے فائدے ملک کے سبھی شہری اٹھارہے تھے، اب یہاں کے شہری بھی حقدار بن گئے ہیں‘‘۔ریڈی نے کہا کہ دونوں یونین ٹریٹریز میں سماجی و اقتصادی ترقی میں تبدیلیاں آگئی ہیں،لوگ کو با اختیار بنایا گیا، غیر منصفانہ قوانین کو ہٹایا گیا اور ان لوگوں کیساتھ انصاف کی فراہمی یقینی بن گئی ہے اور انہیں انکا حق مل گیا ہے جو دہائیوں سے امتیازی سلوک کا سامنا کررہے تھے۔انکا کہنا تھا کہ جامع تعمیر و ترقی سمیت مختلف اور اہم تبدیلیوں نے یوٹیز کو امن اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پنچایتی راج اداروں کے انتخابات، پنچوں، سر پنچوں، بلاک ترقیاتی کونسلوں اور ضلع ترقیاتی کونسلوں کے چنائو سے زمینی سطح کی تین سطح کی جمہوریت جموں کشمیر میں قائم کردی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی اور امن عامہ کیلئے مختلف اقدامات کئے گئے اور کچھ لوگوں کو احتیاطی طور پر حراست میں رکھا گیا۔انکا کہنا تھا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوںاورسرحد پارکی فائرنگ کی صورت میں سلامتی دستوں کے ذریعے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کی جاتی ہے۔ حکومت کے ذریعے پیشگی اقدامات کے سبب گزشتہ تین برسوں کے دوران عسکریت پسندانہ حملوں میں قابل ذکر کمی آئی ہے۔جموں و کشمیر میں گزشتہ3 برسوں کے دوران ہر سال جنگ بندی کی خلاف ورزیوں، عسکریت پسندانہ حملوں کے واقعات میں سیکورٹی اہلکار،عام اورجنگجوبھی مارے گئے ۔ ریڈی نے کہاکہ جموںوکشمیر میں جنگجوئیانہ سرگرمیوں پر قدغن لگانے کیلئے حکومت کے ذریعے کئی اقدامات کئے گئے ہیں،جن کے تحت’ سرگرمی کے ساتھ عسکریت پسندوں اور انھیں تدبیراتی (ٹیکٹیکل) تعاون دینے والوں کی نشان دہی، محاصرہ اور تلاشی جیسی کارروائیوں کے ذریعے تلاش، خصوصی رسپانس اگر وہ گرفتاری کے دوران تشدد کا برتاؤ کریں‘،’ عسکریت پسندی کے اسٹریٹیجک حامیوں کی سرگرمی سے نشان دہی اور جانچ پڑتال کا آغاز، تاکہ رقم کی فراہمی، بھرتی وغیرہ جیسے جنگجوئوں کی حمایت کرنے اور اس کے لئے اکسانے والے میکانزم کو بے نقاب کیا جاسکے‘،’رات میں کی جانے والی پیٹرولنگ بڑھادی گئی ہے اور دراندازی کے سبھی ممکنہ روٹوں پر ناکے قائم کئے گئے ہیں۔ سرحدی علاقوں کی جانب سے آنے والی گاڑیوں کی گہرائی سے جانچ پڑتال کی جارہی ہے‘۔ ریڈی نے مزیدبتایاکہ انسدادملی ٹنسی مہم میں مصروف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان تال میل یاکوآرڈنیشن میٹنگ برابر ہوتی رہتی ہیں اور علاقے میں تعینات سبھی فورسز ہائی الرٹ پر رہتی ہیں۔انہوںنے کہاکہ جموں و کشمیر میں برسرپیکار سبھی سیکورٹی فورسز ایجنسیوں کے درمیان’ریئل ٹائم بیسس‘ پر خفیہ معلومات کا اشتراک ہوتا ہے ۔
سیکورٹی اخراجات میں اضافہ
مانٹیرنگ ڈیسک
نئی دہلی//مرکزی وزارت برائے امور داخلہ نے پارلیمان میں انکشاف کیا کہ جموں و کشمیر کیلئے سیکورٹی سے متعلق سالانہ اخراجات (ایس آر ای) 1267 کروڑ روپے ہیں جو کہ سال2016 کے بعد سے اب تک سب سے زیادہ ہے۔ مرکزی وزیرمملکت برائے امور داخلہ نے کہا کہ2016میں جنگجو تنظیم حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کی وجہ سے وادی کشمیر میں پیدا شدہ صورتحال کے بعد سے یہ اب تک کے سب سے زیادہ اخراجات ہیں۔ وزیر مملکت برائے امور داخلہ جی کے ریڈی نے پارلیمنٹ میں بی جے پی کے رکن پارلیمان جگل کشور شرماکے ذریعہ اٹھائے گئے سوال کے تحریری جواب میں کہاکہ سال2019-20 کے مالی سال کے دوران، ایس آر ای (پولیس) کے تحت 1267 کروڑ روپے جاری کئے گئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ وزارت داخلہ نے اسی مدت یعنی2019-20کیلئے جموں و کشمیر پولیس کو جدید بنانے کیلئے 40.20 کروڑ روپے بھی جاری کئے تھے۔اعداد و شمار کے مطابق مرکزی حکومت نے گزشتہ31برسوں کے دوران جموں و کشمیر کے سیکورٹی سے متعلق اخراجات کیلئے صرف 9000 کروڑ روپے جاری کئے ۔حکومت نے جموں و کشمیر کو بطور سیکورٹی اخراجات کے طور پر جو رقم مالی سال 2019-20فراہم کی تھی،وہ مالی سال2018-19کے اعداد وشمار کے مقابلہ میں دوگنی ہے۔
خانہ نظربند کوئی نہیں،صرف 183زیر حراست
مانٹیرنگ ڈیسک
نئی دہلی//مرکزی سرکار نے کہاہے کہ جموں وکشمیر میں دفعہ 370 ختم کرنے کے بعد اب صرف183افرادزیرحراست ہیں، جو جنگجوئوں کے اعانت کار اورسنگباری کے واقعات میں ملوث رہے ہیں، جبکہ کوئی بھی شخص خانہ نظر بند نہیں ہے۔ مرکزی وزیرمملکت برائے داخلہ امور جی کشن ریڈی نے بدھ کو پارلیمنٹ میں بتایا کہ دفعہ370کی منسوخی اور سابق ریاست جموں کشمیر کو تقسیم کرنے کے بعد جموں کشمیر اور لداخ کو مکمل طور قومی مین اسٹریم کے اندر لایا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ سیکورٹی اور امن عامہ کیلئے کئی اقدام کئے گئے اوراس کیلئے کچھ افراد کی احتیاطی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔انہوں نے گرفتاریوں کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ کل ملاکر5 اگست2019سے613افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں بعد ازاں430کی رہائی عمل میں لائی گئی،تاہم 183افراد ابھی بھی زیرحراست ہیں۔گرفتار شدگان میں علیحدگی پسند، سنگ باز اور جنگجوئوں کے لئے کام کررہے بالائے زمین کارکن شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر انتظامیہ نے بتایا ہے کہ فی الوقت کشمیر میں کوئی بھی شخص خانہ نظر بند نہیں ہے۔