کھیت کھلیانوں،باغات اور سڑکوں پر اولوں کی 3انچ تہہ بچھ گئی،شوپیاں اور پلوامہ اضلاع جزوی متاثر
فیاض بخاری
بارہمولہ//ضلع بارہمولہ کے مختلف علاقوں کے 12زونوں میں منگل کے روز دس منٹ کی قیامت خیز ژالہ باری نے میوہ باغات کو مکمل طور پر تباہ کیا۔شدید ژالہ باری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کھیت کھلیانوں اور سڑکوں پر قریب 3انچ تک اولوں کی تہہ بچھ گئی اور ایسے لگ رہا تھا کہ برفباری ہوئی ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق اس قدرتی آفت سے کروڑوں روپے کے نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔صورتحال کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے ڈائریکٹر ہارٹیکلچر اپنی اعلیٰ سطحی ٹیم کے ہمراہ بدھ کے روز متاثرہ علاقوں میں پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔پٹن،نہال پورہ، گوشہ بگ، کنزر، بارہمولہ، واگورہ، چھورہ، کریری، ٹنگمرگ اور چندوسہ سمیت 12زونوں کے تحت آنے والے 177دیہات میں منگل کی شام قریب 7بجے چند منٹوں کی طوفانی ژالہ باری ہوئی جس نے سیب، ناشپاتی، اخروٹ اور دیگر میوہ باغات کو بری طرح نقصان پہنچایا۔سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سنگرامہ، واگورہ، کریری، پٹن، کنڈی، چندوسہ، پچھڑ، ٹنگمرگ، کھئی پورہ، کنڈی بیلٹ اور رفیع آباد کے بعض علاقے شامل ہیں، جہاں مقامی لوگوں نے سیب کے باغات اور کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاع دی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ زون ٹنگمرگ رہا جہاں 41دیہات ژالہ باری کی زد میں آئے۔
اس کے بعد نہال پورہ میں 35 گائوں میں تباہی ہوئی۔ چندوسہ میں 20، کنزر میں 15، بارہمولہ میں 14، واگورہ میں 14، چھورہ میں 13 اور پٹن میں 9 دیہات کے باغات تباہ ہوئے۔اسکے علاوہ گوشہ بگ میں 7، کریری میں 7 جبکہ بونیار زون میں 2 دیہات بری طرح متاثر ہوئے ۔ٹنگمرگ میں گلاس کی فصل تقریباً ختم ہوگئی ہے اور ہزاروں کنال اراضی پر پھیلے گلاس کے باغات میں تباہی مچ گئی ہے۔سارا میوہ زمین پر گر گیا ہے جو اب ناقابل استعمال بن گیا ہے۔میوہ باغات میں درختوں کے پتے بھی گر گئے ہیں اور درختوں پر اب کہیں شگوفے نہیں،کونپلیں نہیں اور نہ میوہ کہیں نظر آرہا ہے۔ کسانوں اور باغ مالکان کا کہنا ہے کہ ژالہ باری سے نہ صرف میوہ باغات بلکہ سبزیاں اور دیگر فصلیں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تباہ کن ژالہ باری نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ علاقوںمیں نقصان کا تخمینہ لگاکرمتاثرین کو مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے ۔ فروٹ منڈی سوپور کے صدر فیاض احمد ملک نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ شدید ژالہ باری کے نتیجے میں باغ مالکان کو تقریباً 80 فیصد نقصان ہواہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ باغ مالکان کیلئے فوری طور مارکیٹ انٹرونشن سکیم (MIS) نافذ کی جائے تاکہ متاثرہ پھلوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے کسان کریڈٹ کارڈ (KCC) کے تحت لئے گئے قرضوں کی معافی کا بھی مطالبہ کیا۔فیاض احمد ملک نے کہا کہ باغبانی شمالی کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کئے تو ہزاروں خاندان سڑک پر آئیں گے۔ چیف ہارٹیکلچر آفیسر بارہمولہ جاوید احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ضلع بارہمولہ کے تقریباً 177دیہات اس شدید ژالہ باری سے متاثر ہوئے اور ان کو10سے 30فیصد نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں روانہ کی جا چکی ہیں اور نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مکمل رپورٹ مرتب ہونے کے بعد حکومت کو ارسال کی جائے گی تاکہ متاثرین کو ممکنہ امداد فراہم کی جا سکے۔ادھر ڈائریکٹر ہارٹیکلچر کشمیر وکاس آنند نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انہوں نے خود متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے اور ژالہ باری سے ہوئے نقصانات کا تفصیلی اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کی ٹیمیں زمینی سطح پر صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ مکمل رپورٹ مرتب کر کے حکومت کو پیش کی جا سکے اور متاثرہ باغبانوں کو ممکنہ امداد فراہم کی جا سکے۔ادھربارہمولہ ضلع کے رفیع آباد کے چند علاقوںکے علاوہ بانڈی پورہ ضلع کے گریز کے چند علاقوں میں بھی ژالہ باری کی اطلاعات ہیں جبکہ پلوامہ ضلع میں بھی کچھ دیہات میں ژالہ باری سے میوہ باغات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔اس دوران شوپیاں سے نامہ نگار گلزار بٹ کے مطابق ضلع شوپیان کے کئی سیب پیدا کرنے والے دیہات میں بدھ کے روز ژالہ باری ہوئی، جس کے بعد سیب کاشتکاروں نے فصل بیمہ سکیم کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ مسلسل خراب موسمی حالات ان کے باغات کیلئے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ژالہ باری سے ضلع کے کنی پورہ ڈل، کنجی اُلر اور رام نگری علاقوں میں اثرات مرتب ہوئے۔کنجی اُلر کے ایک سیب کاشتکار عابد حسین نے بتایا، ’’ژالہ باری شام تقریباً پانچ بجے شروع ہوئی اور دو سے تین منٹ تک جاری رہی‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ علاقے کے باغات پر اس کے اثرات معمولی رہے۔کنی پورہ ڈل اور رام نگری کے کسانوں نے بھی اپنی فصلوں کو بہت کم یا کوئی نقصان نہ پہنچنے کی اطلاع دی۔تاہم اپریل کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب ضلع کے سیب پیدا کرنے والے علاقوں میں ژالہ باری ہوئی ہے۔18اپریل کو شدید ژالہ باری سے شوپیان اور پڑوسی ضلع کولگام کے باغات کو خاصا نقصان پہنچا تھا، خصوصاً اُس وقت جب زیادہ تر درختوں پر پھول آئے ہوئے تھے۔کسانوں کا کہنا ہے کہ مؤثر فصل بیمہ نظام نہ ہونے کی وجہ سے انہیں مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ایک اور کسان نے کہا، ’’ہمارے پاس کوئی حفاظتی سہارا موجود نہیں۔ اس مرحلے پر ہونے والاکوئی بھی نقصان پورے سال کی آمدنی کو متاثر کرتا ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر متوقع موسمی حالات نے سیب کی کاشت کو کاشتکاروں کیلئے دن بہ دن غیر یقینی اور مالی طور پر خطرناک بنا دیا ہے۔ کسانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ موسم سے ہونے والے بڑھتے ہوئے نقصانات سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے قابلِ اعتماد فصل بیمہ اسکیمیں متعارف کرائی جائیں۔