عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//جموں و کشمیر سٹیٹ براڈبینڈ کمیٹی (ایس بی سی) کا گیارہویں میٹنگ کل چیف سیکرٹری اَتل ڈولو کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں یونین ٹیریٹری میں ہائی سپیڈٹیلی کمیو نی کیشن اور اِنٹرنیٹ خدمات تک عالمی رسائی کو یقینی بنانے کے مقصد سے اہم ڈیجیٹل کنکٹویٹی اقدامات کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔چیف سیکرٹری نے زمین کی الاٹمنٹ اور قانونی منظوریوں کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں کو ہدایت دی کہ زیرِاِلتوا ٹاور سائٹس کی منظوریوں کو تیز رفتاری سے حل کیا جائے۔ اْنہوں نے محکمہ اِنفارمیشن ٹیکنالوجی( آئی ٹی) ہدایت دی کہ وہ دْور دراز اور غیر منسلک بستیوں میں ٹیلی کام ٹاوروں کی تنصیب کے لئے تجویز کردہ ہر شناخت شدہ سائٹ کے لئے ضلع وار سٹیٹس رپورٹس اور ٹائم لائن حاصل کریں۔
اْنہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ فزیبلٹی اسسمنٹ، اَراضی کی شناخت، قانونی کلیئرنس اور عمل آوری یجنسیوں کو زمین کی منتقلی سے متعلق ہفتہ وار پیش رفت رپورٹیں طلب کی جائیں تاکہ منصوبے پر عمل درآمد بلا تاخیر آگے بڑھ سکے۔چیف سیکرٹری نے پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، کے پی ڈِی سی ایل اور جے پی ڈِی سی ایل کو بھی ہدایت دی کہ تمام قابلِ عمل ٹیلی کام ٹاور مقامات پر بروقت بجلی کے کنکشن فراہم کئے جائیں۔کمشنر سیکرٹری آئی ٹی سوربھ بھگت نے میٹنگ کو4جی سیچوریشن پروجیکٹ، ترمیم شدہ بھارت نیٹ پروگرام، 5جی اِنفراسٹرکچر کی تیاری اورکال بیفور یو ڈِی آئی جی ( سی بی یو ڈِی)منصوبے کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔سی جی ایم بی ایس این ایل نے بتایا کہ منصوبہ بند 847 موبائل ٹاور سائٹس میں سے 566 سائٹس فعال ہو چکی ہیں جبکہ گزشتہ میٹنگ میں یہ تعداد 506 تھی۔اْنہوں نے مزید کہا کہ باقی مقامات پر بھی کام جاری ہے۔ 128 مقامات پر ٹاور کی بنیادیں مکمل ہو چکی ہیں، 97 مقامات پر ٹاور نصب کئے جا چکے ہیں اور 82 مقامات پر متعلقہ انفراسٹرکچر کا کام مکمل ہو چکا ہے۔اْنہوں نے بتایا کہ 775 سائٹس کے لئے ورک آرڈرز جاری کئے جا چکے ہیں اور بی ایس این ایل کو موجودہ ورک آرڈرز کے تحت 31 دسمبر 2026 تک بقیہ سائٹس کی تکمیل کو یقینی بنانے کا کام سونپا گیا ہے۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ سرحدی دیہاتوں میں مواصلاتی سہولیات کو بہتر بنانے میں اس منصوبے کے تبدیلی کے اثرات کو اْجاگر کیا گیا۔ 1,419 سرحدی دیہات میں سے 1,402 دیہات موبائل نیٹ ورک سے منسلک ہو چکے ہیں جبکہ صرف 17 دیہات باقی ہیں۔ ان میں سے 10 دیہات پہلے ہی4جی سیچوریشن سکیم میں شامل کئے جا چکے ہیں۔میٹنگ میں مزید بتایا گیا کہ 647 ٹاور سائٹس کو بجلی کی فراہمی مکمل ہو چکی ہے جبکہ 581 مقامات پر بجلی کے میٹر بھی نصب کئے جا چکے ہیں۔ترمیم شدہ بھارت نیٹ پروگرام (اے بی پی) کے تحت چیف سیکرٹری کو بتایا گیا کہ یہ منصوبہ جموں و کشمیر کے 285 بلاکوں اور 4,299 گرام پنچایتوں کا احاطہ کرتا ہے۔اَب تک 2,401 گرام پنچایتوں کا فزیکل سروے مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ 282 گرام پنچایتیں سٹیٹ نیٹ ورک آپریشنز سینٹر (ایس۔این او سی ) سے منسلک کی جا چکی ہیں۔میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ اِس منصوبے کے تحت اَب تک تقریباً 744 کلومیٹر آپٹیکل فائبر کیبل (او ایف سی) بچھائی جا چکی ہے۔منصوبہ مکمل ہونے کے بعد دیہی علاقوں میں قابلِ اعتماد براڈبینڈ، ڈیجیٹل گورننس، آن لائن تعلیم، صحت سہولیات، کاروباری سرگرمیوں اور ڈیجیٹل معیشت میں شرکت کو فروغ ملے گا۔