ٹھیکیدار کے خلاف سخت احتجاج ،دس لاکھ کا کام ساڑھے چار لاکھ کی کم قیمت پر لینے کے بعد ٹھیکیدار پر راہ فرار کا الزام
محمد تسکین
بانہال// قریب تیرہ برس تک مسلسل تعطل کا شکار رہنے والی کھارپورہ ۔ شابن باس رابطہ سڑک پر گزشتہ چند روز سے دوبارہ تعمیراتی کام شروع کیا گیا ہے تاہم اب ٹھیکیدار کی طرف سے جاری کام سے مشینوں کو ہٹانے کی کوشش کے بعد کھارپورہ اور گوجر بستی شابن باس کے لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور اس سلسلے میں ایگزیکٹو انجینئر پی ڈبلیو ڈی ڈویژن بانہال سے ملاقات بھی کی ۔ اس عوامی وفد کی قیادت نیشنل کانفرنس لیڈر الیاس بانہالی کر رہے تھے۔ مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سڑک کا ادھورا منصوبہ بارہ سال تک تعطیل کا شکار رہنے کے بعد گزشتہ دنوں سڑک کی بحالی پر دس لاکھ کا ایک ٹینڈر کیا گیا جسے ایک ٹھیکیدار نے بہت کم ریٹ دیکر بحالی کے اس کام کو محض ساڑھے چار لاکھ روپئے میں لے لیا ۔ لوگوں کا کہناہے کہ ٹھیکیدار اب گھاٹے کا بہانہ بنا کر اس کام کو ادھورا چھوڑ کر یہاں سے فرار ہونا چاہتا ہے اور گزشتہ روز ٹھیکیدار نے یہاں جاری کام سے مشینری کو ہٹانے کی کوشش کی جو لوگوں نے ناکام بنا دی ۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو خدشہ ہے کہ کم رقم کے باعث ٹھیکیدار ایک بار پھر کام ادھورا چھوڑ سکتا ہے اور اسی لئے لوگوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا اور ایگزیکٹیوانجینئر پی ڈبلیو ڈی ڈویژن بانہال نواز احمد بانڈے سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر وفد کی قیادت کر رہے الیاس بانہالی نے محکمہ کے افسروں پر زور دیا کہ وہ اس سڑک کو منزل تک پہنچانے کیلئے ٹھیکدار کو پابند بنائیں اور ایسے کام چھوڑنے اور محکمہ پی ڈبلیو ڈی کی طرف سے بانہال کے مختلف سڑک رابطوں کو ادھورا چھوڑنے کی وجہ سے ان کی جماعت عوام کے سامنے جوابدہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈبلیو ڈی ڈویژن بانہال مختص فنڈز میں سے بھاری رقومات کو استعمال کرنے میں اب تک ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس حکومت عوام کو ہر ممکن سہولیات بہم پہنچانے کیلئے وعدہ بند ہے اور بانہال ۔ گول اسمبلی حلقے میں میں تعمیر و ترقی اور مختلف شعبوں میں عوامی فلاح و بہبود کے کام انجام دیئے جا رہے ہیں اور تعمیراتی منصوبوں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ایگزیکٹیو انجینئر پی ڈبلیو ڈی ڈویژن بانہال نواز احمد بانڈے نے وفد کو یقین دلایا کہ سڑک منصوبے کا کام ٹینڈروں میں وضع قواعد و ضوابط کے مطابق انجام دیا جائے گا اور وہ اس سڑک کا جائزہ بھی لیںنگے ۔کھارپورہ اور شابن باس کے مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس بار سڑک کو شابن باس تک مکمل طور پر قابل آمدورفت بنایا جائے اور کسی بھی صورت میں کام کو درمیان میں نہ چھوڑا جائے اور ایسی کسی بھی کوشش کی سخت مخالفت کی جائے گی اور شابن باس کے مرد اور خواتین جموں سرینگر قومی شاہراہ پر دھرنا دینے پر مجبور ہونگے ۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر رام بن محمد الیاس خان اور حکومت سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ ذاتی مداخلت کرتے ہوئے سڑک منصوبے کی نگرانی کرکے ٹھیکیدار کو پابند بنائیں اور اس اہم عوامی کام پایہ تکمیل تک پہنچائیں تاکہ ایک دہائی سے زائد عرصے پر محیط سڑک کے انتظار کا خاتمہ ہو سکے۔