واشنگٹن//خوراک کے عالمی پروگرام، فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن اور 14 دوسرے اداروں کی ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کے اقتصادی اثرات کے سبب دنیا بھر میں پچیس کروڑ سے زیادہ لوگوں کو بھوک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔عالمی اداروں کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وبا سے پہلے کوئی ساڑھے تیرہ کروڑ لوگوں کو دنیا بھر میں خوراک کی شدید قلت اور سخت نوعیت کی بھوک کا سامنا ہے۔لیکن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر اس سلسلے میں فوری اور مناسب اقدامات نہ کئے گئے تو سال کے اختتام تک یہ تعداد دوگنی سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔اقوام متحدہ اور امدادی اداروں کا تخمینہ ہے کہ انہیں خوراک کے متوقع بحران سے نمٹنے کے لئے اس سال دس سے بارہ ارب ڈالر کی ضرورت ہو گی۔ لیکن ان اداروں کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ آئندہ تین مہینے کے لیے درکار خوراک مہیا رہے، ایک اعشاریہ نو ارب ڈالر کی فوری ضرورت ہے۔رپورٹ کے مطابق، اس کے اسباب دنیا کے مختلف حصوں میں ہونے والے تصادم، ماحولیات کی تبدیلی اور اقتصادی بحران ہیں اور اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا بر اعظم افریقہ ہے جس کے بعد ایشیا اور پھر لاطینی امریکہ ہیں۔رپورٹ میں مزید کیا گیا ہے کہ ان متاثرہ لوگوں میں سے کوئی 77 فیصد لوگ وہ ہیں جو ان علاقوں میں رہتے ہیں جہاں مختلف نوعیت کے تصادم جاری ہیں۔ ممتاز ماہر معاشیات اور شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر ظفر بخاری نے کہا ہے کہ ان میں سے پانچ ممالک وہ ہیں جو ہمیشہ ہی سے بھوک کے مسئلے سے دو چار ہیں۔