حال ہی میں سرینگر کے تجارتی مرکز لالچوک میں واقع گھنٹہ گھر کو تین رنگوں کی برقی روشنی سے منور کیا گیا۔جانکار حلقوں کے مطابق سال1980کے آس پاس نجی کمپنی بجاج الیکٹریکلز سے وابستہ عہدیدار سرینگر کے دورے پر تھے تاکہ یہاں کوئی صنعتی یونٹ قائم کیا جاسکے۔ ایسا تونہیں ہوا، لیکن مذکورہ نجی کمپنی کے عہدیداروں نے لالچوک کے وسط میں گھنٹہ گھر کی تنصیب عمل میں لاتے ہوئے اس پر تشہیر کیلئے اپنا لوگو چڑھایا۔ سرینگر سے روانہ ہونے سے قبل کمپنی کے عہدیداروں نے گھنٹہ گھر پر روشنیوں کے کئی بلب بھی لگائے اور یوں یہاں کے تاریخی لالچوک میں تاریخی گھنٹہ گھر کی بنیاد پڑ گئی۔ اسی گھنٹہ گھر کو ، جو کشمیر کی حالیہ تاریخ کے نشیب و فراز کا خاموش گواہ ہے اور جس میں نصب چار بڑی گھڑیاں گذشتہ تین دہائیوں سے شاذو نادرہی صحیح وقت فراہم کرسکی ہیں، کو حکام نے بھارتی قومی پرچم کے تین رنگوں کی روشنیوں سے منور کرکے اس کو راہگیروں کی توجہ کا مرکز بنادیا۔ کئی لوگوں کا مانناہے کہ گھنٹہ گھر سے بجاج الیکٹرکلز کے تشہیری لوگو کو ہٹایا نہ گیا ہوتا تو چالیس سالہ گھنٹہ گھر نے بھی ’ترقی‘ کی کئی منازل طے کی ہوتیں۔
سرینگر کے روایتی تجارتی مرکز کو’ لالچوک ‘کا نام ملنا یہاں کے اپنے زمانے کے با اثر سیاسی شخصیات کے روسی انقلاب سے متاثر ہونے کی دلیل ہے ۔شہر کا قلب کہلانے والا لا لچوک چالیس کی دہائی سے یہاں کی سیاست کا مرکز رہا ہے اور اسی کے اندر کشمیریوں کے ساتھ وعدے بھی کئے گئے اور اُن وعدوں کی من پسند تشریح اور تاویل بھی کی گئی۔سیاست دانوں نے کشمیر کے’ تشخص ‘کے جھنڈے اسی لالچوک میں بلند کئے اور یہاں ہی1948میں پہلی بار ترنگا بھی لہرایا ۔عوامی سیلاب کی موجودگی میں یہی لالچوک فارسی شعر’ من تو شدم، تو من شدی‘ سے جڑ گیا اور 1993میں آگ کی پُر اسرار واردات نے اسی کو خاکستر میں بدل دیا۔
اسی لالچوک کے وسط میں دہائیوں سے مستعدی سے کھڑا گھنٹہ گھر ہے ، جسے صرف شہرسرینگر نہیں بلکہ وادی کشمیر کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ سال 1992میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے سینئر لیڈر مرلی منوہر جوشی کی قیادت میں گھنٹہ گھر پر ترنگا لہرانے کیلئے زور دار مہم چلائی گئی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اُس وقت جوشی کے ہمراہ جس ٹیم کو سرینگر آکر گھنٹہ گھر پر ترنگا لہرانے کی اجازت دی گئی اس میں موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی شامل تھے۔ اُن دنوں وادی کشمیر کے اندر عسکریت اپنی جڑیں پکڑ رہی تھی اور بھاجپا کا لالچوک سرینگرتک کا’ترنگا مارچ‘ عسکریت پسندی کے پیچھے کارفرما سیاست کیخلاف ایک عملی پیغام تھا۔ لیکن مبصرین کا ماننا ہے کہ بھاجپا کا وہ اقدام وادی کے اندر سرگرم کئی عسکری گروہوں کو منظم کرنے کی وجہ بن گیا اور انہوں نے متحدہ جہاد کونسل کی داغ بیل ڈالی۔بھاجپا کے اس اقدام نے گھنٹہ گھر کو ’جھنڈا سیاست‘ کا مرکز بھی بنایا اور تب سے اس پر اپنی پسند اور فکر کا پرچم لہرانا ہر کسی گروہ اور پارٹی کیلئے عزت کا سوال بن گیا۔ جوشی کی قائم کردہ روایت کو آگے لیجاتے ہوئے فورسز ہر سال گھنٹہ پر دو بار، یوم جمہوریہ اور یوم آزادی کے مواقع پر ترنگا لہراتی رہیں جس کا سلسلہ2009تک جاری رہا۔ اس سے قبل یعنی سال2008کی زور دارایجی ٹیشن کے دوران مظاہرین کے ہاتھوں اس پر کئی بار ہلالی پرچم لہرائے گئے۔
بھاجپا کی طرف سے گھنٹہ گھر ایک بار پھر جھنڈا سیاست کا مرکز اُس وقت بنا جب2011میں پارٹی کی یوتھ ونگ ’جنتا یوا مورچہ‘ نے مغربی بنگال سے ’ایکتا یاترا‘ نکالنے اور یوم جمہوریہ کے موقع پر گھنٹہ گھر پر ترنگا لہرانے کا اعلان کیا ۔ بھاجپا یوتھ ونگ کے کسی عہدیدار کو سرینگر نہیں پہنچنے دیا گیا تاہم اُن کے کچھ کارندے لالچوک پہنچ کر ترنگا فضا میں لہرانے کے دوران گرفتار ہوگئے۔ بھاجپا یوتھ ونگ کی’ یاترا‘ کی وجہ سے کئی دنوں تک لکھن پور سے سرینگر تک کشیدگی کا ماحول بنا رہا اور گھنٹہ گھر کے آس پاس کا علاقہ فوجی چھاونی کے مناظر پیش کرتا رہا۔
جانکار حلقوں کے مطابق ماضی قریب تک وادی کے کسی بھی کونے سے سرینگر کا سفر کرنے والے کا سفر گھنٹہ گھر جائے بغیر نامکمل سمجھا جاتا تھا جس سے لالچوک علاقے میں ہمیشہ لوگوں کی ریل پیل رہتی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب شہر سرینگر بھی اتنا وسیع نہیں تھا اور لالچوک کو بھی کاروباری مرکز کے طور جانا جاتا تھا۔ تب وہاں سے زیادہ تر تانگے اور مخصوص رنگ کی ٹیکسیاں ہی چلتی نظر آتی تھیں لیکن بار بار کی مختلف النواع سرگرمیوں کے اور مخصوص حالات کے باعث گھنٹہ گھر اب سیکورٹی اعتبار سے انتہائی حساس علاقہ مانا جاتا ہے جس پر قریبی نگاہ رکھنے کیلئے یہاں ہر آن بکتر بند گاڑیاں موجود رہتی ہیں اور درجنوں اہلکار بندوقیں تانے نظر آتے ہیں ، یہاں تک کہ درجنوں کی تعداد میں ہی ماہرین چوبیسوں گھنٹے اس کے اور آس پاس علاقے کی خفیہ نگرانی جدید آلہ جات سے کرتے رہتے ہیں۔ حفاظتی وجوہات کی بنا پر اب گھنٹہ گھر کے نزدیک زیادہ لوگ دکھائی نہیں دیتے ہیں اور جو بھی لالچوک کا رخ کرتا ہے وہ اس پختہ ٹاور نما شے سے دو ر ہی رہتا ہے۔اس کے باوصف گھنٹہ گھر کے قریب پھٹکنا اب وردی پوشوں کے عتاب کو دعوت دینا ہے ۔ گھنٹہ گھر ، احتجاج مظاہروں اور عام کشمیریوں کا جذباتی رشتہ اس امر سے واضح ہوجاتا ہے کہ جنوری2020میں ایک نوجوان خاتون نے آکر یہاں قبلہ رو ہوکر دو رکعت نماز ادا کی جس کے بعد اُسے حراست میں لیا گیا۔البتہ حالیہ برسوں کے دوران ایک خاص تبدیلی یہ واقع ہوئی ہے کہ گھنٹہ گھر کے بغل میں تعمیر کی گئی کنکریٹ پارک کے اندر کبھی کبھار کچھ لوگ سینکڑوں کی تعداد میں موجود امن کی فاختائوں کو دانے کھلاتے نظر آتے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ بجاج الیکٹرکلز کے ہاتھوں تعمیر ہونے سے قبل گھنٹہ گھر کے مقام پر ایک بڑا سا پتھر یا ایک ڈائس تھا جس پر ایک یا دو ڈنڈا بردار پولیس اہلکار موجود رہتے ہوئے باری باری تانگوں ، ٹیکسیوں اور مسافر گاڑیوں کو سائڈ دکھانے کا کام کرتے تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ ڈوگرہ شخصی راج کے ایام میں بھی اس مقام کی اہمیت ایک پولیس بیٹ اور چند مچھلی فروشوں کی پسندیدہ جگہ سے زیادہ نہیں تھی۔زمانے کے اُتار چڑھائو نے تاہم گھنٹہ گھر کی اہمیت اس قدر بڑھائی ہے کہ اب کشمیری عوام اس کے ساتھ جذباتی لگائو رکھتے ہیں۔ اس کے ارد گرد کاروباری سرگرمیاں انجام دینے والوں کا ماننا ہے کہ اگر باالفرض محال حکومت گھنٹہ گھر کو ڈھا کر اس کی جگہ کو ئی جدید مال تعمیر کرنا چاہے تو اس کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنے پڑے گا ،حالانکہ اینٹ گھارے سے بنے گھنٹہ گھر کے ساتھ جھنڈوں اور احتجاجوں کے علاوہ کوئی خاص تاریخی بات جُڑی نہیں ہے۔
اب ہر شام کشمیر کی پہچان بنا گھنٹہ گھر رنگ برنگی روشنیوں میں نہلاتا ہے لیکن سیکورٹی وجوہات کی بنا پر اس کے وجود کا حصہ بنی تاریکی اس کا ساتھ چھوڑنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔لوگ دور سے ہی اس کو ایک نظر دیکھ کر ’نئے کشمیر‘ کے بارے میں اندازے لگاتے ہیں کیونکہ اس کے ارد گرد بنے گول ڈائس پر پائوں رکھنا شجر ممنوعہ ہے اور ایسا کرنے والے کو احتجاجی سمجھ کر کسی بھی سخت قانون کے تحت گرفتار کیا جاسکتا ہے یا کم سے کم پوچھ تاچھ کیلئے حراست میں لیا جاسکتا ہے۔