مرد گھر کا ذمہ دار اور خاندان کو چلانے والا ہے اور اس میں شرف و مرتبہ سے زیادہ ذمہ داری کا پہلو ہے،یہی شریعت ِ الٰہی ہے۔اس کا مقصد یہ ہے کہ گھر ایک مستحکم نظام کے مطابق چلے،متضادخواہشات اور رجحانات کے ٹکرائو کا شکار نہ ہوجائے۔بغیر ایک ذمہ دار سربراہ کسی کمپنی کا تصور بھی فضول ہوگا ۔عورت پر گھر کی ذمہ داری ڈالنا ایک کمزور کندھے پر بھاری بوجھ ڈالنا ہوگا ۔گھر کو چلانے اور خاندان کی سربراہی کے زیادہ لائق مرد ہوتا ہے کیونکہ پروردگار نے اُسے کمانے ،خرچ کرنے اور صبروبرداشت سے حالات کا مقابلہ کرنے کی زیادہ صلاحیت دی ہے۔کسی گھرانے میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ عورت مرد سے زیادہ با صلاحیت ہوتی ہے ،ایسی صورت میں سربراہی مرد سے چھِن جاتی ہے یا وہ خود اس سے دستبردار ہوجاتا ہے،اور گھر کی باگ ڈور عورت کے ہاتھوں میں چلی جاتی ہے لیکن ایسا شاذونادر ہی ہوتا ہے ،اِسے عام قاعدہ قرار نہیں دیا جاسکتا ۔فطری بات یہی ہے کہ زندگی اسی فطری رفتار سے چلتی ہے۔
’’عورتوں کا بھی حق ہے جیسا کہ مردوں کا اُن پر حق ہے ،دستور کے موافق اور مردوں کو فضیلت ہے عورتوں پر‘‘۔(ابقرہ۔۲۲۸)
اس رہنما اصول کے ساتھ اسلام نے اسی بہت سی تعلیمات دی ہیں جن میں مرد پر عورت کے حقوق اور عورت پر مرد کے حقوق واضح کئے گئے ہیں اور جن سے خاندان میں نیکی و تقویٰ اور محبت و تعاون کا ماحول پیدا ہوتا ہے اور ازدواجی زندگی کا استحکام ،اولاد کی اچھی پرورش اور نفسیاتی سکون و خوش بختی کی ضمانت ملتی ہے۔فرمانِ نبوی ؐ ہے کہ مردوں کو سکھایا جائے کہ عورتوں کے کیا کیا حقوق ہیں اور اُن سے وفا داری اور عزت کا سلوک کس طرح کیا جانا چاہئے ،اسی طرح عورتوں کو سکھایا جائے کہ مردوں کے کون کون سے حقوق ہیں اور کس طرح ا ن کا عزت و احترام کیا جائے۔حضرت میمون کردی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا ہے:’’جس مرد نے بھی کسی عورت سے کم یا زیادہ جتنی بھی مہر پر شادی کی اور اُس کے دل میں یہ تھا کہ وہ اس کا حق ادا نہیں کرے گا تو اسے دھوکہ دیا اور اپنے مرنے تک بھی ادا نہ کیا تو قیامت کے دن وہ رب العالمین کے سامنے بحیثیت زنا کار پیش ہوگا اور جس شخص نے بھی قرض لیا اور اُسے ادا کرنے کی نیت نہیں تھی تو اس نے اسے دھوکہ دیا اور موت تک ادا نہیں کیا تو وہ اللہ کے سامنے بحیثیت چور پیش ہوگا ‘‘۔(طبرانی)
حضرت ابنِ عمر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا :’’تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور جس کا ذمہ دار ہے اس کے سلسلے میں جوب دہ ہے۔حکمران ذمہ دار ہے اور اپنی رعایا کے بارے میں جواب دہ ہے ،مرد اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے اور اُن کے بارے میں جواب دہ ہے ۔عورت اپنے شوہر کے گھر کی ذمہ دار ہے اور اس کے بارے میں جواب دہ ،خادم اپنے آقا کے مال کا ذمہ دار ہے اور اس کے بارے میں جواب دہ ہے‘‘۔(بخاری)
حضرت عائشہ ؓ روایت کرتی ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلم نے فرمایا:’’مومنین میں سب سے کامل ایمان اُس کا ہے جوسب سے بہتر اخلاق والا ہے اور گھر والوں کے سلسلے میں سب سے زیادہ نرم ہو‘‘۔(ترمذی)
حضرت معاویہ ؓ نے حمیرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ میں نے عرض کیا ،یا رسول اللہ ؐ!ہم میں سے کسی کی بیوی کا اُس پر کیا حق ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کھانے کی ضرورت ہوتو اُسے کھانا کھلائو اور لباس کی ضرورت ہوتو اُسے لباس مہیا کرو،چہرے پر نہ مارو اور نہ چہرہ بگاڑو اور اُس سے صرف گھر کے اندر کنارہ کشی کرو۔(ابو داؤد)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا:’’عورت اگر پانچوں نمازیں پڑھے ،اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے تو جنت کے جس دروازے سے چاہے اس میں داخل ہوجائے۔‘‘(ابنِ حبان)
کیا گھر میں ہمیشہ خوشی کا ماحول رہتا ہے؟ یہ انسانی فطرت کے خلاف ہے ۔کبھی کبھی ماحول کشیدہ بھی ہوجاتا ہے ،مکمل سکون و راحت ایک خواب سے زیادہ نہیں ۔انسان تنہا ہے یا کسی دوسرے کے ساتھ ہمیشہ خوشی کے موڈ میں نہیں رہ پاتا ،سمجھداری کی بات یہی ہے کہ دِل کو بعض تلخیوں اور ناگوار چیزوں کو برداشت کرنے پر آمادہ کیا جائے اور بُرے نتائج تک نہ پہنچنے دیا جائے۔ہماری اس بستی کے اکثر گھرانے عورت اور مرد کی آپسی چپقلش اور دن رات کی تُو تُو میں میں سے جہنم زار بنے ہوئے ہیں اور عبرت اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ اُن میں سے اکثر اچھے خاصے تعلیم یافتہ ہوتے ہیں نہ کہ جاہل اور گنوار۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مرد و عورت کی اس ناروا رَسہ کشی کا شکار سب سے پہلے اُن کی اپنی اولاد بن جاتی ہے اور پھر یہی اولاد بگڑ کر پورے معاشرے کے لئے ایک ناسور بن جاتی ہے۔شوہر یا بیوی کی بے قدری کی جائے ،یہ نفسیاتی طور پر ایک ذلت آمیز بات ہے ،ہم لوگ یعنی دونوں عورت اور مرد اکثر احسان بھول جاتے ہیں گویا کسی نعمت کی قدردانی اور نعمت والے کا احترام کوئی بڑا بوجھ ہے ۔ہمارے گھر تبھی خوشحال رہ سکتے ہیں جب گھر کے دونوں ذمے دار یعنی شوہر اور بیوی ایک دوسرے کی قدر کریں اور یہ بات پوری طرح اپنے ذہنوں میں اُتارلیں کہ بے قدری سے دل بُجھ جاتا ہے۔عام مشاہدہ ہے کہ ایک معمولی بات بہت بڑے جھگڑے کی بنیاد بن جاتی ہے اور بالآخر نوبت طلاق تک بھی پہنچ جاتی ہے،جو عورت اپنے شوہر کی بے قدری اور احسان ناشناسی پر اپنے طرز عمل کی بنیاد رکھے وہ بے شک اپنے لئے تباہی کا راستہ اختیار کرتی ہے۔ایک حدیث نبویؐ ہے کہ مجھے جہنم دکھائی گئی تو اس میں کثرت انکاری عورتوں کی تھی ،عرض کیا گیا کہ کیا وہ اللہ کا انکار کرتی تھیں ،فرمایا : نہیں ۔احسان او رصاحب ِ خاندان یعنی شوہر کی منکر تھیں ،اگر تم ان میں سے کسی کے ساتھ ایک زمانے تک حُسن ِسلوک کرو پھر وہ کبھی کوئی ناخوشگوار چیز دیکھ لے تو کہہ دے گی ،’’میں نے تم سے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی‘‘۔یہی عورت کی فطرت ہے لیکن چونکہ اسلام کی نگاہ میں مرد گھر کا ذمہ دار ہوتا ہے اس لئے اُسے صبر و برداشت سے کام لینے کی ہدایت کی گئی ہے ،اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’’عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو،پسلی سے پیدا کی گئی ہیں ،انہیں سیدھا کرنے کے چکر میں کہیں توڑ ہی نہ بیٹھو،اس لئے وہ جیسی ہیں اُسی طرح اُن سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو۔‘‘
ہمارے ہاتھوں سے گویا صبر و برداشت کا دامن ہی چھوٹ چکا ہے ۔رائی کا پہاڑ بناکر اس بستی کے اکثر میاں بیوی مہینوں تو کیا برسوں ایک ہی چھت کے نیچے رہ کر بھی ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے ۔ذرا سوچئے ! ایسے پُر تنائو ماحول میں اولاد پر کیا اثر پڑے گا ،وہ ایسے ماں باپ سے کسی محبت و شفقت کی کیا امید رکھیں گے ؟ایسی ہی اولاد اپنے والدین کی عزت و ناموس پر ایک دھبہ بن جاتی ہے اور شوہر بیوی کی یہ نادانی ،جہالت اور ایک دوسرے کو نہ سمجھنے کی غلطی آخر کتنے ہی باعزت ،اچھے خاصے اور کھاتے پیتے گھرانوں کی تباہی اور بربادی کا باعث بن جاتی ہے۔
رابطہ۔ احمد نگر سرینگر
موبائیل۔9697334305