زاہدبشیر
گول //گزشتہ ہفتہ سے گول میں بجلی کی طویل کٹوتی نے عوامی زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ آئے روز بجلی کی بندش سے نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ پیشہ وارانہ طبقہ، تاجر، دکاندار، طلبہ بھی سخت مشکلات کا شکار ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ شدید سردی کے موسم میں بجلی کی بار بار بندش ناقابلِ برداشت بن چکی ہے۔مقامی دکانداروں اور کاریگروں نے شکایت کی ہے کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں، جس سے ان کے روزگار پر براہِ راست منفی اثر پڑ رہا ہے۔ وہیں طلبہ کا کہنا ہے کہ بجلی کی کٹوتی ان کی پڑھائی میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے، جبکہ گھریلو خواتین کو بھی روزمرہ امور انجام دینے میں مشکلات کا سامنا ہے۔عوام نے سوال اٹھایا ہے کہ جب علاقے میں سمارٹ میٹر نصب ہیں تو پھر اتنی زیادہ اور طویل بجلی کٹوتی کیوں کی جا رہی ہے؟ لوگوں کا کہنا ہے کہ سمارٹ میٹروں کا مقصد بجلی کی بہتر فراہمی اور نظام میں شفافیت لانا تھا، مگر عملی طور پر حالات اس کے برعکس نظر آ رہے ہیں۔پیشہ وارانہ طبقے سے وابستہ افراد نے محکمہ بجلی پر عدم توجہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ نئی بجلی کٹوتی شیڈول نے لوگوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام اور محکمہ بجلی سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کی کٹوتی کا فوری نوٹس لیا جائے، بلا ضرورت بندش کا سلسلہ ختم کیا جائے اور اگر کوئی تکنیکی مسئلہ درپیش ہے تو اس کی بروقت وضاحت کے ساتھ مستقل حل نکالا جائے ۔