بجلی استعمال بھی نہ ہوئی ،بھاری بل ارسال،گولہ باری کے دوران کے بل معاف کرنے کا مطالبہ
رمیش کیسر
نوشہرہ//بارڈر مائیگرنٹ ایسوسی ایشن نوشہرہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی گولہ باری کے دوران ہجرت کرنے والے سرحدی علاقوں کے لوگوں کے بجلی کے بل مکمل طور پر معاف کئے جائیں۔ اس سلسلے میں بارڈر مائیگرنٹ ایسوسی ایشن کے صدر پرشوتم لال کی صدارت میں سرحدی عوام کا ایک اہم اجلاس اتوار کے روز گاؤں جنگڑ میں منعقد ہوا، جس میں بڑی تعداد میں متاثرہ افراد نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پرشوتم لال نے کہا کہ کارگل جنگ کے بعد نوشہرہ سیکٹر کے سرحدی علاقوں جن میں جنگڑ، مکڑی، شیر بوانی، کلال، ڈینگ، پکھرنی، لام اور دیگر دیہات شامل ہیں، کے مکینوں کو پاکستانی گولہ باری کے باعث بار بار اپنے گھروں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ مختلف ادوار میں جاری رہا اور 2025 میں آپریشن سندور کے دوران بھی سرحدی عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔صدر ایسوسی ایشن کے مطابق سرحدی علاقوں کے رہنے والے لوگ تقریباً 10 سے 12 مرتبہ اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جس کے دوران ان کے مکانات طویل عرصے تک خالی رہے۔ اس کے باوجود بجلی کے بل مسلسل ان کے گھروں پر آتے رہے، جس کے باعث آج یہ بل اتنے زیادہ ہو چکے ہیں کہ غریب سرحدی عوام کے لیے ان کی ادائیگی ممکن نہیں رہی۔پرشوتم لال نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس پورے عرصے کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتیں آتی رہیں، لیکن بارڈر مائیگرنٹس کے مسائل پر کسی نے سنجیدہ توجہ نہیں دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ گولہ باری کے دوران کئی بے گناہ لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، متعدد افراد شدید زخمی ہوئے جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں مال مویشی بھی ہلاک ہوئے، جس سے سرحدی عوام کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔اجلاس میں شریک عوام نے ایک آواز میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ گولہ باری اور ہجرت کے دوران جو بجلی کے بل ان کے گھروں میں آتے رہے، انہیں فوری طور پر معاف کیا جائے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ یہ رعایت ان کے ساتھ انصاف اور ان کی قربانیوں کا اعتراف ہوگی۔ ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو وہ اپنی جدوجہد کو مزید تیز کرنے پر مجبور ہوں گے۔