عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//گورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری کے نان گزیٹڈ ملازمین نے پیر کے روز سروس ریکروٹمنٹ رولز کی تشکیل اور حتمی منظوری میں طویل تاخیر کے خلاف دو روزہ پُرامن احتجاج شروع کیا۔ یہ قواعد 2019 سے زیر التوا ہیں۔احتجاج میں نرسنگ، پیرا میڈیکل، منسٹریل اور ملٹی ٹاسکنگ اسٹاف (ایم ٹی ایس) زمرے سے تعلق رکھنے والے ملازمین نے شرکت کی۔ مظاہرین نے سات سالہ تاخیر کو ان کی پیشہ ورانہ ترقی اور ملازمت کے تحفظ کے لیے ایک سنگین دھچکہ قرار دیا۔
احتجاج کی قیادت جی ایم سی راجوری کے نان گزیٹڈ ملازمین کی نمائندگی کرتے ہوئے سندیپ نارنیا، سومیش سودن، وشو شرما اور ابھیشیک شرما نے کی۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے احتجاجی ملازمین نے کہا کہ سروس ریکروٹمنٹ رولز کو حتمی شکل نہ دیے جانے سے جموں و کشمیر کے نئے قائم شدہ میڈیکل کالجوں میں کام کر رہے ہزاروں ملازمین کی ترقیوں، تنخواہی ڈھانچے، کیریئر میں پیش رفت اور دیگر سروس فوائد پر منفی اثر پڑا ہے۔ملازمین نے وزیر صحت اور محکمہ صحت و طبی تعلیم سے اپیل کی کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے اس طویل عرصے سے زیر التوا مسئلے کو بلا تاخیر حل کریں۔احتجاج کے باوجود ایمرجنسی خدمات، آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹس (او پی ڈیز) اور معمول کی اختیاری آپریشن تھیٹر خدمات مکمل طور پر فعال رہیں، جس سے مریضوں کی دیکھ بھال اور عوامی فلاح کے تئیں ملازمین کے عزم کا اظہار ہوا۔احتجاج پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوا، تاہم ملازمین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو احتجاج دوسرے دن بھی جاری رہے گا۔