پرویز احمد
سرینگر //گردے کی پتھری وادی کشمیر میں ایک بڑی، بڑھتی ہوئی صحت کی تشویش ہے، جو آبادی کے ایک اہم حصے کو متاثر کررہی ہے جس کی شرح بہت زیادہ ہے اور خاص طور پر نوجوان نسل میں اس کا پھیلابڑھ رہا ہے۔ یورولیتھیاسس کو خطے میں ایک عام، تیزی سے بڑھتا ہوا یورولوجیکل مسئلہ سمجھا جاتا ہے، مطالعہ کشمیر ڈویژن میں گردوں کی پتھری کے زیادہ واقعات کی نشاندہی کرتا ہے۔اسکازیادہ پھیلا ئوکئی عوامل سے منسوب ہے۔مطالعہ نے پانی کی سختی اور یورولیتھیاسس کے بڑھتے ہوئے واقعات کے درمیان تعلق کا اشارہ دیا ہے، خاص طور پر سرینگر اور اننت ناگ جیسے اضلاع میں۔
جانوروں کے پروٹین کا زیادہ استعمال، جو پیشاب میں کیلشیم اور یورک ایسڈ کو بڑھاتا ہے جبکہ سائٹریٹ کو کم کرتا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔ کشمیر ہندوستان کے دوسرے حصوں کی طرح گرم نہیں ہے، لیکن “لمبی گرمی” میں پسینے میں اضافہ، پانی کی مقدار میں کمی، اور مرتکز پیشاب کا باعث بنتا ہے، جو پتھری کی تشکیل کو فروغ دیتا ہے۔کشمیر کے مریضوں پر 24گھنٹے پیشاب کے مطالعے میں کم سائٹریٹ (ہائپوکیٹریٹوریا) کے ساتھ ساتھ کیلشیم، میگنیشیم، آکسالیٹ، اور یورک ایسڈ کی اعلیٰ سطح بھی ظاہر ہوئی ہے۔آبادی میں اکثر 30-60 سال کی عمر کے لوگوں کو متاثر کرتے ہوئے، یہ بیماری نوجوانوں میں تیزی سے دیکھی جا رہی ہے۔گردے کی پتھری کی بیماری خطے میں ایک سرفہرست یورولوجیکل مسئلہ کے طور پر ابھری ہے۔ اس کا علاج جدیدتکنیکوں بشمول لیزر لیتھوٹریپسی اورشاک ویو تھراپی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ پتھری ہائپر کیلشیوریا(پیشاب میں زیادہ کیلشیم) جو میٹابولک وجوہات سے بنتی ہیں۔ جموں و کشمیر میں 15فیصد آبادی میں گردے میں پتھری پائی جاتی ہے۔ ان میں26فیصد کی عمر 30سے60سال کے درمیان ہوتی ہے۔پتھری گردے میں معدنیات(Minirals) اور نمکیات(Salts) کے جمع ہونے سے بننے والے سخت ذرات ہوتے ہیں۔گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے شعبہ جنرل سرجری کے اعداد و شمار کے مطابق گردے میں پتھری کے مریضوں میں 75فیصد مرد جبکہ 25فیصد خواتین ہوتی ہیں اور ان کی اوسط عمر 40سال ہوتی ہے۔پتھری کی تشخیص کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ 90فیصد مریضوں میں کیلشیم کی مقدار زیادہ ہونے سے پتھری بنی ہے ۔ 93فیصد مریضوں میں جراحی سے ہی گردے پتھری سے صاف ہوئے ہیں۔ گردوں کے ماہر ڈاکٹر شوکت احمد کہتے ہیں کہ کشمیر میں گردوں میں پتھری معمول کی بات ہے کیونکہ یہ بیماری یہاں کے رہن و سہن سے جڑی ہے۔ ‘‘ ڈاکٹر شوکت نے بتایا ’’ گردوں میں معدنیات اور نمکینیات جمع ہونے سے پتھری بنتی ہے اور یہ دونوں ہم روز اپنے کھانے کے ساتھ لیتے ہیں۔