نئی دہلی//پریس کلب آف انڈیا نے گجرات کے ایک نیوزپورٹل کے ایڈیٹر کیخلاف بغاوت کا مقدمہ دائر کرنے اورہماچل پردیش میں چھ صحافیوں کیخلاف دس ایف آئی آر درج کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری جمہوری توقعات پر ایک دھبہ ہے۔ایک بیان میں پریس کلب نے کہا کہ بھاجپا برسراقتدار ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں میں صحافیوں کے خلاف کارروائیوں کی بناپراُس نے وزیراعظم نریندرمودی،وزیرداخلہ امت شاہ اور بھاجپاصدر جے پی نڈا پرزوردیا ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرکے عقل سے کام لیں۔ بیان میں کہاگیا ہے کہ گجرات اور ہماچل میں پیش آئے واقعات برسراقتدار جماعت اور پولیس کی ملی بھگت کانتیجہ ہے۔بیان میں کہاگیا ہے کہ گجرات میں ایک کہنہ مشق اور معروت صحافی جو ایک نیوزپورٹل کاسربراہ ہے ،کیخلاف بغاوت کے الزام اورڈیزاسٹر منیجمنٹ ایکٹ کے تحت کیس درج کیاگیا۔اس کا مبینہ قصور یہ تھا کہ اُس نے ایک خبر شائع کی جس میں نئی دہلی میں گجرات کی قیادت کو تبدیل کئے جانے کا اشارہ تھاکیونکہ موجودہ وزیراعلیٰ کوروناوائرس کی وباء کیخلاف لڑائی میں ناکام ہوئے تھے.۔بیان میں کہا گیا کہ یہ صاف ہے کہ اس ایڈیٹر کوایک مثال بنایا گیا ۔احمدآباد کے دیگراخباروں جنہوںنے اس خبر کو مابعد شائع کیا تھا کوابھی تک خوفزدہ نہیں کیا گیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ انوکھا ہے کہ پولیس خود کوصحیح قراردے اور سیاسی خبروں اورواقعات کے صحیح ہونے کافیصلہ کابھی اختیاررکھتی ہے۔دوسرے واقعہ کاذکر کرتے ہوئے پریس کلب آف انڈیا نے اپنے بیان میں کہا کہ ہماچل میں مختلف اضلاع کے چھ صحافیوںکیخلاف دس ایف آئی آر درج کئے گئے ہیں ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی اس بلا جوازکارروائی کی وجہ یہ ہے کہ اِن صحافیوں نے مائیگرنٹ مزدوروں کی حالت زار اور کووِڈ- 19کیخلاف ریاستی حکومت کے ناکامی کی اطلاع دی تھی۔پریس کلب آف انڈیا نے کہا کہ یہ صحافیوں کے جائزاورقانونی کام کے دائرے میں آتے ہیں اورحکام کارویہ دست درازی اورغیرمناسب ہے۔ بیان میں کہاگیا ہے کہ گجرات اور ہماچل کے ان معاملات سے پہلے اترپردیش،جموں کشمیراوردہلی میں انتظامیہ اور پولیس نے پہلے ہی ذرائع ابلاغ کاگلاگھونٹنے کی مثالیں پیش کی ہیں ۔بیان میں ان کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہاگیا کہ یہ ہمارے جمہوری توقعات پرایک دھبہ ہے۔