ایجنسیز
نئی دہلی// مرکزی وزیر قانون ارجن میگھوال نے کہا ہے کہ فی الحال مرکزی حکومت کے زیر غور ایسی کوئی تجویز نہیں ہے جس کے تحت گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے یا ملک بھر میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی عائد کی جائے، اگرچہ مختلف حلقوں کی جانب سے ایسی مطالبات مسلسل سامنے آتے رہتے ہیں۔ایک انٹرویو میں وزیر قانون نے کہا کہ گائے کے ذبیحہ سے متعلق قوانین مختلف ریاستوں میں مختلف ہیں اور ان معاملات پر فیصلے عموماً مقامی حالات اور ضروریات کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔گائے کو قومی جانور قرار دینے اور ملک گیر سطح پر اس کے ذبیحہ پر پابندی کے مطالبات سے متعلق سوال کے جواب میں میگھوال نے کہا کہ اس نوعیت کی درخواستیں اور نمائندگیاں ارکانِ پارلیمان اور حکومت کو باقاعدگی سے موصول ہوتی رہتی ہیں۔انہوں نے کہا، ’’مختلف تنظیمیں ان معاملات پر کام کرتی رہتی ہیں اور ارکانِ پارلیمان سے بھی رابطہ کرتی ہیں۔ لوگ درخواستیں دیتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سلسلے میں اقدامات کیے جائیں۔‘‘تاہم وزیر نے واضح کیا کہ اس وقت مرکزی کابینہ کے سامنے اس نوعیت کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔انہوں نے کہا، ’’فی الحال ایسا کوئی معاملہ ہمارے سامنے نہیں جو کابینہ کے غور و خوض میں ہو۔ اگر مستقبل میں کوئی تجویز اس مرحلے تک پہنچتی ہے جہاں حکومتی فیصلہ یا کابینہ کی منظوری درکار ہو، تو ہم اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘میگھوال نے کہا کہ مختلف ریاستیں اپنے اپنے حالات اور حقائق کی بنیاد پر ایسے معاملات میں فیصلے کرتی ہیں۔ انہوں نے اس ضمن میں مغربی بنگال میں مویشیوں کے ذبیحہ سے متعلق 1950 کے قانون پر سختی سے عمل درآمد کے حالیہ اقدامات کا حوالہ بھی دیا۔وزیر قانون نے تسلیم کیا کہ گائے کے ذبیحہ پر مکمل پابندی کا مطالبہ مسلسل کیا جاتا رہا ہے اور اس موضوع پر سوشل میڈیا سمیت مختلف حلقوں میں بحث جاری رہتی ہے۔انہوں نے کہا، ’’یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے لوگ بار بار اٹھاتے ہیں۔ اس کے حامی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس پر گفتگو بھی ہوتی رہتی ہے، لیکن فی الحال یہ معاملہ اس مرحلے میں نہیں پہنچا جہاں حکومت کی سطح پر فیصلہ سازی کا عمل شروع ہو چکا ہو۔‘‘جہاں ہندو تنظیمیں ملک میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی کا مطالبہ کرتی رہی ہیں، وہیں متعدد مسلم تنظیموں اور علماء نے بھی گائے کو قومی جانور قرار دینے اور ملک گیر پابندی عائد کرنے کی حمایت کی ہے۔