مریض بیرون وادی لاکھوں روپے صرف کرنے پر مجبور
پرویز احمد
سرینگر //سرطان مریضوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے سکمز صورہ میں قائم کئے گئے ریجنل کینسر انسٹی ٹیوٹ میں سرطان مریضوں کی تشخیص کیلئے درکار ٹیسٹوں کی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہزاروں مریضوں کو تشخیصی ٹیسٹوں کیلئے دلی اور دیگر بیرون ریاستوں کا سفر کرنا پڑ رہا ہے۔سکمز میں قائم ریجنل کینسر انسٹی ٹیوٹ پر ’ نام بڑے اور درشن چھوٹے ‘ کی کہاوت صحیح بیٹھی ہے کیونکہ کینسر سینٹر میں علاج کے بعد مریضوں میں سرطان کی خلیوں کی موجودگی ، علاج کی اثرات اور دیگر لازمی ٹیسٹوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے مریض پریشان ہے تاہم سکمز انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ سھی ٹیسٹ 50سال بعدسکمز میں شروع ہونگے تاہم اس میں ابھی وقت لگ سکتا ہے۔حق اطلاعات کے تحت ریجنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے دی گئی جانکاری میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ کینسر انسٹی ٹیوٹ میں سرطان میں مبتلا مریضوں میں بون میرو ٹرانسپلانٹ کیلئے عطیہ کرنے والوں کے بون میرو ملانے کیلئے درکار ایچ ایل ٹی(Haploidentitcal Transplant)، بون میرو ٹرانسپلانٹ کی جراحیاںکے بعد جراحی کی کامیابیکی نشاندہی کرنے والا Chemirishٹیسٹ اور ٹرانسپلانٹ کے بعد مریض کے جسم میں بچی سرطان کی چھوٹی خلیوں کا پتا لگانے کیلئے درکار آر ایم ڈی (Minimal residual disease)،سرطان کی مختلف اقسام کا پتالگانے کیلئے بائوسکوپی کے ساتھ ہونے والا آئی ایچ سی) Imminohistochemistry)جس سے عطیہ کرنے والے موجود اینٹی باڈیز کا پتا چلتا ہے۔ اس کے عکاوہ سرطان مریضوں کے فاضلے میں بیکٹیریا سے پیدا ہونے والے انفکیشن کی تشخیص کیلئے درکار Clostridium difficileٹیسٹ کے علاوہ بیکٹیریا سے دیگر انفیکشنوں میں کا پتہ لگانے کیلئے درکار CM (PCR)دیگر تشخیصی ٹیسٹ جو سرطان کے مریضوں میں تشخیص کے کام آتا ہے۔ ماہر سرطان کا کہنا ہے کہ ان تشخیصی ٹیسٹوں کی عدم دستیابی سے نہ صرف علاج میں تاخیر ہورہی ہے بلکہ سرطان کے مختلف مراحل کا اندازہ لگانے میں بھی غلطی ہوسکتی ہے، علاج کے اثرات اور نتائج کے بارے میں صحح وقت پر جانکاری نہیں مل پارہی ہے۔ ماہر سرطان کہتے ہیں کہ سرطان کا علاج درستگی کے ساتھ ہونا چاہئے اور جیتیاتی اور زرات کی تشخیص کی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہم اندازے پر ہی مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔ مدافعتی نظام کی کمزوری سے پیدا ہونے والے سرطان کے شکار ایک مریض نے بتایا ’’ مجھے صرف تشخیصی ٹیسٹوں کیلئے دلی جاننے کی ہدایت دی گئی جہاں مجھے صرف تشخیصی ٹیسٹوں پر 1لاکھ 50ہزار سے زائد روپے صرف کرنے پڑے ہیں‘‘۔ مذکورہ مریض نے بتایا کہ سکمز میں ان کمیوں کی وجہ سے مریضوں کا بیرون ریاست علاج کیلئے جانا روز بہ روزبڑھ گیا ہے جبکہ کئی مریضوں کو علاج اور تشخص کیلئے سونے کے زیورات اور جائیداد فروخت کرنی پڑتی ہے۔ مریضوں نے مزید بتایا کہ جن کے پاس زمین نہیں ہوتی وہ بینک سے قرضہ یا پھر علاج ادھورا چھوڑنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس لئے سکمز علاج و معالجہ کیلئے آنے والے مریض اسپتال کی تجدید پر زور دے رہے ہیں۔سکمز کے ایک سینئر ڈاکٹر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سکمز انتظامیہ نے ایچ ایل اے اور دیگر تشخیصی ٹیسٹوں کیلئے آرڈر دیا ہوا ہے اور جلد ہی سکمز میں ان تشخیصی ٹیسٹوں کا آغاز ہوگا۔ انہوںنے بتایا کہ یہ تقریباً 50سال کے بعد یہ ٹیسٹ سکمز میں شروع کئے جا رہے ہیں۔