لندن//روس نے شام میں مشتبہ کیمیائی حملے والی جگہ پر ثبوتوں کے ساتھ کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ کرنے کے الزام سے انکار کیا ہے ۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ایک انٹرویو میں کہاکہ میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ روس نے اس جگہ پر کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی ہے ۔برطانیہ اور امریکہ کا الزام ہے کہ روس داوما میں مشتبہ کیمیائی حملہ کے ثبوت مٹانے کے لئے شامی حکومت کی مدد کررہا ہے ۔ بین الاقوامی تفتیش کار داوما قبصہ تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔ امریکہ نے کیمیائی ہتھیاروں کی نگرانی کرنے والے بین الاقوامی گروپ کو ہوشیار کیا تھا کہ مشتبہ کیمیائی حملے والی جگہ پر روس ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرسکتا ہے ۔ آرگنائزیشن فار پروہی بیشن آف کیمکل ویپنس (او پی سی ڈبلیو) پوری دنیا میں کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ کرنے اور انکی روک تھام کے لئے کام کررہی ہے ۔اس دوران تفصیلات کے مطابق روسی فوج کا کہنا ہے کہ 18 اپریل کو کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی خود مختار تنظیم او پی ڈبلیو سی کے ماہرین کو کیمائی حملے مقام پرجانے کی اجازت ہوگی۔او پی ڈبلیو سی کی 9 رکنی ٹیم شامی دارالحکومت دمشق کے قریب اجازت ملنے کا انتظار کررہی ہے۔دوسری جانب امریکہ ، برطانیہ اور فرانس نے روس پرالزام عائد کیا کہ وہ کیمائی حملے کے مقام پرشواہد سے چھیڑ چھاڑ کررہا ہے اورعالمی ماہرین کو دوما میں حملے کے مقام پرجانے سے روکنے کی کوشش کررہا ہے۔روس نے مغربی ممالک کے الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ اس مقام پرشواہد میں ردوبدل کررہا ہے جہاں پرکیمیائی حملہ ہوا تھا۔خیال رہے کہ دو روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بشارالاسد کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر شام نے دوبارہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تو امریکہ اس پردوبارہ حملے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔