اشرف چراغ
کپوارہ//بھاری برفباری کے دوسرے روز شمالی ضلع کپوارہ میں زندگی جزوی طور بحال ہو گئی ۔ضلع بھر میں اگرچہ سڑکو ں سے برف ہٹانے کام مکمل کیا گیا تاہم ابھی بھی متعدد سڑک رابطے برف سے ڈھکے ہوئے ہیں جبکہ ضلع کے بیشتر علاقوں میں بجلی سپلائی کو بحال کر دیا گیا ۔اس دوران ضلع نتظامیہ ہفتہ کے روز بھی متحرک رہی اورلوگو ں کو برف سے پیدا شد ہ صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے ۔جمعہ کے روز دن بھر مسلسل برف باری کے بعد شام دیر گئے برف باری میں ٹھہرائو آگیا اور ضلع انتظامیہ نے اہم سڑکو ں سے برف ہٹانے کا کام مکمل کیا گیا لیکن پورے ضلع میں جمعہ کی شام تک بجلی سپلائی کو بحال نہیں کر دیا گیا ۔ہفتہ کی صبح کو ضلع انتظا میہ نے تمام محکمو ں کو متحرک کیا اور لوگو ں کو بجلی ،پانی فراہم اور سڑک رابطے بحال کرنے کے لئے اپنے کام میں سرعت لانے کی ہدایت دی ۔محکمہ بجلی کے اہلکار بھاری برف باری کے باجود کام پر لگے اور آرم پورہ گریڈ اسٹیشن سے بیشتر علاقوں کو بجلی سپلائی فراہم کی گئی اور باقی پر کام جاری ہے ۔
ویلگام گریڈ اسٹیشن سے ابھی تک کسی بھی علاقہ کو بجلی فراہم نہیں کی گئی تاہم محکمہ کی کوشش ہے کہ ہفتہ کی شام تک رسیونگ اسٹیشن سے منسلک علاقوں کو بھی بجلی سپلائی فراہم کی جائے گی ۔ضلع کے کئی علاقوں میں برف تو ہٹائی گئی لیکن دوطرفہ گا ڑیو ں کے لئے جگہ کی کمی ہے ۔اس دوران ضلع کے ایسے دور دراز علاقوں سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ ابھی تک ان علاقوں سے برف ہٹانے کا کام مکمل نہیں کیا گیا جن میں رامحال ،کرالہ پورہ ،راجواڑ ،ماور ،لولاب ،لنگیٹ اور قاضی آباد کے کئی علاقے شامل ہیں ۔برف باری کے بعد اگرچہ موسم میں ٹھہرائو آگیا لیکن ہفتہ کے روز زندگی جزوی طور بحال ہو گئی ۔پورے ضلع میں جمعہ کی رات کو مطلع صاف ہونے کی وجہ سے سڑکو ں پر جمع برف جم گئی اور ہفتہ کی صبح کو گا ڑیو ں کی آمد و رفت متا ثر ہوئی ۔بعد دوپہر سڑکو ں پر گا ڑیو ں کی کم تعداد چلی ۔اس دورا ن ضلع کے سر حدی علاقے جن میں کرناہ ،کیرن ،بڈنمل ،مژھل اور جمہ گنڈ شامل ہیں کا زمینی رابطہ دو سرے روز بھی منقطع رہا کیونکہ چوکی بل کرناہ سڑک ،میلیال کیرن سڑک ،کلاروس مژھل اور جمہ گنڈ ،بڈنمل سڑکو ں پر 5سے7فٹ کی برف جمع ہوئی ہے ۔ضلع انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر موسم بہتری آئی تو سرحدی علاقو ں کی سڑکو ں پر برف ہٹانے کا کام شروع کیا جائے گا ۔ضلع انتظامیہ نے ضلع کے پہاڑی علاقوں کے لوگو ں سے کہا کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں کیونکہ موسم صاف ہونے کے ساتھ ہی ان علاقوں میںبرف کے تودے گر آنے کا خطرہ لا حق ہے ۔