کووڈ 19 سے تحفظ کے لیے ویکسنیشن کرانے والی ماؤں کے دودھ سے نومولود بچوں میں بیماری سے تحفظ فراہم کرنے والی اینٹی باڈیز منتقل ہوتی ہیں۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔فلوریڈا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ویکسینیشن کرانے والی ماؤں کا دودھ ان کے بچوں کو مستقبل قریب میں ممکنہ طور پر کووڈ 19 سے تحفظ فراہم کرسکے گا۔تحقیق کے نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ ویکسنیشن سے ماں کے دودھ میں کورونا وائرس سے تحفظ فراہم کرنے والی اینٹی باڈیز کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوجاتا ہے۔
محققین کے مطابق نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ویکسنیشن کرانے والی مائیں اپنا تحفظ نومولود بچوں کو بھی منتقل کرسکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس خیال کی تصدیق کے لیے ہی ہم نے تحقیق پر کام کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ جب بچے کی پیدائش ہوتی ہے تو ان کا مدافعتی نظام تشکیل پارہا ہوتا ہے، جس کے باعث ان کے لیے بیماریوں سے لڑنا بہت مشکل ہوتا ہے۔بچوں کی کمزوری کے اس عہد کے دوران ماں کا دودھ انہیں مدافعت کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
محققین کے مطابق ویکسنیشن ماں کے دودھ کا حصہ بن جانے والے ٹول کی طرح ہے جو کووڈ 19 کی روک تھام بہترین کام کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نتائج سے اس بات کا ٹھوس عندیہ ملتا ہے کہ ویکسینز سے ماں اور بچے دونوں کو تحفظ ملتا ہے، جو حاملہ یا بچوں کو دودھ پلانے والی خواتین کی ویکسینیشن کی حوصلہ افزائی کی بہترین وجہ ہے۔
یہ تحقیق دسمبر 2020 سے مارچ 2021 تک کی گئی تھی اور 21 صحت مند خواتین کو اس کا حصہ بنایا تھا جو کووڈ 19 سے متاثر نہیں ہوئی تھیں۔
تحقیقی ٹیم نے ماؤں کے دودھ اور خون کے نمونے 3 بار حاصل کیے، ایک بار ویکسنیشن سے پہلے، ایک بار ویکسین کی پہلی خوراک اور آخری بار دوسری خوراک کے بعد نمونے حاصل کیے گئے۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے ویکسین کی دوسری خوراک کے بعد ماؤں کے دودھ اور خون کے نمونوں طاقتور اینٹی باڈی ردعمل دیکھا جو ویکسینیشن سے پہلے کے مقابلے میں سو گنا زیادہ تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اینٹی باڈیز کی سطح ان ماؤں میں بھی کافی زیادہ تھی جو کووڈ 19 سے متاثر ہوئی تھیں۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل بریسٹ فیڈنگ میڈیسین میں شائع ہوئے۔ دریں اثنامتعدد تحقیقی رپورٹس میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ کورونا وائرس سے متاثر حاملہ خواتین کو سنگین پیچیدگیوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔
یہ انکشاف برازیل میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کووڈ سے متاثر حاملہ خواتین میں بلڈ پریشر بڑھنے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔
طبی زبان میں اس پیچیدگی کے لیے pre-eclampsia کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے اور عموماً حمل کی دوسری سہ ماہی یا بچے کی پیدائش کے فوری بعد یہ سامنے آتی ہے۔
یہ پیچیدگی ماں اور بچے کو بہت زیادہ نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتی ہے۔طبی جریدے جرنل کلینکل سائنس میں شائع تحقیق میں اب تک شائع ڈیٹا کا تجزیہ کرکے یہ دریافت کیا کہ کورونا وائرس سے ایس 2 ریسیپٹر نامی پروٹین میں تبدیلی آتی ہے، جس سے ایس ٹو کے بلڈ پریشر ریگولیٹ کرنے کے افعال بدل جاتے ہیں۔
خیال رہے کہ ایس 2 ریسیپٹر انسانی خلیات میں داخلے کا ذریعہ بنتا ہے مگر یہ ریسیپٹر آنول میں خون کی روانی قائم کرنے کے لیے بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ ڈیٹا کی جانچ پڑتال سے معلوم ہوا ہے کہ کووڈ سے متاثر حاملہ خواتین میں بیماری کی شدت سنگین ہونے اور موت کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ کووڈ سے حاملہ خواتین کا بلڈ پریشر بڑھنے اور قبل از وقت پیدائش کا خطرہ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایس 2 ماں اور بچے کے گردشی نظام کے لیے بہت اہم کردار ادا کرتا ہے مگر یہ آنول میں بھی وائرس کے پہنچنے کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔
محققین کے مطابق ہمارے تجزیے سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام مریض خواتین میں یہ اثر ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ آخر حاملہ خواتین کو اس بیماری سے بہت زیادہ خطرہ کیوں ہوتا ہے اور بلڈ پریشر بڑھنے کے حوالے سے اس کے کردار کا جائزہ بھی لیا جانا چاہیے۔کورونا وائرس کو شکست دینے والے متعدد مریضوں کو ایک سال بعد بھی طویل المعیاد علامات کا سامنا ہوسکتا ہے۔یہ بات چین میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔خیال رہے کہ کووڈ کی طویل المعیاد علامات کا سامنا کرنے والے مریضوں کے لیے لانگ کووڈ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔کورونا وائرس کی وبا سب سے پہلے چین کے شہر ووہان میں پھیلنا شروع ہوئی تھی اور اس نئی تحقیق میں وہاں اس بیماری کا سامنا کرنے والے افراد کا جائزہ لیا تھا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کووڈ کو شکست دینے والے 12 سو میں سے لگ بھگ 50 فیصد کو بیماری کے ایک سال بعد بھی مختلف علامات کا سامنا تھا۔بیجنگ اور ووہان کے ہسپتالوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے چین کے صوبے ہوبئی کے مریضوں پر توجہ مرکوز کی تھی جس کے شہر ووہان میں 2019 کے آخر میں کووڈ کے اولین کیسز سامنے آئے تھے۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کووڈ کو شکست دینے والے 20 فیصد مریض 12 ماہ بعد بھی مختلف علامات جیسے تھکاوٹ یا مسلز کی کمزوری کا سامنا کر رہے تھے۔
اسی طرح 17 فیصد کو نیند کے مسائل کا سامنا تھا جبکہ 11 فیصد کو بالوں سے محرومی کی علامت نے پریشان کیا۔محققین نے بتایا کہ اگرچہ متعدد مریض صحتیاب ہوگئے ہیں مگر کچھ کی علامات کا تسلسل برقرار رہا بالخصوص ان افراد کو جو کوود سے بہت زیادہ بیمار ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ کووڈ کے کچھ مریض ایک سال سے زائد عرصے بعد بھی مکمل صحتیاب نہیں ہوپاتے اور ایسے افراد کے لیے طویل المعیاد طبی نگہداشت کی سہولیات کی منصوبہ بندی کی جانی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کووڈ سے صحتیاب ہونے والے ایسے مریضوں پر اب تک سب سے بڑے سروے تھا جو ہسپتالوں میں زیرعلاج رہے تھے۔