سرینگر//ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے کہا ہے کہ کووِڈ مثبت مریض جو صحتیاب ہوچکا ہو اور اس کا ٹیسٹ ہفتوں بعد بھی مثبت آتا ہے، ایسے مریضوں سے وائرس دوسرے افراد میں منتقل نہیں ہوسکتا ہے کیوں کہ وائرس صحتیابی کے بعدزندہ نہیں رہتا اس لئے دوسروں میں منتقل نہیں ہوسکتا ہے ۔ایسے افرادکوالگ تھلگ رہنے کی ضرورت نہیں ہے وہ اپنی معمول کی سرگرمیاں بحال کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ کووڈ مریض جو صحتیاب ہوچکے ہوں اور ان کا ٹیسٹ پھر بھی پازیٹو آرہا ہو ،ایسے افراد کی وجہ سے وائرس دوسروں میں منتقل نہیں ہوسکتا ہے کیوںکہ یہ وائرس پھر زندہ نہیں ہوتا۔ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ ایسے صحتیاب ہوئے افراد کو RT.PCRٹیسٹ ہفتوں بعد بھی مثبت دکھاتا ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایسے شخص سے وائرس دوسروں میں منتقل ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی شخص کے وائرس میں مبتلاء ہونے کے بعد یہ وائرس 7یا 8دنوں تک ہی زندہ رہ سکتا ہے اور اس کے بعد یہ زندہ نہیں رہ سکتا اور اس صورت میں یہ وائرس دوسروں میں پھر منتقل نہیں ہوسکتا ہے تاہم مردہ وائرس RT.PCRمیں دکھائی دیتا ہے اسی لئے ٹیسٹ مثبت آتا ہے اگرچہ انسان کووِڈ وائرس سے مکمل طور پر صحتیاب بھی ہوا ہوتا ہے ۔ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ صحتیاب ہوئے افراد کا ٹیسٹ مثبت آنا ان کیلئے غیر ضروری ذہنی کوفت کا باعث بنتا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ایسے افرادکو زیادہ وقت تک (آئسولیشن)تنہائی اختیار نہیں کرنی چاہئے اور ناہی غیر ضروری طور پر لیبارٹریوں کے چکر کاٹ کرٹیسٹ پے ٹیسٹ کرنے چاہئے ، کیوںکہ یہ ان کے لئے ذہنی پریشانی کا باعث بنے گا۔ صحتیاب ہوئے افراد کیلئے پھر دوبارہ ٹیسٹ کرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ نئی گائیڈ لائنوں کے مطابق کووِڈ مریض کو صرف 10دنوں تک آئسولیشن میں رہنا چاہئے اگر اس میں علامات موجود ہوں اور اگر بغیر علامات ہو، تو اس میں مزید تین دنوں کا اضافہ کرنا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے وائرس سے کلیئرنس کی تصدیق کرنے اور اس طرح تنہائی سے خارج ہونے کی اجازت دینے کے لئے مریض کو طبی طور پر صحت یاب ہونے کی ضرورت ہوتی تھی اور کم از کم 24 گھنٹے کے بعد نمونوں پر دو منفی آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کروانے کی ضرورت ہوتی تھی۔