حالیہ عرصہ میں کورونا وبا کی کسی ممکنہ سازش میں شراکت کے الزام کے علاوہ گزشتہ عرصہ میں ملیریا،ایچ آئی وی ، ایبولا اور کوویڈ جیسی وبائوں کے خلاف لڑنے کے بعداب ارب پتی مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے اپنی توجہ اور کاوشوں کا مرکز ماحولیاتی تبدیلی کو بنایا ہے۔ 2021ء کے آغاز سے ہی بل گیٹس نے ہر کسی کی توجہ انسانیت کو درپیش سب سے بڑے چیلنج یعنی ماحولیاتی تبدیلی کی طرف مبذول کرانے کی کوشش ،خاص طور سے کوویڈ 19 وبا کے پس منظر میں کی ہے۔ بل گیٹس نے اپنی نئی کتاب ’’کس طرح ایک ماحولیاتی تباہی سے بچیں ‘‘ میں جو فروری میں منظر عام پر آئی تھی اس میں دنیا کو 2050ء تک کاربن گیس سے پاک کرنے کے لئے نئے قوانین اور طریقہ کار اپنانے پر بحث کی ہے۔
گیٹس کا کہنا ہے کہ انہیں کتاب لکھنے کی ترغیب اس وجہ سے ہوئی کہ وہ اپنے قارئین کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے بہترین راستے بتانے کے علاوہ انہیں اس کے بارے میں سمجھانا بھی چاہتے تھے۔ اس کتاب میں بار بار دو باتوں پر توجہ مرکوز کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ’51 بلین‘ اور ’ 2050ء‘ ۔ پہلا ہندسہ گرین ہائوس گیسوں کی وہ رقم ہے جو دنیا میں سالانہ خارج ہوتی ہیں اور دوسرا وہ سال ہے جس میں گرین ہائوس گیسوں کو زیرو یعنی صفر کرنے کا ہدف مقرر کیاگیاہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری روئے زمین محفوظ رہے تو ہمیں اس نشانہ کو حاصل کرنا اشد ضروری ہے۔ گیٹس کا کہنا ہے کہ صرف نشانہ قائم کرنے سے گیسوں کا اخراج ختم نہیں ہوسکتا۔ ہدف اسی وقت حاصل ہوگاجب ان زہریلے اخراج کو صفر کیا جائے گا یعنی بالکل ختم کیا جائے گا۔
جئے پور میں گذشتہ ہفتہ منعقدہ ادبی فیسٹول کے ورچول اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بل گیٹس نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی اتنا بڑامسئلہ ہے کہ اس سے اس وقت تک نہیں نمٹا جاسکتا جب تک کہ حکومتیں اپنی کوششوں کو تیز نہ کریں۔ گیٹس نے عوام پر زور دیا کہ وہ اس کے لئے سیاست دانوں پر دباؤ ڈالیں اور ان کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کریں جو اس کے لئے کام کررہی ہیں۔گیٹس نے اپنے خطاب میں ہندوستانی وزیراعظم مودی کا دو مرتبہ تذکرہ کیا اور گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے لئے ان کی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں گیسوں کے اخراج اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے ہندستان کے اقدامات قابل ستائش ہیں۔ اگر ہم ان ملکوں کی مددنہیں کرتے ہیں اور انہیں ان کوششوںمیں شامل نہیں کرتے توجو ان گیسوں کے اخراج کو کم کرنے میں مصروف ہیں، تو تمام اقدامات فیل ہوسکتے ہیں۔
امریکی صدر جوبائڈن اور ان کے انتظامیہ کی جانب سے ماحولیاتی تبدیلیوں کو ترجیح دینے اور پالیسیوں کی تشکیل میں مدد دینے والی ماحولیاتی سرگرمیوں کو شروع کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے گیٹس نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کو ماحولیاتی تبدیلی کو ترجیح دینے کی اشد ضرورت ہے۔ اسی دوران امریکہ کے نئے انتظامیہ نے 2015 کے پیرس معاہدہ میں دوبارہ شمولیت کا اعلان کیاہے۔ اپنے خطاب میں گیٹس نے اس مسئلہ کو بین الاقوامی فورمس میں پیش کرنے کے لئے نوجوانوں کی بھی ستائش کی ۔ انہوں نے گریٹاتھنبرگ کی تعریف کرتے ہوئے کا کہ گذشتہ 30 برسوں سے اس مسئلہ کی طرف توجہ دلانے کی انتھک جدوجہد کی جارہی ہے، جس میں نوجوانوں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
اخبار دی گارجین کے لئے ایما بروکس کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں گیٹس نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے جو عالمی ترقی کو منفی طور پر متاثر کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گیسوں کے اخراج کو کم کرنا سیاسی چیلنج ہے اور ساتھ ہی بالفاظِ دیگر یہ ہماری اولین ترجیح بھی ہونا چاہئے۔ گیٹس نے ایسے افراد اور کمپنیوں کی فہرست بھی پیش کی ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں کے لئے ذمہ دار ہیں۔ ان میں ٹرانسپورٹ انڈسٹری یا بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کے علاوہ سمنٹ اور اسٹیل صنعتیں بھی شامل ہیں، جو اتنی ہی زہریلی گیسوں کا اخراج کرتے ہیں جتنا کہ ہمارے ہوائی سفر۔
گیٹس نے اپنی کتاب میں کہا ہے کہ 2019ء میں گیسوں کے اخراج میں قدرِ معمولی کمی آئی۔ اس کی ایک وجہ کوویڈ19- کی وجہ سے دنیا بھر کی زیادہ تر صنعتوں کو بند کرنا بھی ہوسکتی ہے۔جس طرح سے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے نئے ٹیسٹ ، علاج اور ٹیکوں کی ضرورت ہے اسی طرح ہمیں ماحولیاتی تبدیلی سے بچنے کے لئے بھی نئے قوانین اور اقدامات اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔
گرین ہاوس گیسوں کے اخراج کو روکنے کے لئے نئی تحقیق کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ہم 2050تک ان گیسوں کے اخراج کو صفر نہیں کرپائے تودنیا کے درجہ حرارت میں جو اضافہ ہوگا، اس سے انسانی زندگی تباہ ہوسکتی ہے اور قدرتی ماحولیاتی نظام پر اس کامنفی اور دیرپا اثر پڑے گا۔ اس کے لئے ہر کسی کو ان گیسوں کو ختم کرنے کے لئے جدید طریقے تلاش کرنا چاہئیں۔ گیٹس نے اس مقصد کے حصول کے لئے مشورہ دیا کہ ہمیں اولین طور پر بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے حکومتوں کو تحقیقی اداروںاور سائنس دانوں کے درمیان پل کا کام کرنا چاہیے۔ جس طرح حالیہ عرصے میں کوویڈ 19- سے نمٹنے کے لئے باہمی تعاون کے ذریعے قابل لحاظ پیش رفت حاصل کی گئی اسی طرح ماحولیاتی تبدیلی سے ٹکر لینے کے لیے بھی ہمیںوہی تدابیر اپنانی ہوں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے اسی طرح کے عزم اور تعاون کی ضرورت ہے۔ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ دولت مند ممالک اگر صرف اپنے ملک کی گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے بارے میں فکر مند ہیں تو وہ غلط ہیں۔ ان کے بقول اس مسئلے پر دوسروں کی مدد کرنا اپنی مدد کرنے کے مترادف ہے۔ اگرہم چاہتے ہیں کہ گیسوں کا اخراج مکمل طور سے پوری دنیا میں ختم ہوجائے تو ہمیں دوسروں کی بھی ایسا کرنے میں مدد کرنا چاہئے ۔یعنی کہ ترقی یافتہ ممالک کو ترقی پذیر ممالک کو وہ ٹیکنالوجی آسان شرائط اور طریقے پر مہیا کرانی ہوگی، جس سے ہم ایک شفاف توانائی صنعت کو فروغ دے سکیں۔ اس کے لیے ہمیں ایسی نئی ٹکنالوجی ایجاد اور اختیار کرنا ہوگی جو ہماری ضروریات کو بنا زہریلی گیسوںکے اخراج کے پورا کرسکیں۔
گیٹس نے مزید کہا کہ ہمیں ماحولیات کے خطرے سے نمٹنے کے لئے تمام شعبہ ہائے حیات ، سائنس ، انجینئرنگ ، فزکس ، ماحولیاتی سائنس ، معاشیات اور دیگر میدانوں میں نئے اقدامات اور نئے طریقے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔باہمی تعاون کے ذریعہ ہی ہم گیسوں کے اخراج کو صفر کرنے کے نشانے کو حاصل کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اقدامات ان لوگوں کے لئے ہونے چاہئیں جو ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شفاف توانائی کے ذریعہ جیسے شمسی توانائی کو اختیار کرنے میں ہر ملک کو ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہئے اور ساتھ ہی اس کے لیے ایک عالمی نظام کو بھی تیار کرنا چاہیے۔
گیٹس نے نئی نسل کے تاجروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ شفاف توانائی کو اختیار کرکے معاشی ترقی کے لئے جدوجہد کریں۔ اپنی کتاب کے آخری باب میں بل گیٹس نے ان اقدامات کا حوالہ دیا ہے جن کو اختیارکرتے ہوئے ہر کوئی ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے لوگوں کو الکٹرک گاڑیاں اختیار کرکے دھوئیں کا اخراج ختم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے تاجروں کے لئے کاربن ٹیکس قائم کرنے کا بھی مشورہ دیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ کووڈ-۱۹ سے حاصل سبق کا اطلاق ماحولیاتی تبدیلی پر بھی ہوتا ہے۔ان کے بقول ہم ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں، جہاں آئندہ برسوں کے دوران ہم نئی حکمت عملی ، پالیسیوں اور ٹکنالوجیوں کو اختیار کرنے پر توجہ مرکوز کرنا بے حد اہم ہے۔ساتھ ہی 2050ء تک گرین ہاوس گیسوں کے اخراج کو مکمل طریقہ سے ختم کرنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ۔ ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز ،دبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں)
ای میل۔[email protected]