انسانی تہذیبوں او ر ثقافتوں کی بنیاد فقط اور فقط اخلاقیات پر ہوتی ہے۔ کوئی بھی قوم یا تہذہب جب تک خُلق یا اعلی اخلاقی قدروں کی طرف مائل نہ ہو ، انسانیت یا تہذیبی اقدار اور ان کے تحفظ کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔ اخلاقیات انسانیت کی معراج اور روح ہے اور انسانیت کی تکمیل بھی اخلاقیات سے ہی ممکن ہے۔ فطرت کے اعلی اصول بھی اسی منطق اور منہج پر کار فرما ہیں۔ مختلف ادیان و مذاہب یا تہذیبیں یا تمدن ہوں، یہا ں تک کہ کوئی غیر دینی یا غیر شرعی اور غیر مذہبی روایات یا تہذیبیں یا قومیں ہوں، اُن کی بنیاد بھی ایک خاص اورمنفرد اخلاقی ڈھانچے سے مزیّن اور منقش ہوتی ہیں۔ اخلاقیات اور اعلی انسانی اصول ہی قوموں کی ترقی کا راز ہیں اور یہی ان کا کل مال و متاع ہوتی ہیں۔ مختلف ادوار میں مختلف اقوام کے لئے قدرت کی طرف سے شریعتوں کا نزول بھی دراصل قوموں کی اخلاقی اور انسانی بے ظابطگیوں کو دور کرنے کا ایک مفصل عمل ہوتا ہے۔ فطرت ہمیشہ پابندی کے ساتھ اس امر میں مستقرق رہتی ہے کہ اس کے زیر اثر جتنی بھی مخلوقات ہیں، ان کے باہم ایک ربط و ضبط اور ہم آہنگی ہو، جسکا مقصود اخلاقیات ہو اور جس کی بنیاد اعلی انسانی اقدارہوں۔ اگر یہ بنیاد کمزور یا کج ہو تو پھر قوموں اور انسانوں کی مختلف النسل عمارت چاہے کتنی ہی خوبصورت اور اونچی ہو، پائیدار اور دیر پا نہیں ہو سکتی۔
خشت اول گر نہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج
اقوام عالم میں قوم کشمیر ایک بد نصیب اور لاچار قوم رہی ہے اور آج بھی بد نصیب ترین قوموں میں سے ایک قوم ہے۔ کشمیری قوم کی سیاسی بد نصیبی اور لاچارگی کی ذمہ دار اگر چہ کئی وجوہات ہیں ، لیکن انفرادی اور سماجی سطح پہ جس لاچارگی اور بد نصیبی کا شکار ایک کشمیری ہے ،وہ اس کی اپنی پیدا کردہ ہے۔ کشمیری تہذیب اور ثقافت اگر چہ ماضی میںشاندار روایات کی حامل تہذیب رہی ہے مگر وہیں اس کی بگڑی یا بگاڑی ہوئی مسخ اور کریہہ صورت کو دیکھ کر رونا آتا ہے۔ ایک سوچی سمجھی چال اور دانستہ عمل کے تحت مختلف ادوار میں جو غیر تہذیبی اور اور غیر ثقافتی پچکاریاں یا انجکشن کشمیر کے معصوم اور اخلاقی امراض سے پاک جسم کو وقتاً فوقتاً دئے گئے ہیں ، ان سے جو غیر تہذیبی اور غیر ثقافتی انفکشن ہمارے جسموںمیںسرایت کر چکی ہے، اُس سے ایک منحوس اور خوفناک اخلاقی تنزل بلکہ ایک ذہنی ، جسمانی، اور روحانی پستی ہماری اعلی اقدار والی معاشرتی اور سماجی زندگی میں ہوئی ہے، جس کا انجام بربادی اور ہلاکت کے سواء کچھ نہیں۔ یہ بات تباہ شدہ قوموں کی تاریخ سے ثابت ہے کیونکہ جو بھی قوم اخلاقی طور اپنے محور یا مدارسے ہٹتی ہے، تباہی اس قوم کا مقدر بن جاتی ہے۔
اس غیر تہذیبی اور غیر ثقافتی منحوس غیر اخلاقی سیلاب سے اگر کوئی سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، تو وہ کشمیر کا نوجوان طبقہ ہے۔ چونکہ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں اور کسی بھی خارجی بد اخلاق جارحیت کا شکار بھی نوجوان نسل ہی ہوتی ہے۔اس طور ہر اِک سطح پہ ایک کشمیری نوجوان کو اپنے اخلاقی مدار یا اسٹانس سے ہٹانے کا عمل خطرناک حد تک جاری ہے اور ہماری نوجوان نسل بغیر سوچے سمجھے اس نئی مستعار تہذیب کا مصنوعی لبادہ اوڑھنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی۔
جس مکروہ ترین اور ملعون اخلاقی گراوٹ میں ہمارا نوجوان آج کل دھنسا جا رہا ہے وہ ہے فحاشی اور عریانیت، جو کسی بھی ازم یا مکتبہ فکر کی نظر میں ایک معیوب اور نا شائستہ فعل ہے۔ جدید اصطلاح میںاسے والگر ازم سے تعبیر کریں گے۔ اندھے اور پاگل جانوروں کی طرح ایک ایسی اخلاقی پستی میں ہماری نوجوان نسل گری جارہی ہے جس کا انجام اچھا تصور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اب تو حال یہ ہے کہ اخلاقی نظریات کے جدید طرز کو اب والدین یا سوسائٹی کی جانب سے بھی ایک لائسنس مل چکا ہے اور اسے معیوب اور برا نہیں سمجھا جا رہا ہےبلکہ بہ بانگ دہل اور علانیہ شان دلربائی اپنانے کو مستحسن اور قابل فخر سمجھا جاتا ہے۔ جب والدین کو اپنے بچوں کے کپڑوں ، پڑھائی اور ٹیوشن کے اوقات دوستوں اور دوسرے فحش اور غیر ضروری لوازمات سے کوئی اعتراض نہیں تو پھر فحاشیت رفتہ رفتہ اپنے پردوں سے نکل کر عریانیت اور برہنگی کے کمالات کو پہنچے گی۔ مغربیت اور جدید مشرقیت نے ہمارے نوجوانوں کے اخلاقی تانے بنے کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے۔
نوجوان لڑکی ہو یا لڑکا، پکنک کے نام پر، عرس اورمیلوں ٹھیلوں میں شمولیت کے نام پر، مہندی راتوں میں شمولیت کے نام پر، نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کے اختلاط سے جو بحرانی کیفیت اور اباحیت کا بازار گرم ہوا ہے، اس کو محسوس کرکے ہی نوجوان نسل کے مستقبل پر ایک سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ فیشن پرستی اور رسومات بد کے چنگل میں پھنسے اور دھنسے ہوئے نوجوان طبقے کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ سیاحتی دنوں میں جب رات رات بھر سیاحتی مقامات پر ، شادیوں کے مواقع پر اور میلوں ٹھیلوں کے دنوں میں، ایجو کیشنل ٹیورز، ثقافتی او ر کلچرل پروگراموں کے دوران لڑکے اور لڑکیاں بیچ سڑکوں پر، پارکوں میں، خانقاہوں کے صحنوں میں اور شامیانوں کے اندر ڈانس کرکے، سیٹیاں بجا بجا کر اور نہ جانے کیا کیا واہیات اور اخلاق سوز حرکتیں کرکے جس شعوری نا پختگی اور اوصافِ رزیلہ کی نمائش کرتی ہے، اس کی مثال دنیاکے کسی بھی کونے میں نہیں ملتی۔ عاجزی اور ستم ظریفی کا حال یہ ہے کہ ان ساری کارستانیوں اور رزیل حرکات میں نوجوان نسل کو اپنے والدین کا بھر پور ساتھ میسر ہے۔
جس دوسری خطرناک ترین وبا کا شکار ہماری نوجوان نسل ہو رہی ہے، وہ منشیات ہیں۔ پولیس اور دیگر ذرایع سے معلوم تفصیلات کے مطابق منشیات کی لت میں مبتلا نوجوان نسل میں لڑکیاں اور لڑکےدونوں برابر حصہ لے رہے ہیں اور باضابطہ ڈرگ مافیا سرگرم ہے۔ نوجوان نسل جو پہلے سے ہی بے روزگاری، غربت، ناقص تعلیمی اور سماجی نظام،مذہبی خفتگی، گھٹن اور خوف و ہراس سے بھر پور ماحول سے تنگ آچکی ہے، وہ آرام سے اس لعنت کی طرف راغب ہو رہی ہے۔ بے بسی کا مقام یہ ہے کہ اب روحانی شفا اور درویشی کے نام پر بھی سینکڑوں نوجوانوں کو باضابطہ تکیوں پر چرس اور منشیات دی جارہی ہیں اور حرام دولت اور مادیت میں ہانپتا ہوا معاشرہ یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے ۔ موت کے سوداگر موت بیچ رہے ہیں اور انسانیت کے ٹھیکیدار عالم خواب میں خراٹے لے رہے ہیں۔
کلچر اور کشمیریت کی آڑ لیکر کشمیری نوجوان نسل کے ساتھ جو رزالت اور بے راہ روی کی ہولی کھیلی جا رہی ہے، اس کی وجہ سے بھی نوجوان نسل ایک گہری کھائی میں گرتی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا پر دستیاب ہمارے دیسی شاہ رخ خانوں اور کپورائوں کے ٹک ٹاک فن پارے ہمارے کلچر اور عظیم روایات کی خوب نمائندگی کرتے ہیں اور ساری کی ساری قوم اس ثقافتی تغیر یا بو قلمونی(Cultural Diversification) کے حصہ دار ہیں۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں اگر ہماری بیٹی یا بہن ایک گندی اور تھرڈ کلاس ویڈیو بنائے ۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں اگر ہمارے گھر کی عزت و عصمت کسی کلچرل پروگرام میں کسی عہدیدار کے سامنے ٹھمکے لگائے۔ ہمیں کوئی سرو کار نہیں اگر ہمارا سمارٹ اور ہینڈسم نوجوان بھائی ہیجڑے کا روپ دھارن کرلے۔ ہمیں کوئی وحشت نہیں ہوتی اگر ہمارے نوجوان کو مسلکی جھگڑوں اور سیاسی انتقام گیریوں میں اُلجھایا جائے۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں ،جب ہماری بیٹی اور ہماری بہن اپنے شاندار تشخص اور اپنے والدین اور اپنی ساری عظیم روایات اور اخلاقیات کی ساری حدوں کو توڑ کر کسی رانی آف جھانسی کی طرح ایسا عظیم کارنامہ انجام دے جو آج تک فلمی دنیا کی چکا چوند میں پل کر کسی بالی وڈ اداکارہ اور کھیل کود میں ادھ ننگی پرفارم کرنے والی کھلاڑی نے بھی انجام نہ دیاہو ۔ وہ بھی اپنی روایات کا پاس و لحاظ رکھتی ہیں۔ ہمیں کوئی شرم اور حیا کا کوئی پاس و لحاظ نہیں ،جب دولہا اپنی بارات کے موقع پہ سگریٹ سلگا کر خود کو ہیرو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
ہماری نوجوان نسل بذات خود اپنی تہذب اور اپنی عظیم اعلیٰ روایات کو ٹھکراکر غیروں کی تہذیب اور غیروںکے اقدار کو طوفان کی تیزی کے ساتھ گلے لگا رہا ہے۔ ہمارے نوجوان کی اپنی شناخت ختم ہو چکی ہے اور وہ کسی دوسری شناخت کا مظہر بن چکا ہے۔ شناختی بحران کی شکار ہماری نوجوان نسل کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ اپنی شناخت کی از سر نو احیاء اور تجدید ہے۔ وقت کی سب سے بڑی مجبوری اور ذمہ داری ہے کہ ہم سب مل کر اس اخلاقی بے راہ روی کو دور کرنے میں اپنا اپنا تعاون دیں۔ ہم بحیثیت والدین اور ذمہ دار خود ہی اپنے بچوں کو غیر تہذیبی اور غیر کشمیری ماحول کی سلگتی بھٹی میں جھونک رہے ہیں۔ تقاریر، مضامین اور مباحث اپنی جگہ، ہمیں عملی طور کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ایک دن ایسا آئے گا جب خاندانی اور معاشرتی روایات مغربی تہذیب اور جدیدیت کے ننگے اور نحوست میں لتھڑے ہوئے وجود کا حصہ بن جائیں گی۔ (۔ترال کشمیر)