ٹوئٹر نے ایک لاکھ ستر ہزار سے زیادہ ایسے اکاؤنٹ بند کر دیے ہیں جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ چین کے حمایت یافتہ پیغامات نشر کرنے والے ایک منصوبے کا حصہ تھے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا کہنا ہے کہ ان میں سے بعض پوسٹس اور ٹویٹس کورونا وائرس کی وبا سے متعلق تھیں۔ کمپنی کے مطابق ان میں 23,750 انتہائی فعال اصل اکاؤنٹس اور 150,000 ایمپلی فائر اکاؤنٹس شامل ہیں۔ٹوئٹر نے روس میں بنائے گئے ایک ہزار سے زیادہ اکاؤنٹ بھی ختم کیے ہیں جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے وہ گمراہ کن معلومات پھیلاتے تھے۔ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ چینی نیٹ ورک چین ہی میں مقیم تھا اور اس کا تعلق اس آپریشن سے تھا جس کے خلاف گزشتہ برس اس نے فیس بک اور یوٹیوب کے ساتھ مل کر کارروائی کی تھی۔مذکورہ نیٹ ورک ہانگ کانگ کی صورتحال کے بارے میں بھی پیغامات نشر کرتا تھا۔ٹوئٹر نے اپنی کمپنی کے بلاگ میں کہا ہے کہ 'اگرچہ یہ نیٹ ورک نیا ہے، مگر اس کی نشاندہی کے لیے وہ ہی تکنیکی رابطے استعمال کیے گئے ہیں جو اگست 2019 میں بروئے کار لائے گئے تھے اور جس سے پتہ چلا تھا کہ اس کا تعلق چین سے ہے۔امریکا میں قائم سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر کا مزید کہنا ہے کہ اس نے 'چین سے چلائے جانے والے اس آپریش کا بغور جائزہ لیا اور تفتیش کی ہے۔'ٹوئٹر کے مطابق آپس میں جڑے ہوئے ان دونوں اکاؤنٹس کو ابتدا ہی میں پکڑ لیا گیا۔