تنم گلے زخیاباں جنت کشمیر
دل از حریمِ حجاز و نوازِ شیرازاست ۱۶؎
اس بات سے تقریباً ہر ایک اقبال شناس واقف ہے کہ علامہ اقبال کا سلسلۂ نسب کشمیر کے برہمنوں سے جاکر ملتا ہے۔ خرم علی شفیقؔ کے مطابق ۱۲۹۵ء میں جب فارسی کو کشمیر میں سرکاری زبان کی حیثیت حاصل ہوئی تو کُچھ برہمنوں نے بھی سیکھ لی۔ جس کی وجہ سے سماج میں انہیں نہ صرف حقارت سے دیکھا جانے لگا بلکہ تعصب اور ہٹ دھرمی کی بنا پر انہیں ’’سپرو‘‘ (جلد باز) کے نام سے پکارا جانے لگا۔ وہ اس لئے کیونکہ اُس وقت اسلامی لٹریچر دیگر زبانوں کے برعکس فارسی زبان میں کافی موجود تھا۔ پھر آگے چل کر تقریباً پندرھویں صدی عیسوی میں ایک ’’سپرو برہمن‘‘ نے اسلام قبول کر لیا، رشتہ دار خلاف ہوئے تو گھر بار چھوڑ کر دیگر ممالک کارخ کیا، کئی ملک دیکھے اور کئی حج بھی کئے۔ بارہ سال کے بعد جب وطن واپس لوٹے تو ’’بابا لول حاجیؔ‘‘ کے لقب سے معروف ہوئے۔
اسی بابا لول حاجیؔ کی نسل سے آگے چل کر کچُھ پشتوں کے بعد شیخ محمد اکبر ؔنے جنم لیا جس کے پوتے یا پڑپوتے شیخ جلال الدین کے چار بیٹے تھے (۱) شیخ عبد الرحمانؔ (۲) شیخ محمد رمضانؔ (۳) شیخ محمد رفیق ؔ (۴) اور شیخ محمد عبد اللہؔ۔ چاروں نے کشمیر سے ہجرت کر کے سیالکورٹ میں سکونت اختیار کر لی۔ اِن چاروں میں سے جس کا نام شیخ محمد رفیق تھا اُن کے ہاں شیخ نور محمد ؔنے جنم لیا اور شیخ نور محمد کے ہاں شیخ محمد اقبال نے جسے دنیا بھر میں آج علامہ اقبال کے نام سے جانا جاتا ہے ۱۷؎۔ اِس طرح علامہ اقبال کو ’’کشمیر الاصل‘‘ ہونے کی حیثیت حاصل ہے جس پر اُنہیں کافی ناز تھا اور اپنے وطنِ عزیز کے تئین اپنی عقیدت کا اظہار یوں کیا ہے۔ ؎
تنم گلے زخیاباں جنت کشمیر
دل از حریم حجاز ونوازِ شَیراز است
اپنے وطن مالوف کشمیر کا جس انداز سے علامہ اقبال نے اپنے کلام میں ذکر کیا ہے اُس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اقبال نسبی وابستگی کے ساتھ ساتھ کشمیر کے تئین قلبی وروحانی لگاؤ بھی رکھتے تھے اور انہوں نے ’’کشمیر‘‘ کو قریباً ہر پہلو سے موضوعِ سخن بنایا ہے۔ ؎
پانی تیرے چشموں کا تڑ پتا ہوا سیماب
مرغانِ سحر تیری فضاؤں میں ہے بیتاب
دیگر عام شعراء کی طرح اقبال کو بھی کشمیر کے قدرتی حسن نے بے حد متاثر کیا مگر کشمیر سے متعلق جو مخفی اور حقیقی پہلو اقبال نے ابھارے ہیں اُن کی طرف دیگر شعراء کا نہ صرف یہ کہ دھیان ہی نہیں گیا بلکہ اُنہیں محسوس تک نہیں ہوا۔ اِس سے بھی یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ علامہ اقبال کشمیر کے تئین کافی سنجیدہ خاطر تھے اسی لئے کشمیر کی مظلومیت اور غلامی سے دل برداشتہ ہو کر پکار اُٹھے۔ ؎
آج وہ کشمیر ہے محکوم ومجبور وفقیر
کل جسے اہلِ نظر کہتے تھے ایرانِ صغیر
اپنی شاہ کار تصنیف ’’جاوید نامہ‘‘ میں میر سید علی ہمدانی ؒ (شاہ ہمدانؔ) سے استفسار کی شکل میں علامہ اقبال نے کشمیر کے تئن جو حساس جذبات ظاہر کئے ہیں اُن سے بھی کشمیر کے ساتھ اُن کی قلبی وابستگی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اقبال ’’زندہ رود‘‘ کے نام سے شاہ ہمدان ؒ کو کشمیر کے ماضی، حال اور مستقبل سے یوں آگاہ کرتے ہیں۔ ؎
زیرِ گردوں آدم، آدم راخورد
ملتے برملتے دیگر چرد!
جاں ز اہل خط سوز دچوں پسند
خیز داز دل نالہ ہائے دردمند!
زیرک ودراگ وخوش گل ملنے است
در جہاں تردستی او آیتے است!
ساغرش غلطندہ اندر خونِ اوست
درنے من نالہ ازمضمون اوست!
از خودی تابے نصیب اُفتادہ است
دردیارِ خود غریب افتادہ است!
دست فردِ او بدست دیگراں
ماہی رودش بہ شستِ دیگراں!
کار وانہا سوئے منزل گام گام
کارِ او ناخوب وبے اندام وخام!
از غلامی جذبہ ہائے اُو بمرد
آتشے اندر رگِ تاکش فسرد!
تانہ پنداری کہ بوداست ایں چنیں
جبہہ راہموارہ سود است ایں چنیں!
درز مانے صف شکن ہم بودہ است!
چیرہ وجانباز و پُرد م بودہ است!
یعنی آسمان کے نیچے اِس دھرتی پرانسانیت کا حال اِس قدر خستہ ہے کہ اولادِ آدم ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن گئے ہیں۔ ایک قوم دوسری قوم کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رہی ہے۔ یہی حال اہل کشمیر کا ہے کہ آج کل غلامی میں اسیر ہیں۔ اور اِن کی یہ صورتِ حال دیکھ کر میں آتش زیرِ پاوالی کیفیت میں مبتلا ہوں، میرے دِل سے درد بھرے نالے ابھر رہے ہیں۔ غلامی اور مظلومیت کی شکاریہ کشمیری قوم ایک دانستہ اور چالاک قوم ہے اِس کی ہنر مندی تو پوری دنیا میں مشہور ہے مگر بد قسمتی یہ کہ اب یہ قوم ذلت اور پستی کی شکار ہے، یہ اپنے ہی خون کے ساغر میں غوط زن ہے۔ اہل کشمیر کی یہ موجودہ حالت قابل افسوس ہے یہ اپنی حقیقت سے نا آشنا اور اپنی خودی سے محروم ہوچکے ہیں، یہ اپنے ہی وطن میں غریب الدیار ہو کررہ گئے ہیں۔ یہاں تک کہ اِن کی اقتصادی حالت بھی اب اِس قدر خستہ ہوچکی ہے کہ اپنا سب کچُھ ہونے کے باوجود بھی اِن کی کمائی اغیار پر منحصر ہے۔ دنیا میں موجود دیگر قومیں جہاں دن بدن ترقی کی منزلیں طے کرہی ہیں وہاں کشمیری قوم کی حالت یہ ہے کہ یہ بے منزل ہو کر رہ گئی ہے۔ غلامی میں رہ کر اہلِ کشمیر کا جذبہ قدر ے سرد پڑچکا ہے مگر یہ نہ سمجھے کہ یہ قوم ہمیشہ اتنی پست ہمت اور ضعیف تھی بلکہ کسی زمانے میں یہ قوم بھی باہمت، جوانمرد اور بہادر ہوا کرتی تھی!!
کشمیر کے قدرتی حسن نے کے اکثر شعراء کو اِس قدر متاثر کیا کہ وہ یہاں کے حقیقی پہلو سے ناواقف رہے۔ مگر اقبال کا معاملہ اس کے برعکس ہے غلام نبی خیال ۱۸؎ لکھتے ہیں؛شیخ محمد اقبال جب ۴۴سال کی عمر میں جون۱۹۲۱ء میں پہلی بار کشمیر آئے تو انہوں نے یہاں نشاط باغ کے سایہ دار چنا روں سے آگ اور دھواں اُٹھتا ہوادیکھا۔ انہیں وادئی لولاب کے شاداب مرغ زاروں میں دیرانیاں اگتی نظر آئیں اور ان کی نگاہیں خلدِ کشمیر کی روش روش پرچھائی ہوئی مردنی اور پژ مرد گی پر مرکوز ہوگئیں۔ اُن کے جواں دل کی دھڑ کنوں کے ساتھ ہر طرف بکھری ہوئی کشمیر یوں کی نواہائے جگر سوز ہم آہنگ ہوئیں۔ وہ یہاں چند مقامات کی سیر کے سلسلے میںا ٓئے تھے مگر تقریباً دو ہفتوں کے قیام کے دوران ان کا دل وطن کی چوٹ سے بلبلا اُٹھا۔(علامہ اقبال اور تحریک آزادی کشمیر۔۹۵)
۱۸۴۶ء میں انگریزوں نے کشمیر کو مال وجائداد کیا بلکہ انسانوں سمیت ایک ڈوگرہ مہاراجہ گلاب سنگھ کے ہاتھوں صرف۷۵لاکھ میں بیج دیا۔ یہ تاریخ انسانیت میں سب سے بڑا دلدوز اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے جس کو ایک شرم ناک فعل گردانتے ہوئے مورخوں،ا دیبوں اور شاعروں نے آہ وبکا کے ساتھ رقم کیا ہے۔۱۹؎۔ اقبال جو نہ صرف کشمیر الاصل تھے بلکہ حساس طبیعت اور درد مند دل کے مالک بھی تھے۔ انہوں نے بھی کشمیر کے ساتھ کی گئی اِس نا انصافی اور ظلم پر خون کے آنسوں بہائے ہیں۔ ؎
بادِ صبا اگر بہ جنیوا گذر کُنی
حرفے زمابہ مجلس اقوام باز گوئے
دہقاں وکشت وجوئے وخیاباں فروختند
قومے فروختند وچہ ارزاں فرو ختند!
کہتے ہیں اے بادِ صبا! اگر جنیواسے تیرا گذر ہوا تو مجلس اقوام تک یہ پیغام پہنچا دینا کہ کشمیر کو کسانوں، کھیتوں اور باغات سمیت فروخت کردیا گیا ہے۔ اور وہ بھی ستے میں۔۲۰؎
بہر حال علامہ اقبال کشمیر کی مظلومیت کو لے کر کس قدر پریشاں خاطر رہا کرتے تھے وہ اُن کے کلام سے عیاں ہے۔ ’’جاوید نامہ‘‘ میں شاہ ہمداںؒ اور ملا طاہر غنی کشمیریؔ سے مقالمے ’’ ارفغانِ حجاز‘‘ (اردو) میں ’’ملا زادہ ضیغم لولابی کشمیری کابیاض‘‘ کے عنوان سے منظومات اور ’’ساقی نامہ‘‘ جیسی دیگر نظموں کو ثبوت کے طور پرپیش کیا جاسکتا ہے۔
پنجہ ظلم وجہالت نے بُرا حال کیا
بن کے مقراض ہمیں بے پروبے بال کیا
توڑ اُس دست جِفا کیش کو یارب جس نے
روحِ آزادیٔ کشمیر کو پامال کیا
پتہ۔سیر جاگیر سوپور،کشمیر
فون نمبر۔9858464730