پرویز احمد
سرینگر // شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (SKUAST-K)کے سائنسدانوں نے نایاب اور انتہائی قیمتی گچھی(Morchella) مشروم کی کامیابی سے کاشت کرکے ایک تاریخی پیش رفت کی ہے۔ تاریخی طور پر، یہ جنگلی ہمالیائی پھپھوند ہے جس کی قیمت 40,000 فی کلوگرام سے اوپر ہے اوریہ اب تک تجارتی طور پر کاشت نہیں کی جا سکتی تھی۔ یہ دنیا کی سب سے مہنگی مشروم ہے جسے کشمیری زبان میں’’کنہ گچھ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ منفرد ماحولیات کی وجہ سے وادی پھپھوندی کی مختلف اقسام کیلئے موزون جگہ سمجھی جاتی ہے ۔گُچھی مشروم’’ Morchella‘‘ خاندان سے تعلق رکھتا ہے جو ہمالیائی جنگلات میں پایا جاتا ہے۔وادی میں کنگن، اننت ناگ اور کپوارہ کے اونچے پہاڑی اور میدانی علاقوں میں یہ قدرتی طور پر موسم بہار میں مارچ سے اگست تک پایا جاتا ہے۔پہاڑی علاقوں میں رہنے والے لوگوں میں اس کی مقبولیت اس کے مالی فوائد کی وجہ سے ہے۔ کنہ گچھی جمع کرنے میں کئی دن لگ جاتے ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں اس کی کاشت نہ ہونے کی وجہ سے اس کی قیمت آسمانوں کو چھوتی رہتی ہے۔ کنہ گچھی کو امریکہ اور یورپ کے دیگر ممالک میں بطور غذا استعمال کیا جاتا ہے اور یہ وہاں کے لوگوں کے روزمرہ کھانے کا ایک حصہ ہے اور اس کی وجہ سے فی کلو’ کنہ گچھی ‘کی قیمت 30سے 40ہزار کے درمیان ہوتی ہے۔ گچھی کے مالی فوائد کی وجہ سے شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچر اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہرین نے گچھی کی کاشت کی کامیاب تحقیق مکمل کرلی ہے اور آئندہ چند سال کے دوران گچھی مشروم کے بیچ لوگوں کو کاشت کاری کے کیلئے فراہم کئے جائیں گے۔گچھی مشروم پر سکاسٹ شالیمار میں کی گئی تحقیق کے بارے میں پروفیسر ڈاکٹر طارق احمد صوفی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا گچھی مشروم ’’کنہ گچھی‘‘ کے مختلف اقسام مختلف جگہوں میں پائے جاتے ہیں۔ ۔‘‘ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور دیگر یورپی ممالک میں اس کی کاشت ہوتی ہے لیکن بھارت میں کسی بھی ریاست میں کاشت کاری نہیں ہوتی بلکہ یہاں یہ قدرتی طور پر پایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر طارق نے بتایا ’’ قیمتی اور بہت نایاب ہونے کی وجہ سے جموں و کشمیر میں اس کو قابل کاشت بنانے کیلئے سکالر کامران منیر کو تحقیق کا کام دیا گیا ۔طارق صوفی کا کہنا تھا کہ تحقیق کامیابی کے ساتھ مکمل کی گئی ہے اور اب تحقیق کوعملے طور پر اپنایا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ اس کو قابل کاشت بنانے کیلئے کچھ چیزوں کا خاص خیال رکھنا ہے اوراس کی کاشت کیلئے وہ موسمی ماحول فراہم کرنا ہے جو اس کو قدرتی طور پر جنگلوں اور پہاڑوں میں دستیاب ہوتا ہے۔ڈاکٹر طارق بتاتے ہیں کہ اس کی کاشت کیلئے زمین اور درجہ حرارت 20سے کم ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کی جانکاری بتاسکتے ہیں کہ اس کی کاشت کیلئے 3چیزیں انتہائی اہم ہیں جن میں پہلا بیج، دوسرا کاشت کیلئے خصوصی مٹی، تیسرا بیج کی موزون غزائیت کیلئے مرکب اور فیڈ بیگز کو تیار کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ کاشت کاری کیلئے موزون درجہ حرارت لازی ہے۔ انہوں نے کہا کہ درجہ حرارت میں ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کاشت کیلئے درکار مٹی اور ہوا کا درجہ حرارت شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی کاشت کیلئے ابھی 2سال کا وقت درکار ہوگا ۔ ڈاکٹر صوفی کہتے ہیں کہ اس کیلئے ہم نے چند علاقوں کی نشاندہی کی ہے جہاں ہم گرین ہائوسز میں اس کی کاشت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں چند رکاوٹیں ہیں اور ان کو دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔