کشتواڑ//جہاں انتظامیہ نے سوچھ بھارت ابھیان پر کروڑوں خرچ کئے لیکن سوچتھا صرف کاغذوں و اعلانات تک ہی محدور رہی جبکہ زمینی سطح پر حقایق بالکل اسکے برعکس ہیں۔ضلع کشتواڑ کے قصبہ دیہات میں سوچھ بھارت مذاق بنکر رہ گیا ہے جہاں ہر جگہ گندگی کے ڈھیر دیکھنے کو ملتے ہیں۔جبکہ لوگوں نے ندی نالوں میں بھی اب گندگی کے ڈھیر پھینکنے شروع کردئے ہیں۔ سب ڈویژن چھاترو کی نالیوں سے لوگ پینے کا صاف پانی حاصل کرتے تھے ، آج یہ نالے گندگی سے بھرے پڑے ہیں۔ کھواڑہ سے چھاترو تک متعدد گائوں ان نالوں کاپانی پیتے تھے لیکن اب مقامی لوگوں نے پاخانوں کی پائپیں بھی ان نالوں میں ڈالی ہیں ۔سیوا کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ لوگوں نے گھروں کی گندی نالیوں کا پانی نالوں میںڈالنا شروع کیا ہے جسے عوام کو سخت مشکلات پیش آرہی ہیں، اگرچہ گزشتہ سال تحصیلدار چھاترو کو درخواست دی گئی تھی لیکن کسی نے اسکی طرف توجہ مرکوزنہ کی جبکہ نالے میں گندگی ہی گندگی ہے اور علاقہ کی عوام اس نالے کا پانی اب نہیں پی سکتی ۔انھوں نے کہاکہ انتظامیہ جہاں عوام سے گھروں سے باہر نکلنے پر ماسک پہننے کو کہتی ہے تاکہ بیماری کو روکا جاسکے لیکن اس گندگی سے کیا بیماری رک پائیں گی۔عبدالرحیم نے بتایا کہ سبھی گھروں نے اپنے پاخانوں کی نالیاں ان نالوں کی طرف لگائی ہیں اور اس پانی کو گندا کرہے ہیں جہاں آٹھ سال قبل تک لوگ مسلسل اس پانی کا استعمال کیا کرتے تھے لیکن ایسا ممکن نہیں ہے۔ انھوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ سبھی علاقہ جات میں مکمل تحقیقات کی جانی چاہئے اور انکے خلاف کاروائی عمل میں لائی جانی چاہئے تاکہ عوام کو صاف پانی میسرہوسکے۔