نئی دلی // زرعی قوانین کے خلاف برسر احتجاج کسانوں کی طرف سے6فروری کو ملک گیر سطح پر قومی شاہراہوں کو بند کرنے کی کال کے پیش نظرحکام نے ہزاروں احتجاجی کسانوں کو دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کے تحت نئی دہلی کے باہر 3 احتجاجی مقامات پر سیکیورٹی میں اضافہ کردیا۔ حکام نے مرکزی احتجاجی مقامات پر خاردار تاریں، اسٹیل کی رکاوٹیں نصب کی ہیں اور پولیس کی نفری میں اضافہ بھی کیا ہے۔مظاہرے کے ایک مقام، غازی پور میں مرکزی شاہراہ پر لوہے کی کیلیں نصب کی گئی ہیں۔علاوہ ازیں سمینٹ کو جانے والے سڑک پر رکاوٹیں خاردار تاروں سے لیس ہیں جہاں سرکاری فورسز بھی موجود ہٰیں جس کے باعث علاقہ ایک حفاظتی قلعے کا منظر پیش کررہا ہے۔ اترپردیش سے تعلق رکھنے والے مظاہرین میں شامل کسان دیویندر سنگھ نے کہا کہ سیکیورٹی کے نئے انتظامات انہیں ڈرانے کے لیے کیے گئے لیکن کسان اتنی آسانی سے نہیں بھاگیں گے۔ مذکورہ سخت سیکیورٹی اور اضافی حفاظتی اقدامات، گزشتہ ہفتے ہونے والے پْرتشدد مظاہرے کے بعد اٹھائے گئے جب پیدل چلنے والوں، ٹریکٹرز اور گھوڑوں پر سوار کسان رکاوٹیں توڑ کر شہر میں داخل ہوگئے تھے اور ان کی پولیس سے جھڑپ ہوئی تھی۔