اشفاق سعید
کرناہ//کرناہ سب ڈویژن میں محکمہ صحت شدید بحران سے دوچار ہے۔ عملے کی کمی، خالی اسامیوں، مسلسل تبادلوں اور متعدد ملازمین کی طویل چھٹیوں کے باعث بیشتر طبی مراکز مفلوج ہیں۔سرکاری دستاویزات کے مطابق علاقے میں شعبہ صحت کو اس سرحدی علاقے میں سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ کشمیر عظمیٰ کو دستیاب دستاویزات کے مطابق بلاک کرناہ میں قائم کئی سب سینٹر اور طبی مراکز عملًا غیر فعال ہو چکے ہیں۔ سب سینٹر ہری ڈل ، پھگوان، سدھ پورہ اور ساٹھ پلہ میں نہ مناسب انفراسٹرکچر موجود ہے اور نہ ہی کوئی طبی عملہ تعینات ہے، جس کے باعث یہ مراکز صرف کاغذی سطح تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔کھوڑپارہ سب سینٹر برسوں سے کرائے کی عمارت میں قائم ہونے کے باوجود عملے سے محروم ہے جبکہ دھنی، کونہ گبرا، پٹھان گلی اور ہجتہرہ سمیت متعدد مراکز میں بنیادی ڈھانچہ موجود ہونے کے باوجود طبی عملے کی عدم دستیابی ہے ۔نیو ٹائپ پرائمری ہیلتھ سینٹر گنڈی شاٹھ میں مستقل ڈاکٹر تعینات نہیں ہے جبکہ حاجی نارڈ میں بھی طبی عملے کی شدید کمی ہے۔ شمس پورہ اور کنڈی مراکز میں بھی ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل عملے کی قلت کے باعث طبی خدمات متاثر ہیں۔ اپر جبڑی میں تعینات ملازم کی وفات کے بعد مرکز خالی پڑا ہے جبکہ سیماری ہیلتھ اینڈ ویلنیس سینٹر یاترا ڈیوٹی اور زچگی رخصت کے باعث متاثر ہے۔
ڈرگر اور گنڈی گجران مراکز بھی عملے کے تبادلوں کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔دستاویزات کے مطابق بلاک میں مجموعی طور پر 36طبی ادارے موجود ہیں جن میں ایک سب ڈسٹرکٹ ہسپتال، تین پرائمری ہیلتھ سینٹرز، پانچ این ٹی پی ایچ سیز، سات ہیلتھ اینڈ ویلنیس سینٹرز اور بیس سب سینٹرز شامل ہیں۔ حیران کن طور پر ان میں سے صرف 18 ادارے مکمل طور پر فعال ہیں جبکہ باقی 18 مختلف وجوہات کی بنا پر غیر فعال یا جزوی طور پر فعال قرار دئے گئے ہیں۔عملے کی صورتحال بھی انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ دستاویزات کے مطابق بلاک میں 149منظور شدہ اسامیوں میں سے صرف 53 پر ملازمین تعینات ہیں جبکہ 96 اسامیاں خالی ہیں۔ غیر گزٹیڈ عملے کی 118 آسامیوں میں سے صرف 42 پر تقرریاں موجود ہیں جبکہ 76 اسامیاں خالی پڑی ہیں۔31منظور شدہ آسامیوں میں صرف 11 ڈاکٹر خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ 20 اسامیاں خالی ہیں جن میں کنسلٹنٹس، میڈیکل آفیسرز اور ڈینٹل سرجنز شامل ہیں۔سب ڈسٹرکٹ ہسپتال ٹنگڈار بھی عملے کی شدید کمی سے متاثر ہے۔ متعدد ڈاکٹر، نرسیں اور تربیت یافتہ تکنیکی عملہ تبادلوں، زچگی رخصت، مطالعاتی رخصت اور ریٹائرمنٹ کے باعث دستیاب نہیں۔ ڈائیلاسز یونٹ سمیت کئی اہم شعبے محدود افرادی قوت کے ساتھ چلائے جا رہے ہیں۔۔دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ ہسپتال میں ڈائیلاسز خدمات کو برقرار رکھنے کے لیے موجودہ عملے پر غیر معمولی دبا ہے جبکہ مزید ملازمین کی متوقع ریٹائرمنٹ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔محرم الحرام اور امرناتھ یاترا کے دوران اضافی ڈیوٹیوں کے باعث صحت مراکز پر مزید دبا ئوبڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق اگر مزید عملہ دوسرے مقامات پر تعینات کیا گیا تو مقامی سطح پر صحت خدمات مزید متاثر ہو سکتی ہیں۔علاقے کے عوامی اور سماجی حلقوں نے حکومت اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کرناہ میں صحت کے شعبے کو درپیش افرادی قوت کے بحران کا فوری نوٹس لیا جائے، خالی اسامیوں کو پر کیا جائے اور غیر فعال طبی مراکز کو دوبارہ فعال بنا کر عوام کو بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔