سری نگر//کرشنا ڈھابہ حملے میں مبینہ طورپر ملوث دونابالغ ملزمان کی ضمانت عرضی کو جوینائل جسٹس بورڈ سرینگر نے خارج کردیا۔جے کے این ایس کے مطابق جوینائل جسٹس بورڈ سرینگر نے گزشتہ روز کرشنا ڈھابہ حملے میں ملوث دو نابالغوں کی ضمانت عرضی خارج کر دی ۔ایڈیشنل پبلک پراسکیوٹر ظفر شاہین اور وکیل دفاع کے دلایل سننے کے بعد بورڈ نے کہا کہ الزامات کی نوعیت ایک اہم عنصر ہے اور ضمانت کی درخواست کا فیصلہ کرتے وقت حقائق اور حالات ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔بورڈ کے 3 رکنی بینچ میں پرنسپل مجسٹریٹ توصیف احمد ماگرے اور ممبران خیرالنساء اور ڈاکٹر عاصمہ حسن شامل تھے۔جوینائل جسٹس بورڈ سرینگر کا ماننا تھا کہ یہ قانون کا بنیادی اصول ہے اور ساتھ ہی خود جے جے ایکٹ میں یہ بھی درج کیا گیا ہے کہ جہاں سخت مجرموں کے ساتھ بچوں کے بے نقاب ہونے اور اسی طرح کے جرائم کو دہرانے کا امکان موجود ہے، اس لئے بورڈ چلڈرن ان کنفلیکٹ کو ضمانت نہیں دینے کے حق میں ہے۔ بورڈ کا مزید کہنا تھا کہ اس معاملے میں لگ رہا ہے کہ نابالغوں کا استعمال چند نامعلوم افراد کی جانب سے کیا گیا ہے۔ تحقیقات بھی جاری ہے، کورٹ اگر ان نابالغوں کو ضمانت پر رہا کرتا ہے تو وہ دوبارہ سے اْن افراد کے رابطے میں آسکتے ہیں جس سے ان نابالغوں کو خطرہ ہو سکتا ہے،اسلئے جب تک اْن سنگین نامعلوم مجرموں کو گرفتار نہیں کیا جاتا تب تک ان نابالغوں کو رہا کرنا ٹھیک نہیں ہے۔واضح رہے کہ رواں برس فروری مہینے کی 17 تاریخ کو نامعلوم جنگجوئوںنے سرینگر کے ہوئی سیکورٹی علاقہ سونہ وارمیں واقع کرشنا ڈھابہ کے مالک کے بیٹے آکاش مہرا پر گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں وہ شدید طور پر زخمی ہوگیا جس کے بعد اسے ہسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں اس کی موت واقع ہوگئی۔