آنکھوں میں انفیکشن اور سُرخی کے معاملات میں 20فیصد اضافہ:ماہر امراض چشم
پرویز احمد
سرینگر // وادی میں حالیہ برسوں کے دوران لوگ آنکھوں کے خشک ہونے (ڈرائی آئی سینڈروم) سے متاثر ہورہے ہیں۔ کشمیر میں 40فیصدمرد جبکہ 34فیصد خواتین ڈرائی آئی سینڈروم سے متاثر ہیں ۔ ماحولیاتی آلودگی، موسمی تبدیلی، کمپیوٹر اور موبائیل فون کے بے تحاشہ استعمال سے یہ بیماری موسم سرما کے دوران مزید بڑھ جاتی ہے۔ماہرین امراض چشم کا کہنا ہے کہ سخت سردی،ماحولیاتی آلودگی اور خشک ہوا آنکھوں میں انفکیشن اور خشکی بڑھانے میں اہم رول ادا کررہے ہیں اور اس وقت آنکھوں میں انفیکشن اور سرخی کے معاملات میں 20فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر 60فیصد لوگ ڈرائی آئی سینڈروم سے متاثر ہو رہے ہیں۔ صدر ہسپتال سرینگر میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی، سخت سردی اور خشک ہوا سے لوگوں کی آنکھیں متاثر ہورہی ہیں اور ڈرائی آئی سینڈروم میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے۔ خشک موسمی صورتحال اورماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے چھاتی کے امراض میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ڈاکٹر طارق قریشی کا کہنا ہے ’’ڈرائی آئی سینڈروم کافی تیزی سے پھیل رہا ہے اور یہ بچوں اور خواتین کو بھی تیزی سے متاثر کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیماری ایک تو کمپیوٹر اور موبائیل کا زیادہ استعمال کرنے سے پھیلتی ہے اور موسم سرما کے دوران خشک ہوا اور ماحولیاتی آلودگی اس صورتحال کو سنگین بنا دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ہر کوئی موبائیل سال بھر استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی ویژن اور موبائیل سے نکلنے والی تابکاری کرنوں سے آنکھیں خشک ہوجاتی ہے اور سردیوں میں صورتحال مزید بگڑ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سردی کے موسم میں لوگ ٹیلی ویژن اور موبائل کا زیادہ استعمال کرتے ہیں اور سردی کے ایام میں اسکا اثر زیادہ ہوجاتا ہے، آنکھوں کی نمی کم ہوجاتی ہے اور آنکھیں سرخ ہوجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنکھوں کا سرخ ہوجانا ، آنکھوں میں خارش ہونا اور آنکھوں سے آنسوں بہنے کی صورت میں آئی سینڈ روم سامنے آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے موسم سرما کے دوران آنکھوں کی بیماریوں میں بھی شدت آجاتی ہے اور ہر سال کی طرح اس سال بھی مریضوں کی تعداد میں 20فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کشمیر صوبے میں60فیصد لوگ ڈرائی آئی سینڈروم کے شکار ہیں جبکہ اس میں ہر گذرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔