محمد تسکین
بانہال // جموں و کشمیر میں ڈسٹرکٹ انسٹی چیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ٹرائننگ یا DIET ادارے، جو ریاستی کونسل برائے تعلیمی تحقیق اور تربیت SCERT کے تحت کام کر رہے ہیں، عملے کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں جس کے باعث تعلیمی اور انتظامی امور بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔کشمیر عظمیٰ کے پاس موجود تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں ڈویژن کے متعدد ڈی آئی ای ٹی اداروں میں منظور شدہ اسامیوں اور تعینات عملے کے درمیان نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔محکمہ تعلیم سے جڑے حکام کا کہنا ہےکہ تعلیم و تربیت کے ان ضلعی اداروں میں عملہ کی یہ کمی تعلیمی منصوبہ بندی، اساتذہ کے تربیتی پروگراموں، نصاب کے نفاذ اور صلاحیت سازی کی سرگرمیوں میں رکاوٹ بن رہی ہے اور مرکزی اور ریاستی سرکاروں کی طرف سے چلائی جارہی سکیمیں اثر انداز ہو رہی ہیں۔
ضلع رام بن کے بانہال میں قائم ڈائٹ ادارہ پچھلی قریب ڈیڑھ دہائی سے کام کر رہا ہے لیکن سٹاف کی کمی اور نئی عمارت کو محکمہ کے حوالے کرنے میں پی ڈبلیو ڈی کی طرف سے کی جارہی تاخیر نے اس ادارے کو مفلوج بنا کر رکھ دیا ہے اور ڈائٹ بانہال قصبہ بانہال میں کرایہ کی عمارت میں چل رہا ہے۔ بانہال سے قریب چھ کلومیٹر دور عشر کے گاؤں میں اوپر پہاڑی پربنائی گئی عمارت پر دس کروڑ سے زائد کی رقم خرچ کی گئی ہے اور تعمیراتی کام کے معیار کو لیکر بھی تاخیر کا شکار یہ عمارت کئی سوالات کے گھیرے میں ہے ۔ محکمہ پی ڈبلیو ڈی کا کہنا ہےکہ یہ عمارت مکمل کی گئی ہے اور اسے پرنسپل ڈائٹ بانہال کو سونپنے سے پہلے کچھ فائنل کام کو انجام دیا گیا اور جلد ہی اسے محکمہ تعلیم کے سپرد کیا جائے گا اور اس موقع پر نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری کی آمد کا بھی امکان ہے ۔ پرائمری اور مڈل سکولوں کی کلُہم بہتری ، اساتذہ کی تربیت ، امتحانات ، سکولوں اور تعلیمی نظام کا تجزیہ اور لاگو سرکاری سکیموں کی نگرانی کی ذمہ داری بھی ڈائٹ اداروں پر عائد ہے لیکن سٹاف کی کمی کی صورتحال نے صوبہ جموں کے بیشتر اداروں میں تعلیمی اور انتظامی سرگرمیاں کو محدود کرکے رکھ دیا ہے ۔ڈائٹ بانہال کے تدریسی شعبے میں کل 19 اسامیاں منظور شدہ ہیں، جن میں سے صرف 7 اسامیاں پُر کی گئی ہیں جبکہ 12 اسامیاں خالی ہیں ۔ جبکہ غیر تدریسی عملے کو ملا کر ڈی آئی ای ٹی بانہال میں 40منظور شدہ اسامیوں میں سے صرف 13پر تقرری ہوئی ہے جبکہ 27اسامیاں کئی برسوں سے خالی پڑی ہیں۔پرنسپل کی اسامی گزشتہ ماہ جنوری میں ریٹائرمنٹ کے بعد سے خالی ہے اور فی الحال چیف ایجوکیشن آفیسر رام بن کو بطور اِنچارج پرنسپل کی اضافی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔محکمہ تعلیم کی عدم توجہی یا بے بسی کی وجہ سے ضلع رام بن کے سینکڑوں سرکاری سکول کا نظام تعلیم اساتذہ اور سکول عمارتوں کی کمی کی وجہ سے پہلے ہی دشواریوں کا شکار ہیں اور ایسے میں ضلع رام بن کے چھ تعلیمی زونوں کے سینکڑوں سکولوں اور اساتذہ کے اہم مرکز ڈائٹ بانہال میںشعبہ جاتی سربراہوں یا HoDs کی چھ منظور شدہ اسامیوں کے مقابلے میں صرف تین اسامیاں موجود ہیں جبکہ مزید تین ایچ ۔ او ۔ ڈیز اسامیاں برسوںسے خالی ہیں۔ ڈائٹ بانہال میں کل ملا کر گیارہ لیکچراروں کی اسامیاں منظور ہیں لیکن یہاں 11یں سے 7خالی ہیں جبکہ صرف 4لیکچرر تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ ورک ایکسپیرینس ٹیچر کی واحد اسامی بھی خالی پڑی ہے۔محکمہ تعلیم کے اس اہم ادارے میں غیر تدریسی شعبہ بھی شدید متاثر ہے اور ڈائٹ بانہال میں 21منظور شدہ اسامیوں کے مقابلے میں صرف 6 ملازمین تعینات ہیں جبکہ غیر تدریسی عملے کی 15مختلف اسامیاں خالی پڑی ہیں، جس سے دفتری، تکنیکی اور معاون خدمات متاثر ہو رہی ہیں۔ غیر تدریسی عملے میں سیکشن آفیسر، اکاؤنٹنٹ، لائبریرین، جونیئر سٹینوگرافر، ہیڈ اسسٹنٹ، ٹیکنیشن ٹیچر، لیبارٹری اسسٹنٹ اور چوکیدار کی تمام اسامیاں خالی ہیں۔اسٹیٹسٹیکل آفیسر کی ایک اسامی پُر ہے جبکہ جونیئر اسسٹنٹ کی دونوں اسامیاں پُر ہیں۔ اس کے علاؤہ سینئر اسسٹنٹ کی 4 اسامیاں منظور شدہ ہیں لیکن کوئی بھی پُر نہیں کی گئی ہے۔