کشتوار // چیف میڈیکل افسر کشتوار رویندر منہاس نے کشتوار کے پسماندہ علاقہ بونجوار کا دورہ کیا اور وہاں محکمہ صحت کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ اس موقعہ پر بونجواہ یوتھ فرنٹ نے چیف میڈیکل افسر کو علاقے کی عوام کو درپیش مسائل کے بارے میں انہیں آگاہ کیا ۔سماجی کارکن عاشق وانی نے بتایا کہ پرائمری ہیلتھ سنٹر نالی میں کچھ سال قبل 20 طبی ونیم طبی عملہ تعینات تھا وہیں آج اس پرئمیری سنٹر پر صرف چار ملازم ہی تعینات ہیں ۔ اسی طرح دیگر ہیلتھ سنٹروں پر بھی عملے کی شدید قلت پائی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کچھ ایک ملازمین کو چند روز قبل ٹھاٹری ناکہ پر کورونا ٹیسٹ کرنے کیلئے تعینات کیا گیا ہے جس سے باقی علاج ومعالجہ کیلئے اس سنٹر پر آنے والے مریضوں کو سخت مشکلات پیش آتی ہیںاسی طرح اس سنٹر پر دیگر بنیادی سہولیات کا بھی فقدان ہے۔ انہوں نے علاقے کے لوگوں کو گولڈن کارڈ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔انہوں نے متعلقہ افسر سے کہا کہ اس سلسلے میں علاقے میں کیمپ لگائے جائیں تاکہ غریب لوگ ایوشمان بھارت سکیم کا فائدہ اٹھا سکیں ۔ انہوں نے اس پرئمبری ہیلتھ سنٹر کا درجہ بڑھانے کی بھی مانگ کی ۔انہوں نے کہا کہ اس ہیلتھ سنٹر پر 30ہزار کی آبادی کا دارومدار ہے اور دور دراز علاقوں سے مریض اس سنٹر پر علاج ومعالجہ کیلئے پہنچتے ہیں ۔ چیف میڈیکل افسر رویندر منہاس نے سبھی مطالبات کو سنااور لوگوں کو یقین دلایا کہ ان کے مطالبات کو اعلیٰ حکام کی نوٹس میں لایا جائے گا ۔