محمد تسکین
بانہال //مدھیہ پردیش اور اتر پردیش کے چار نوجوان پچھلے نو اور دس مہینوں سے مقدس امرناتھ گپھا کی جانب ایک کٹھن اور منفرد پیدل اور ’ڈنڈوت یاترا‘ پر گامزن ہیں اور وہ اتوار کے روز رامبن پہنچ گئے ۔ مدھیہ پردیش سے تعلق رکھنے والے جتیندر راجپوت، روہت رائے اور نین جین سناتھنی جبکہ اتر پردیش کے امیت راجپوت گزشتہ نو سے دس ماہ سے اس روحانی سفر میں مصروف ہیں اور یہ نوجوان امرناتھ گھپا تک پہنچنے کے لیے زمین پر لیٹ کر قدم بہ قدم آگے بڑھتے ہیں، جو عقیدت کا ایک انتہائی مشکل اور نادر طریقہ مانا جاتا ہے۔ان یاتریوں نے اپنے ضروری سامان کو سائیکلوں پر لادھ رکھا ہے اور راستے بھر بھگوان شیو کے بھجن اور نعرے لگاتے ہوئے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہیں۔ مدھیہ پردیش کے تین نوجوانوں نے 3ستمبر 2025کو سفر شروع کیا تھا جبکہ امیت راجپوت نے 23جولائی 2025کو یاترا کا آغاز کیا۔قومی شاہراہ 44پر ضلع رام بن سے گزرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کا مقصد سناتھن دھرم کا پیغام عام کرنا اور گائے کو قومی جانور کا درجہ دلانے کی اپیل کرنا ہے۔ انہوں نے مذہبی ہم آہنگی کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہندو مسلم اختلافات دراصل اپنے مذہب کی صحیح سمجھ نہ ہونے کا نتیجہ ہیں۔