ناگپور//یو این آئی//اسپن گیند باز کی مدد گار وی سی اے اسٹیڈیم کی پچ پر روندر اشون کی قیادت والی جارحانہ گیند بازی کی بدولت ہندوستان نے دنیا کی نمبر ایک ٹیسٹ ٹیم آسٹریلیا کو پہلے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن ہفتہ کو اننگ اور 132رنوں سے ہرا کر تاریخی جیت حاصل کی ۔ودربھ کرکٹ اسٹیڈیم کی پچ پر ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرتے ہوئے آسٹریلیا نے پہلی اننگ میں 177رن بنائے تھے جس کے جواب میں ہندوستانے ٹھوس بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 400رنوں کا اسکور بنایا تھا ۔ پہلی اننگ میں 223رن سے پیچھے رہنے والے آسٹریلیا پر دبدبہ بر قرار رکھتے ہوئے اشون (37رن پانچ وکٹ) اور رویندر جڈیجہ(34رن پر دو وکٹ) نے مہمان بلے بازی کی بخیہ ادھیڑ دی جب کہ محمد شمی(13رن دو وکٹ) اور اکشر پٹیل (چھ رن ایک وکٹ) نے رہی سہی کسر پوری کرتے ہوئے کنگارووَں کے خلاف ہندوستان کو سب سے بڑی جیت حاصل کی ۔ہندوستان کے خلاف آسٹریلیا کا دوسری اننگ میں یہ دوسرا سب سے کم اسکور ہے ۔ اس سے پہلے سات فروری 1981کو آسٹریلیا نے میلبورن کی پچ پر اپنی دوسری پاری میں صرف 83رن بنائے تھے ۔ گندپا وشوناتھ کے شاندار سنچری کی بدولت ہندوستان کا یہ میچ 59سے جیت حاصل کی تھی جب کہ تین نومبر2004کو ممبئی میں وانکھیڈے اسٹیڈیم پر کنگارو ٹیم ہندوستان کے خلاف 93رن پر ہار گئی تھی اور نزدیکی مقابلے میں ہندوستان کو 13رن سے جیت حاصل کی تھی ۔اس کا سہرا روی چندرن اشون کو جاتا ہے ، جنہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر میں 31 پانچ وکٹیں حاصل کیں، دوسری اننگز میں آسٹریلیا کو 32.3 اوورز میں صرف 91 رنز پر آؤٹ کر دیا، جس نے اپنی کرشماتی کارکردگی سے ایک بار پھر مخالف ٹیم کو دنگ کر دیا۔
پہلی اننگز میں کم رن بنانا بھاری پڑا: کمنز
ناگپور//یو این آئی// ہندوستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں اننگز اور 132 رن سے شکست کھانے کے بعد آسٹریلیا کے ٹیسٹ کپتان پیٹ کمنس نے کہا کہ ہندوستان جیت کا حقدار ہے ۔ پہلی اننگز میں ان کے بلے بازوں کی ناقص کارکردگی نے ٹیم پر دباؤ بڑھایا جو بالآخر شکست کا سبب بن گیا۔ کمنز نے کہا،پہلی اننگز میں وکٹ ٹرن لے رہی تھی لیکن بلے بازوں کے لیے نسبتاً آسان تھی۔ ہمارے بلے بازوں نے پہلی اننگز میں کم رن بنائے ۔ اگر ہم مزید 100 یا اس سے زیادہ رن بناتے تو ہمیں دوسری اننگز میں زیادہ دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ جب وکٹ ٹرننگ ہوتی ہے تو آپ کو ہمیشہ اسپنروں کے خلاف سخت محنت کرنی پڑتی ہے ۔ ہندوستانی کپتان ہمیشہ سے محنتی رہے ہیں اور سوچا کہ روہت نے اپنی کلاس دکھائی۔ وہ واقعی ایک عظیم بلے باز ہے ۔