جاوید اقبال
مینڈھر// ضلع پونچھ کے مینڈھر، حویلی اور منڈی بلاکوں میں نیوٹریشن راشن کی خریداری نہ کیے جانے کے معاملہ پر محکمہ مشن پوشن نے سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ سی ڈی پی اوز کے خلاف وجہ بتاؤ نوٹس جاری کر دیا ہے۔ جائنٹ ڈائریکٹر مشن پوشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں متعلقہ افسران سے وضاحت طلب کی گئی ہے کہ فنڈ دستیاب ہونے کے باوجود راشن کی خریداری کیوں عمل میں نہیں لائی گئی۔ذرائع کے مطابق گزشتہ مسلسل چار ماہ سے ان بلاکوں کے متعدد آنگن واڑی مراکز میں غذائی راشن کی تقسیم بند پڑی ہوئی ہے، جس کے باعث مقامی عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خاص طور پر بچوں، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کو نیوٹریشن سپورٹ نہ ملنے سے ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے آنگن واڑی مراکز کے ذریعے بچوں اور خواتین کو فراہم کیے جانے والے غذائی اجزاء ان کی صحت کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں، مگر کئی مہینوں سے راشن نہ ملنے کی وجہ سے غریب خاندانوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکمہ کی غفلت کا خمیازہ معصوم بچوں اور ضرورت مند خواتین کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔اس سلسلہ میں جب سی ڈی پی او مینڈھر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ فنڈ وقت پر موصول نہ ہونے کی وجہ سے راشن کی خریداری میں تاخیر ہوئی۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب راشن کی سپلائی آنا شروع ہو گئی ہے اور جلد ہی مختلف آنگن واڑی مراکز میں تقسیم کا عمل شروع کر دیا جائے گا تاکہ مستحقین کو مزید پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔دوسری جانب عوامی حلقوں نے معاملہ کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ جانچ کی جانی چاہیے کہ آخر چار ماہ تک راشن کی فراہمی کیوں متاثر رہی اور اس تاخیر کے لیے کون ذمہ دار ہے۔ عوام نے مطالبہ کیا کہ اگر کسی افسر کی لاپرواہی ثابت ہوتی ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔مقامی سماجی کارکنوں نے بھی حکومت سے اپیل کی ہے کہ آنگن واڑی مراکز کی کارکردگی پر مسلسل نگرانی رکھی جائے تاکہ بچوں اور خواتین کے لیے جاری فلاحی اسکیموں کا فائدہ بروقت مستحق افراد تک پہنچ سکے۔