اپریل 2006میں اُسوقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ روزنامہ انڈین ایکسپریس کے بانی رام ناتھ گوئینکا کی یاد میں دئے جانے والے اعزازات کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے پریس کی آزادی سے متعلق ایک معقول بات کی۔ اُن کی بات کو ہوبہو نقل کرنے سے موضوع کا پس منظر اور پیش منظر واضح ہوجائے گا۔
ـ’’۔۔۔پریس کی آزادی ناشروں یا مدیروں کی آزادی نہیں، بلکہ اس سے آگے والی بات ہے۔ یہ سماج کی آزادی ہے تاکہ وہ اپنی بات کہہ سکے۔اس آزادی کے استعمال کے لئے جرأت مندانہ صحافت کی ضرورت ہے، وہ صحافت دیانتدار اور باکردار ہو، جانفشانی اور محنت شاقہ سے عبارت ہو۔میں بھی سمجھتا ہوں کہ صرف اُنہیں بولنے دینا جو چلانا چاہتے ہوں ایسی صحافت نہیں، جرأتمندانہ صحافت تو بے آوازوں کو بولنے کا موقع دینے کا نام ہے، اور اُن حلقوں کی بات سننا اور سنانا جنہوں نے خاموش رہنے کا فیصلہ کرلیا ہو۔میری ادنیٰ رائے ہے کہ جرأتمندانہ صحافت کا مطلب ہے حقائق اور سچائی کی عزت کرتے ہوئے حق کی جانبداری۔ صحافت توازن یا غیر جانبداری(Objectivity) کا نام نہیں۔ جرأتمندانہ صحافت حق کی خاطر ٹھوس پوزیشن لینے کا نام ہے، چاہے وہ حق کتنا ہی متنازعہ اور (موجودہ حالات کے ساتھ) کتنا ہی متصادم کیوں نہ ہو۔‘‘
یہ اقتباس اُن کی طویل تقریر سے لیا گیا ہے۔ جب وزیراعظم کی حیثیت سے منموہن سنگھ پریس کی آزادی پر یہ دوٹوک باتیں کہہ رہے تھے، ملک کا میڈیا افضل گورو کی پھانسی کی پرزور وکالت کررہا تھا۔ ٹی وی اینکرز منہ میں جھاگ جما کر چلا رہے تھے کہ وطن کے اجتماعی ضمیر کو مطمئعن کرنا ہے۔ دلی میں مقیم کشمیری صحافی افتخار گیلانی طویل قید کاٹنے کے بعد رہا کئے گئے تھے، لیکن اُن کی کہانی کسی ٹی وی اینکرنے نہیں سنائی۔دس سال تک وزیراعظم رہ چکے منموہن سنگھ کے پریس کی آزادی سے متعلق کلمات ریکارڈ پرہیں، لیکن اُن کا یہ بیانیہ ملک میںفریڈم آف پریس کا بیانیہ نہ بن سکا۔
منموہن سنگھ کی ہی حکومت تھی جب کشمیر میں مظاہرین کے خلاف فورسز کی کاروائی میں 9 ٹی وی کا صحافی مارا گیا، کیبل نیوز پر پابندی عائد کردی گئی۔ اُن ہی کے وزیرداخلہ پی چدامبرم نے روزنامہ گریٹر کشمیر اور رائزنگ کشمیر کے لئے وفاقی سطح کے اشتہارات پر روک لگا دی، یہ اُن ہی کا دورِ حکومت تھا جب کشمیری فوٹوگرافرس پر مسلسل فورسز کی لاٹھیاں ٹوٹیں، جرأتمندانہ صحافت کے وکیل منموہن سنگھ ہی اقتدار پر براجمان تھے جب راقم کو فورسز نے گھیر کر میری ہڈی پسلی ایک کردی۔
پریس فریڈم کا دن منانا اور اس روز جرأتمندانہ صحافت کی وکالت کرنا ایک بات ہے، اور گہری ریاست کے طریقۂ کار پر ان باتوں کا اثرہونا دوسری بات۔ایسا نہیں کہ نریندر مودی کے انڈیا میں پہلی مرتبہ میڈیا حق فروش ہوگیا ہے۔ اندرا گاندھی نے جب ایمرجنسی نافذ کردی تو صحافیوں کے ریوڈ جیلوں میں ٹھونس دئے گئے، انڈین ایکسپریس پر پابندی عائد کی گئی، کلکتہ سے شایع ہونے والے سٹیٹس مین کا قافیہ تنگ کیا گیا۔کانگریس کے ایک وزیرسلمان حیدر سے کشمیر یونیورسٹی میں کشمیریوں کی سیاسی آرزؤں سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے نہایت آمرانہ لہجے میں کہا: ’’چیچنیا میں بھی سیاسی خواہشات تھیں، لیکن وہ بمباری سے دب گئیں‘‘۔ مودی کے انڈیا میں صرف یہ ہوا کہ میڈیا کو دبایا نہیں بلکہ خریدا گیا، اورسوائے چند پورا میڈیا ضمیر بیچنے پر آمادہ تھا۔
کشمیر میں پریس فریڈم ڈے منانے والوں کو یہ جان لینا چاہیے جدید دور میں اب پریس کی آزادی محض ایک نعرہ رہ گیا ہے۔ حکومت نے جب اخبارات کا معاشی مقاطعہ کررکھا ہو آپ کس طرح کی حق گوئی کی توقعہ کریں گے۔فوٹوگرافر کامران یوسف کو طویل قید کے بعد رہا گیا جبکہ ایک اور نوجوان صحافی ابھی بھی جیل میں ہے۔مزاحمتی حلقوں نے بھی وقتاً فوقتاً پریس پر اپنے حصے کا سینسر لگا دیا۔ کئی دفاتر کی توڑ پھوڑ ہوئی، صحافیوں کو دھمکیاں دی گئیں، کئی کی پٹائی کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ چند سال قبل محبوس حریت رہنما محمد یاسین ملک نے واقعی ایک بڑے لیڈر کا ثبوت دیتے ہوئے ماضی میں ہوئی ایسی وارداتوں پر ندامت اور پچھتاوے کا اظہار کیا۔
لیکن سٹیٹ کبھی معافی نہیں مانگتی۔ سٹیٹ اظہار رائے کی آزادی کے تمام وسائل پر بالواسطہ یا بلا واسطہ کنٹرول حاصل کرکے کسی خون خرابے کے بغیر اس آزادی کو سلب کرلیتی ہے۔ بھلا ہو تیکنالوجی کاکہ اب اظہار رائے کے وسائل میں بے پناہ وسعت آگئی ہے۔ جو خبر اخبار میں نہ چھپے وہ فیس بک ، ٹوئٹر، انسٹاگرام یا وٹس اپ پر عام ہوجاتی ہے۔لوگ ٹیلی ویژن کے مباحث کا پوسٹ مارٹم سوشل میڈیا پر کرتے ہیں۔متاثریں اپنے مضروب اجسام کی تصاویر دنیا کو دکھاتے ہیں۔لیکن جب یہ سب کرنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے، کشمیر میں انٹرنیٹ معطل کیا جاتا ہے! تاخیر سے ہی سہی چیزیں باہر آ ہی جاتی ہیں۔ بہر حال آپ سب کو پریس فریڈم ڈے مبارک ہو!
ہفت روزہ ’’نوائے جہلم‘‘ سری نگر