قرضوں کی کم وصولی اور کم شرح سود کے باعث مالی دباؤ بڑھ گیا
بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر میں سرکاری شعبے کے اداروں (پی ایس یوز) کی مالی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھ گئے ہیں، جہاں اربوں روپے کی سرکاری سرمایہ کاری کے باوجود منافع نہایت کم رہا ہے۔ تازہ مالیاتی رپورٹ کے مطابق پی ایس یوز سے حاصل ہونے والی واپسی نہ صرف محدود ہے بلکہ حکومت کی قرض کی لاگت کے مقابلے میں کہیں کم ہے، جس سے سرکاری خزانے پر اضافی مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2020 سے 2025 کے دوران سرمایہ جاتی اخراجات میں معاشی خدمات کا سب سے بڑا حصہ رہا، جبکہ سماجی خدمات دوسرے نمبر پر رہیں۔اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25میں معاشی خدمات پر 7,798.56 کروڑ خرچ کیے گئے، جبکہ سماجی خدمات پر 3,465.91 کروڑ اور عمومی خدمات پر 795.59 کروڑ خرچ ہوئے۔ قرضہ جات و پیشگیوںکا حصہ محض 15.09 کروڑ رہا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاشی اور سماجی شعبوں پر ہونے والا مجموعی خرچ، جسے ترقیاتی اخراجات تصور کیا جاتا ہے، مالی سال 2024-25میں کل سرمایہ جاتی اخراجات کا 93 فیصد رہا، جو حکومت کی ترقیاتی ترجیحات کو ظاہر کرتا ہے۔31 مارچ 2025 تک حکومت کی مختلف کمپنیوں، کارپوریشنوں اور دیگر اداروں میں کل سرمایہ کاری 605.10 کروڑ روپے رہی، جس میں سرکاری کمپنیوں میں 72.26 کروڑ، کاآپریٹو سوسائٹیوں میں 236.50 کروڑ، قانونی کارپوریشنوںمیں 193.91 کروڑ اور دیہی بینکوں میں 102.43کروڑ روپے شامل ہیں۔اس کے علاوہ سابق ریاست جموں و کشمیر کی جانب سے کی گئی 3,426.75 کروڑ کی سرمایہ کاری ابھی تک جموں و کشمیر اور لداخ کے درمیان تقسیم نہیں کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25میں سرمایہ کاری پر واپسی 130.78 کروڑ روپے رہی، جو کہ محض 3.24 فیصد بنتی ہے۔ گزشتہ5 برسوں کے دوران یہ شرح صفر سے 3.24 فیصد کے درمیان رہی۔اس کے برعکس حکومت کی قرض حاصل کرنے پر سود کی شرح 6.65 فیصد سے 8.82 فیصد کے درمیان رہی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والا منافع قرض کی لاگت سے کہیں کم ہے۔ گزشتہ 5 برسوں میں اس فرق کی مجموعی مالیت 1,883.60 کروڑ ر روپے ہی۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 52 ریاستی پبلک سیکٹر اداروں میں سے صرف ایک ادارے نے 2024-25میں منافع دیا، جبکہ ان اداروں میں کل سرمایہ کاری 4,031.25 کروڑ روپے رہی۔
ڈیویڈنڈ پالیسی کا فقدان
رپورٹ میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ جموں و کشمیر میں سرکاری اداروں کے لیے کوئی باقاعدہ ڈیویڈنڈ پالیسی موجود نہیں ہے۔ اس طرح کی پالیسی منافع بخش اداروں سے کم از کم واپسی کو یقینی بنانے اور مالی نگرانی کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔گزشتہ 2برسوں کے دوران صرف جموں و کشمیر بینک نے حکومت کو ڈیویڈنڈ ادا کیا، جبکہ دیگر کسی ادارے نے کوئی حصہ نہیں دیا۔ اس کے نتیجے میں حکومت کی نان ٹیکس آمدنی متاثر ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے دیے گئے قرضہ جات و پیشگیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ بقایا رقم 2020-21میں 95.51 کروڑ سے بڑھ کر 2024-25میں 246.56 کروڑ تک پہنچ گئی۔تاہم وصولی کی شرح نہایت کم رہی۔ مالی سال 2024-25میں 15.09 کروڑ روپے کے مقابلے میں صرف 0.44 کروڑ روپے کی وصولی ہوئی۔ ان قرضوں پر حاصل ہونے والا سود بھی انتہائی کم رہا، جو 2024-25میں صرف 0.7 کروڑ روپے تھا۔ حکومت کی جانب سے دیے گئے قرضوں پر مؤثر شرح سود محض 0.28 فیصد رہا، جبکہ اسی عرصے میں حکومت کی قرض حاصل کرنے پر سود کی اوسط شرح 8.82 فیصد رہی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قرضوں کی کم وصولی اور کم شرح سود کے باعث مالی دباؤ بڑھ رہا ہے، جس کے لیے بہتر وصولی نظام اور مؤثر مالی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔