دبئی//ٹی 20 ورلڈ کپ کو اتوار کو یہاں ایک نیا چیمپئن ملے گا۔ دراصل یہاں جاری ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ 2021 کے دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں اتوار کو ہونے والے فائنل میں دو ہمسایہ ممالک آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ آمنے سامنے ہوں گے ، اور اگر ان میں سے کوئی جیت جاتا ہے تو ٹی 20ورلڈ کپ کو نیا چیمپئن ملے گا۔ واضح رہے کہ دونوں ٹیمیں آج تک یہ خطاب نہیں جیت سکی ہیں۔ جہاں آسٹریلیا دوسری بار اس ٹورنامنٹ کا فائنل کھیل رہا ہے وہیں نیوزی لینڈ پہلی بار فائنل میں پہنچا ہے ۔ اس سے قبل آسٹریلیا 2010 کے ایڈیشن کے فائنل میں پہنچا تھا جس میں اسے انگلینڈ کے خلاف شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ آئی سی سی ٹورنامنٹس کی کامیاب ترین ٹیم ہونے کے باوجود آسٹریلیا آج تک ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ خطاب اپنے نام نہیں کرسکی ہے لیکن اس بار وہ اسے حاصل کرنے سے صرف ایک قدم دور ہے ۔ دوسری جانب نیوزی لینڈ ہے جو پہلی بار فائنل میں پہنچا ہے ۔ اس سے قبل وہ 2007 اور 2016 کے ایڈیشنز میں سیمی فائنل تک پہنچا تھا لیکن وہ بالترتیب پاکستان اور انگلینڈ سے ہارگیا تھا ۔ تاہم نیوزی لینڈ گزشتہ چند سالوں میں ایک مضبوط ٹیم کے طور پر ابھری ہے ۔خاص طور پر موجودہ سال کی بات کریں تو اس نے مضبوط ٹیم انڈیا کو شکست دے کر آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا خطاب جیتا۔ پہلی آئی سی سی خطاب جیت سے ملے حوصلے کو اس نے موجودہ ٹی 20 عالمی کپ میں بھی برقرار رکھا ہے ۔ اب تک نیوزی لینڈ کی مہم شاندار رہی ہے اور اب وہ ایک اور آئی سی سی ٹائٹل یعنی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ٹائٹل سے صرف ایک جیت دور ہے ۔ یں۔یواین آئی
اتنی دور صرف سیمی فائنل جیتنے کیلئے نہیں آئے :جمی نیشم
دبئی//'ہر گیند پر چھکا لگانے کی کوشش کریں' – یہ جمی نیشم کا منصوبہ تھا جب وہ ڈیرل مشل کا ساتھ دینے کے لیے کریز پر آئے تھے ۔ نیوزی لینڈ کو سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف 29 گیندوں پر 60 رنز درکار تھے ۔ نیشم نے 11 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے گیند کو تین بار میدان سے باہر بھیجا اور ایک چوکا بھی لگایا۔ نیشام نے ان چار گیندوں پر پوری قوت سے حملہ کیا۔ کرس جارڈن کے خلاف ان کا پہلا چھکا بلے پر ٹھیک سے نہ مارنے کے بعد بھی مڈ وکٹ کی باؤنڈری لائن سے باہر چلا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک بار پھر لیگ سائیڈ پرزبردست شاٹ مارا اور ڈیپ مڈ وکٹ اور لانگ آن کے درمیان چوکا لگایا ۔نیشم نے دوبارہ گیند کو سلگ کیا اور ایسا لگ رہا تھا کہ جونی بیئرسٹو نے ڈیپ مڈ وکٹ پر شاندار کیچ لیا تھا لیکن ری پلے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا گھٹنا باؤنڈری سے ٹکرا گیا تھا۔ نیشم نے لیگ اسپنر عادل رشید کے خلاف ہاتھ کھولے اور اپنا تیسرا چھکا مڈ وکٹ کی طرف لگایا۔یواین آئی
ایڈم زمپا مڈل اوورز میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں
دبئی//آسٹریلیا کے گیندباز ایڈم زمبا نے اپنے کنٹرول میں اصلاح کرنے کے لئے گزشتہ 18 مہینے میں تکنیکی تبدیلی کی ہے جس سے بطور گیندباز وہ کامیاب ہوئے ہیں اور 29 سال کی عمر میں اپنے کیریر کے اہم سال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ زمبا نے کہا کہ کچھ تکنیکی چیزیں ہیں جن پر مجھے نظر رکھنا پسند ہے ۔ میں زیادہ نہیں بدلا ہوں لیکن میں بس کوشش کرتا ہوں اور حقیقت میں اس طرف چھوٹا سا قدم اٹھاتا ہوں۔ زمپا نے سیمی فائنل کے 16 ویں اوور میں صرف پانچ سنگلز ہی دیے اور یہ چھ میچوں میں پانچواں موقع تھا جب انہوں نے اپنے چار اوورز میں 24 رنز سے کم دیئے ہیں۔ لیگ اسپن کرکٹ کا دماغ سے کئے جانے والا اہم فن ہے لیکن زمبا کا طریقہ پرسکون اور واضح ہے ۔ ان کے چھوٹے قد کا مطلب ہے کہ وہ گیند کو پچ کے باہر سے اسکڈ کرسکتے ہیں جو ان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے ۔ وہ ایسی لمبائی میں گیندبازی کرتے ہیں جس سے دور جانا مشکل ہے ۔یواین آئی
ٹم سیفرٹ زخمی ڈیون کانوے کی جگہ لے سکتے ہیں:اسٹیڈ
دبئی//سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کو انگلینڈ کے خلاف جیت دلانے میں کئی میچ ونر کا اہم تعاون رہا ہے ۔ٹم ساؤتھی نے انگلش بلے بازوں کو ٹیسٹ کی لائن اور لینتھ کے ساتھ باندھے رکھا، تو ایڈم ملنے نے مڈ آف پر جونی بیرسٹو کا شاندار کیچ لیا۔ لیکن نیوزی لینڈ کو پہلی مرتبہ ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ کے فائنل میں پہنچانے میں جیمس نیشم کی آخری وقت میں جارحانہ اننگز اور ڈیرل مشل کی ذمہ دارانہ بلے بازی کا اہم کردار رہا۔ نیوزی لینڈ کے ہیڈ کوچ گیری ا سٹیڈ نے خاص طور سے ابوظہبی میں مختلف حالات میں اپنی ٹیم کی ذمہ دارانہ اور شکست نہ ماننے والے جذبہ کی جم کر تعریف کی۔ اسٹیڈ نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ سب سے اہم تھا ہمارا ہار نہ ماننے والا جذبہ اور آخری دم تک لڑنا ۔ جیمی نیشم نے جو اننگز کھیلی او قابل تعریف تھی، انہوں نے ہی ہمیں میچ میں واپسی دلائی۔ مشل نے بھی آخر تک کھڑے رہ کر ہماری جیت کو یقینی بنایا، اور یہ دیکھ کر کافی خوشی ہوئی۔ کانوے نے سیمی فائنل میں بھی ایک متاثر کن اننگز کھیلی کیونکہ ابتدائی دھچکے کے بعد انہوں نے اننگز کو آگے بڑھایا اور ایک بنیاد رکھی۔یواین آئی