سرینگر //وادی کشمیر میں اگر چہ 19 مئی کو کئی دن کے بعد دوبارہ کوویڈ مخالف ٹیکے لگوانے کا عمل شروع کیا گیا تھا لیکن یہ برائے نام رہا۔حکام نے اس بات کا دعویٰ کیا تھا کہ 20مئی سے اس کا باضابطہ آغاز کیا جائیگا کیونکہ ہر بدھ کو بچوں کی ایمونائزیشن کا دن ہوتا ہے اسی لئے ٹیکہ کاری باضابط طور پر شروع نہیں ہوسکی۔لیکن جمعرات 20مئی کو بھی کئی ٹیکہ کاری مراکز بدستور بند رہے۔ جمعرات 20مئی کو جموں اور کشمیر میں کل13ہزار 445ٹیکے لگائے گئے ۔ ان میں سے جموں میں10ہزار 578 اور وادی کشمیر میں صرف 2ہزار 864لوگوں کو ٹیکے لگوائے گئے۔یہ جموں میں78 فیصد شرح بنتی ہے جبکہ کشمیر میں محض 22 فیصد کو ہی ٹیکے لگائے گئے ہیں۔یاد رہے کہ19 مئی کو سرکاری اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ جموں کشمیر میں کل 7611 ٹیکے لگائے گئے جس میں سے کشمیر میں صرف 556 اور جموں صوبہ میں 7055 ٹیکے لگائے گئے۔گذشتہ روزصدر اسپتال سرینگر میں صرف 200 کے قریب ٹیکے لگائے گئے اور باقی ٹیکے لگانے کے مرکز تقریباً بند رہے۔ صدر اسپتال کے نوڈل افسر ڈاکٹر وسیم کے مطابق انہیں صرف 200 ٹیکے فراہم کئے گئے تھے۔ جموں کشمیر میں ٹیکہ کاری کے عمل کو لیکر جموں اور کشمیر کے درمیان انتظامی سطح پرامتیاز برتنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کشمیر وادی میں پچھلے ایک ہفتے کے دوران کووڈی ٹیکہ کاری بند رہی جبکہ جموں میں ٹیکے لگوانے کا عمل جاری رہا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 12 مئی سے 18مئی تک جموں کشمیر میں کل 53ہزار 659 ٹیکے لگائے گئے جن میں سے جموں صوبہ میں 52ہزار 116 اور کشمیر میں محض 1 ہزار 543 ٹیکے لگائے گئے۔اس طرح پچھلے ایک ہفتے میں کووڈ ٹیکوں کا 97.2 فیصد جموں صوبہ میں لگوایا گیا۔ اس معاملے کو لیکر انتظامیہ پر ٹیکوں کی تقسیم پر کئی سوال اٹھائے گئے ہیں۔کوویڈ کی صورتحال پر نظر رکھنے کیلئے مامور سرکاری افسران اور نوڈل آفیسر یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ کشمیر میں زیادہ کوویڈ مثبت کیس پائے جانے کے باوجود 45 سال سے زائد شہریوں کی مجموعی طور پر صرف 61 فیصد ٹیکہ کاری کیوں ہوئی ہے جبکہ جموں صوبہ میں یہ 88 فیصدہے۔اس تناظر میں اگر سرینگر اور جموں اضلاع کا تجزیہ کیا جائے تو یہاںیہ تفریق اور زیادہ دکھائی دے رہا ہے۔ جموں ضلع میں 100 فیصد یعنی 5 لاکھ 70 ہزار 362 افراد کی کووڈ مخالف ٹیکہ کاری کی گئی ہے جب کہ سرینگر ضلع میں 1 لاکھ 98 ہزار 22 افراد، یعنی صرف 35.5 فیصد افراد کو ویکسین دیئے گئے ہیں۔واضح رہے کہ جموں کشمیر میں 13 مئی سے 19 مئی کے دوران 388 اموات واقع ہوئیں جن میں سے سب سے زیادہ 239 جموں اور کشمیر وادی میں 149 اموات واقع ہوئی ہیں۔