سنگاپور// شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ کم جونگ-ان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے منگل کو ہونے والی ملاقات میں ’مستقل امن کے طریق? کار‘ پر بات کریں گے۔ملاقات سے ایک دن قبل ملک کے سرکاری ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے بیانات سے اس بات کے امکانات بڑھ گئے ہیں کہ شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان ’ایک نئے تعلق کا آغاز‘ ہو سکتا ہے۔دونوں ممالک کے سربراہان اس تاریخی ملاقات کے لیے سنگاپور پہنچ چکے ہیں۔اس ملاقات کے بارے میں کم جونگ-ان کا کہنا ہے کہ ’پوری دنیا دیکھ رہی ہے‘، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اس سربراہ ملاقات کے بارے میں اچھا محسوس کر رہے ہیں۔پیر کی صبح اس سلسلے میں ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ سنگاپور میں ’ماحول میں جوش و خروش ہے۔‘امریکہ چاہتا ہے کہ شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیار ختم کر دے، لیکن یہ واضح نہیں کہ اس کے بدلے میں شمالی کوریا کیا مطالبہ کرتا ہے۔ جنوبی کوریا کے صدر مون جائے ان کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس ایک طویل مرحلے کی ابتدا ہے۔دونوں سربراہان الگ الگ ہوٹلوں میں ٹھہرے ہیں جو زیادہ دور نہیں ہیں۔ شمالی کوریا کے سربراہ سنگاپور کے فائیو سٹار ہوٹل سینٹ ریگس میں قیام پذیر ہیں جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نصف میل کی دوری پر شنگریلا میں رکے ہیں۔کم جونگ ان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان یہ تاریخی ملاقات تفریحی جزیرے سینٹوسا پر ہو گی۔شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے سی این اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنما جزیرہ نما کوریا کے لیے ’امن کے مستقل اور دیرپا طریق? کار‘ پر بات کریں گے۔ جزیرہ نما کوریا میں ’جوہری ہتھیاروں کی تخفیف‘ اور مشترکہ مسائل پر بھی بات ہوگی۔جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے یونہاپ نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے سینیئر سفارتکار پیر کو ملاقات کریں گے تاکہ ایک معاہدے کا مسودہ اپنے اپنے رہنماؤں کو پیش کر سکیں۔شمالی کوریا کے کم جونگ ان امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ سنگاپور میں مذاکراتی میز پر بیٹھیں گے۔شمالی کوریا میں سرکاری میڈیا عموماً اپنے رہنما کے دوروں پر تبصرے نہیں کرتا تاہم اس مرتبہ اخبار روڈونگ سنمن میں شائع ہونے والے اداریے میں کہا گیا ہے کہ ’ہم نئے دور کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایک نیا تعلق قائم کریں گے۔‘اداریے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’جزیرہ نما کوریا میں ایک مستقل اور پرامن حکومت کے قیام، مشترکہ خدشات کے حل بشمول جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے معاملے پر وسیع تر اور عمیق بات چیت ہو گی۔‘اخبار کا کہنا ہے کہ ’اگر ماضی میں کسی ملک سے ہمارے تعلقات مخاصمانہ رہے بھی ہیں تو ہمارہ رویہ یہی ہے کہ اگر وہ قوم ہماری خودمختاری کا احترام کرتی ہے تو ہم بات چیت کے ذریعے حالات معمول پر لانے کی کوشش کریں گے۔‘کئی دہائیوں تک امریکہ صریح دشمن تھا۔یہاں تک کہ پیانگ یانگ میں امریکہ مخالف میوزیم بھی ہے۔ لیکن ریاست اب عوام کو اس ملک سے مذاکرات کا آئیڈیا فروخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جنھیں کبھی وہ تمام برائیوں کا مرکز اور شیطانوں کی سلطنت کہتے تھے۔اس اجلاس کے لیے استعمال کی جانے والی اہم اصطلاحات کا جائزہ لیتے ہیں۔اس اجلاس کو عوام میں یہ کہہ کر فروخت کیا جا رہا ہے کہ یہ 'کوریائی خطے میں جوہری عدم پھیلاؤ اور بدلتے وقت کے تقاضوں کے مطابق باہمی خدشات کے مسائل کے ادارک کا موقع دے رہا ہے۔''بدلا ہوا دور ' یہ اہم ہے۔ شمالی کوریا نے کئی دہائیاں جوہری ہتھیار بنانے پر صرف کر دیں۔ کم جونگ اْن کو عوام کو بتانا پڑے گا کہ وہ کیوں مذاکرات کر رہے ہیں۔'سالِ نو پر اْن کا خطاب ہی سفارتی تعالقات کے آغاز کا عندیہ دے رہا تھا۔ خطاب جوہری طاقت بننے کی خواہش کو حدف بناتے ہوئے کوریائی معیشت کی بہتری کی حکمتِ عملی کے بارے میں تھی۔اخبارات میں اس طرح کے صفحات کافی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ یہ ریاستی پیغام کو تبدیل کرنے کے لیے راسہ ہموار کرے گی۔ اس سے وہ بھی مستفید ہوں گے جو اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ اس وقت شمالی کوریا کے لیے چیزیں مختلف ہیں۔امریکی صدر کینیڈا میں جاری جی سیون سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد ایئر فورس ون پر اتوار کو سوار ہو کر سنگاپور ہہنچے۔جیسے ہی وہ اپنے طیارے سے باہر آئے تو ان کا استقبال سنگاپور کے وزیر خارجہ ویوین بالاکرشن نے کیا۔دوسری جانب کم جونگ ان چین سے حاصل کردہ طیارے پر وزیر خارجہ ری یونگ ہو، وزیر دفاع کوانگ چول اور اپنی بہن کم یو جونگ کے ہمراہ پہنچے۔کم جونگ ان مرسڈیز بینز لیموزین میں 20 گاڑیوں کے کانوائے کے ساتھ شہر میں داخل ہوئے۔بعد میں انھوں نے سنگاپور کے وزیراعظم لی ہیسن لونگ سے ملاقات کی اور ان کی میزبانی پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا: ’اگر سنگاپور میں منگل کو ملاقات کامیاب رہی تو تاریخ سنگاپور کی کوششیں تاریخ میں لکھی جائیں گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی کِم جونگ اْن سے ملاقات کے ’’بہت اچھے‘‘ نتیجے کی پیشین گوئی
سنگاپور// امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے ساتھ ’’ بہت اچھے طریقے‘‘ سے معاملات طے پاسکتے ہیں۔انھوں نے سوموار کو یہ بات شمالی کوریا کے لیڈر کِم جونگ اْن سے ملاقات سے ایک روز قبل کہی ہے۔انھوں نے سنگاپور کے وزیراعظم لی شیان لونگ کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے کے موقع پر کِم جونگ اْن سے منگل کو ہونے والی بات چیت کے بارے میں خوش اْمیدی کا اظہار کیا ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا:’’ ہم کل ایک بہت دلچسپ ملاقات کرنے جارہے ہیں اور میرے خیال میں معاملات بہت اچھے طریقے سے طے پاسکتے ہیں‘‘۔ انھوں نے میزبان وزیراعظم لی شیان سے مخاطب ہوکر کہا کہ سنگاپور میں ملاقات کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے۔انھوں نے لی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم آپ کی میزبانی ، پیشہ واریت اور دوستی کو سراہتے ہیں‘‘۔شمالی کوریا کے لیڈر کِم جونگ اْن بھی گذشتہ کل سے سنگاپور میں ہیں۔دونوں لیڈروں کے درمیان سنگاپور کی بندرگاہ کے ایک ریزارٹ آئلینڈ سینٹوسا میں واقع ہوٹل کاپیلا میں مقامی وقت کے مطابق کل صبح نو بجے ملاقات شروع ہوگی۔اس طرح وہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے حوالے سیایک نئی تاریخ رقم کریں گے۔اس ملاقات کے حوالے سے بہت سی توقعات وابستہ کی جارہی ہیں اور اگر دونوں لیڈروں کے درمیان جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک بنانے کے لیے کوئی سمجھوتا طے پاجاتا ہے تو اس سے امریکا کی اپنے ایک سخت حریف ملک شمالی کوریا سے دشمنی کے خاتمے اور دوستی کی راہ ہوجائے گی۔