عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر//پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی صدر محبوبہ مفتی نے جمعہ کو کہا کہ شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی بندش بظاہر پہلے سے منصوبہ بند تھی، اور اس فیصلے نے ایک خطرناک مثال قائم کی ہے جس کے برے نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ میڈیکل کالج کی منسوخی کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک شام عمر عبداللہ نے کہا کہ کالج کو بند کیا جانا چاہیے، اور اگلے ہی دن اسے بند کر دیا گیا۔ یہ محض اتفاق نہیں لگتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات خوف اور غیر یقینی کی فضا پیدا کرتے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اس فیصلے سے ملک کے دیگر حصوں میں انتہا پسند عناصر کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے۔
محبوبہ نے کہا کہ کل کو ملک کے کسی بھی حصے میں کوئی دائیں بازو کی تنظیم احتجاج کر کے کشمیر سے مسلم طلبہ کو نکالنے کا مطالبہ کر سکتی ہے۔محبوبہ کا کہنا تھا کہ یہ ایک روایت بن جائے گی ۔ جموں و کشمیر کو ایک تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، اور جو کچھ یہاں آزمایا جاتا ہے، بعد میں اسے ملک کے دیگر حصوں میں دہرایا جاتا ہے۔ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو ’’شیرنی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی سربراہ نہایت بہادر ہیں اور وہ ہتھیار نہیں ڈالیں گی۔محبوبہ مفتی نے یہ ردِعمل جمعرات کو کولکاتا میں سیاسی مشاورتی ادارے آئی-پی اے سی کے دفتر اور اس کے ڈائریکٹر پرتیک جین کی رہائش گاہ پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے کی گئی تلاشیوں پر دیا۔ ان کارروائیوں کے بعد ہائی ڈراما دیکھنے میں آیا جب وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی خود چھاپے کی جگہ پہنچ گئیں اور الزام عائد کیا کہ مرکزی ایجنسی ریاستی انتخابات سے قبل ٹی ایم سی کا حساس ڈیٹا ضبط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ای ڈی یا دیگر تفتیشی ایجنسیوں کی جانب سے چھاپے اب ایک معمول کی بات بن چکے ہیں، ’’اب پورا ملک اس کا ذائقہ چکھ رہا ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا، ’’جب آرٹیکل 370 منسوخ کیا گیا، جب چھاپے پڑے اور جب تین وزرائے اعلیٰ کو جیل میں ڈالاگیا تو بیشتر سیاسی جماعتیں خاموش رہیں۔ اب یہی سب کچھ ملک بھر میں دیکھا جا رہا ہے۔‘‘پی ڈی پی سربراہ نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد اپنی، فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کی نظربندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے امید ہے کہ ممتا بنرجی بہت بہادر ہیں، وہ ایک شیرنی ہیں اور وہ مؤثر انداز میں مقابلہ کریں گی اور ہتھیار نہیں ڈالیں گی۔‘‘