سرحدی علاقوں کا دورہ کرنے کے علاوہ تشدد متاثرین میں تقررنامے بھی تقسیم کرینگے
جموں// مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ جمعرات کی دیر شام جموںوکشمیر کے تین روزہ دورے پر جموں پہنچ گئے ۔جموں ٹیکنیکل ایئرپورٹ پر اُن کا استقبال لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا،وزیراعلیٰ عمر عبداللہ ،اعلیٰ سیول و پولیس افسران اور بی جے پی کی مقامی قیادت نے ۔ایئرپورٹ سے وزیر داخلہ سیدھے لوک بھون جمو ں روانہ ہوگئے جہاں انہوںنے رات کوقیام کیا ۔وزیر داخلہ امت شاہ آج یعنی جمعہ کی صبح گیارہ بجے سرحدی علاقوں میں بعض پوسٹوں کے دورہ کریںگے۔عہدیداروں کے مطابق وزیر داخلہ بارڈر آؤٹ پوسٹ (بی او پی) گرنام کا معائنہ کریں گے اور بعد ازاں بی او پی بوبیا میں سکیورٹی اہلکاروں کی سہولیات اور فلاح و بہبود کے لیے چھ فلاحی اسکیموں کا آغاز کریں گے۔ذرائع کے مطابق واپسی کے فوراً بعد وہ اڑھائی بجے لوک بھون جموں میں انسدادملی ٹینسی کارروائیوں کے دورانمارے جانے والے اہلکاروں کے لواحقین میں تقررنامےبھی تقسیم کریں گے۔وہ جموں کے لوک بھون میں ان سکیورٹی اہلکاروں کے اہلِ خانہ سے بھی ملاقات کریں گے جنہوں نے دورانِ ڈیوٹی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اس موقع پر وہ مہلوکین کو خراجِ عقیدت پیش کریں گے اور ان کے لواحقین سے بات چیت کریں گے۔
عہدیداروں نے بتایا کہ کل ہی سہ پہرتین بجے امت شاہ ایک علیحدہ سطحی سیکورٹی جائزہ اجلاس کی صدارت کریں گے ۔سکیورٹی اداروں کے اعلیٰ عہدیداروں کے مطابق جمعہ کی سہ پہرمنعقد ہونے والا یہ اجلاس ایک نہایت اہم وقت پر ہو رہا ہے، کیونکہ موسمِ گرما کے دوران بالائی علاقوں میں نقل و حرکت بڑھ جاتی ہے اور دراندازی و ملی ٹینٹ سرگرمیوں کے خدشات میں اضافہ ہوتا ہے۔ایک سینئر سکیورٹی عہدیدار نے کہا’’موسمِ گرما ہمیشہ سکیورٹی کے نقطۂ نظر سے حساس رہا ہے۔ وزیر داخلہ تیاریوں کا جائزہ لیں گے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے واضح ہدایات دیں گے کہ کسی بھی سطح پر آپریشنل خلا نہ رہے‘‘۔اجلاس میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، چیف سیکریٹری، جنرل آفیسر کمانڈنگ شمالی کمانڈ، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس، ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو، مختلف نیم فوجی دستوں کے سربراہان، اے ڈی جی پی سی آئی ڈی جموں و کشمیر اور دیگر سینئر سول و سکیورٹی عہدیدار شرکت کریں گے۔عہدیداروں کے مطابق امت شاہ جموں خطے میں جاری انسدادِملی ٹینسی کارروائیوں کا جامع جائزہ لیں گے، بالخصوص کشتواڑ، ڈوڈہ، راجوری اور پونچھ جیسے اضلاع میں، جہاں سکیورٹی فورسز گھنے جنگلات اور پہاڑی علاقوں میں چھپے ملی ٹینٹوں کے خلاف مسلسل تلاشی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ایک عہدیدار نے کہا’’دراندازی کے راستوں کو بند کرنے، ملی ٹینٹ ماڈیولز کو ختم کرنے اور فوج، پولیس، سی آر پی ایف اور خفیہ ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ وزیر داخلہ ملی ٹینسی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر مسلسل زور دیتے رہے ہیں اور یہی نقطۂ نظر اجلاس کی رہنمائی کرے گا‘‘۔کاؤنٹر ٹیررزم ڈھانچے کو مضبوط بنانا بھی ایجنڈے کا ایک اہم حصہ ہوگا، جس کے تحت انٹیلی جنس شیئرنگ کے نظام، تکنیکی نگرانی، ایریا ڈومینیشن منصوبوں اور ملی ٹینسی کی فنڈنگ و لاجسٹکس نیٹ ورکس کو توڑنے کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔ایک اور سینئر عہدیدار نے کہا’’اجلاس میں سکیورٹی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے اور آپریشنل کارکردگی میں اضافے پر توجہ دی جائے گی تاکہ ملی ٹینسی اور دراندازی جیسے مسلسل چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
جموں و کشمیر کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، حالیہ واقعات، ابھرتے خطرات اور امن و استحکام برقرار رکھنے میں پیش رفت کا جامع جائزہ لیا جائے گا‘‘۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں جاری انسدادِملی ٹینسی کارروائیوں، ملی ٹینٹ ماڈیولز کی بیخ کنی اور ملی ٹینسی کے مکمل خاتمے کی کوششوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا اور حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی کو ایک بار پھر دوہرایا جائے گا۔اجلاس کا ایک اور اہم پہلو منشیات کے مسئلے پر ہوگا، جسے عہدیدار قانون و نظم کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کا بھی بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔ایک سینئر پولیس افسر نے کہا’’منشیات کی اسمگلنگ تیزی سے ملی ٹینسی کی مالی معاونت اور خاص طور پر نوجوانوں میں سماجی تانے بانے کو تباہ کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ وزیر داخلہ نفاذی کارروائیوں کا جائزہ لیں گے اور منشیات کے نیٹ ورکس کے خلاف مزید جارحانہ، انٹیلی جنس پر مبنی حکمتِ عملی کی ہدایات دیں گے‘‘۔عہدیداروں نے بتایا کہ امت شاہ جموں خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا بھی جائزہ لیں گے، جس میں حالیہ واقعات، اسلحہ اور گولہ بارود کی برآمدگی، اور ولیج ڈیفنس گارڈز (وی ڈی جیز) اور دیگر کمیونٹی پر مبنی سکیورٹی اقدامات کی مؤثریت شامل ہوگی۔ایک اور عہدیدار نے کہا’’مقصد یہ ہے کہ خطرات کے سامنے آنے سے پہلے ہی ان سے نمٹا جائے، نہ کہ صرف واقعات کے بعد ردِعمل دیا جائے۔ یہ جائزہ اجلاس موسمِ گرما سے قبل حکمتِ عملی کو مزید مؤثر بنانے اور یہ واضح پیغام دینے میں مدد دے گا کہ سکیورٹی گرڈ پوری طرح مستعد اور متحرک ہے‘‘۔اجلاس کے اختتام پر سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے، اداروں کے درمیان ہم آہنگی بہتر کرنے اور دہشت گرد و مجرمانہ نیٹ ورکس کے خلاف مسلسل دباؤ برقرار رکھنے کے لیے عملی ہدایات جاری کیے جانے کی توقع ہے۔
ذرائع نے مزید کہا’’سنیچر 7فروری کو مرکزی وزیر داخلہ صبح 10:30بجے جموں کے لوک بھون میں جموں و کشمیر کی ترقی سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کریں گے، جس میں مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں اہم ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت اور مستقبل کے منصوبوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ وہ ہفتہ کی دوپہر نئی دہلی روانہ ہوں گے ‘‘۔