وزیر اعظم مودی نے گزشتہ ہفتے 23اور 24 ستمبر کو بالترتیب امریکی کی نائب صدر کملا ہیرس اور امریکہ کے صدر جوبائیڈن سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا محور باہمی تعلقات اور موضوعات رہے اور ساتھ ہی صدر بائیڈن نے AUKUS کے معاملے پر امریکی موقف کو واضح کرایا۔ اس دورے کے دوران اعلیٰ امریکی حکام AUKUS اور QUAD کے درمیان نمایاں فرق بتانے کی کاوشوں میں لگاتار کام کرتے رہے۔
دراصل ہند۔بحرالکاہل کے علاقے سے متعلق ایک نئے دفاعی معاہدے کا اعلان کرکے امریکہ نے ایک مرتبہ پھر دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ وہ موجودہ دور کی واحد سپرپاور ہے اور اسے دنیا کے کسی بھی خطے میں دخل اندازی کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس مہینے کی 15 تاریخ کو امریکہ نے AUKUS نامی ایک نئے دفاعی معاہدے کا اعلان کرکے پوری دنیا کو چونکا دیا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تھی کہ امریکہ پہلے ہی ہند۔بحرالکاہل میں چینی جارحیت اور دفاعی منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لیے QUAD نامی دفاعی معاہدے سے بندھا ہوا ہے۔ دوسرے یہ کہ AUKUS اور QUAD دونوں میں ہی آسٹریلیا اور امریکہ شامہ ہیں، تو پھر اس نئے معاہدے کا اعلان کرنے کے کیا معنیٰ ہیں؟
آئیے سب سے پہلے AUKUS کی تفصیل جانتے ہیں۔ AUKUSتین ملکوں کے نام کے پہلے حرف کو شامل کرکے بنا ہے۔ یہ تین ملک ہیں : آسٹریلیا، یو کے اور یو ایس۔ ان تین میں سے دو یعنی آسٹریلیا اور امریکہ پہلے سے ہی چار رکنی QUADکے ممبر ہیں۔ QUADکا لفظ پہلی مرتبہ 2004میں رونما ہونے والی سونامی کے بعد استعمال میں آیا تھا۔ جس کے ذریعہ راحت رسانی کا کام اس خطے میں کیا جاسکے۔ بعد میں امریکی نائب صدر ڈک چینی نے اسے فوجی اصطلاح کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا، تاکہ خطے میں چین کے اثرات کا مؤثر طریقے سے جواب دیا جاسکے۔ 2010 تک QUAD ایک غیر ضروری تنظیم کے طور پر قائم رہی۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے 2017میں دوبارہ اس تنظیم کا احیا کرنے کی کوشش کی کیونکہ چین South China Seaیعنی جنوبی چینی سمندر کے علاقہ میں جاپان اور امریکہ کے لیے مسلسل چیلنج بنتا چلا جارہا تھا اور اس علاقے میں واقع چھوٹے جزیروں پر ان کی دفاعی اہمیت کی وجہ سے اپنی بالادستی ثابت کرنا چاہتا تھا۔ ٹرمپ کی زیرِ قیادت امریکہ QUADکو ایشیائی ناٹو کی شکل دینا چاہتا تھا تاکہ خطے میں چین کی جانب سے بار بار ہونے والی جارحیت کا دفاعی طور پر مقابلہ کیا جاسکے۔
واضح رہے کہ باضابطہ طور پر AUKUSکا کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے بلکہ صرف وہائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایک اعلامیہ میں اس اتحاد کی تفصیلات مہیا کرائی گئی ہیں کہ اسے ہند- بحرالکاہلی خطے میں امن اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ AUKUSکا سب سے بڑا فائدہ آسٹریلیا کو ملے گا کیونکہ معاہدے کے مطابق امریکہ، آسٹریلیا کو تقریباً 60جوہری سمندری آب دوز مہیا کرائے گا، اس سودے کی کل مالیت تقریباً66کروڑ ڈالر ہے۔اس کے علاوہ امریکہ پہلی مرتبہ کسی دوسرے ملک کے ساتھ اپنی جوہری ٹیکنالوجی کا بھی تبادلہ کرے گا۔
عالمی برادری کا ردِ عمل :
AUKUSکے خلاف سب سے زیادہ احتجاج فرانس نے ظاہر کیا ہے کیونکہ فرانس اور آسٹریلیا کے درمیان ڈیزل آبدوز مہیا کرانے کا ایک معاہدہ جو کہ تقریباً 37کروڑ ڈالر کا تھا، اسے منسوخ کردیا گیا ہے اور اب برطانیہ، آسٹریلیا کو یہ آبدوز بنانے اور مہیا کرانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ان میں سے بیشتر آبدوز برطانیہ میں بنائی جائیں گی اور ٹیکنالوجی امریکہ مہیا کرائے گا۔
فرانس کے وزیر خارجہ لاڈ رائین نے گزشتہ جولائی میں اپنے امریکی دورے کے دوران صدر بائیڈن اور اعلیٰ امریکی دفاعی حکام کوIndo-Pacific کی دفاعی صورتِ حال کے تئیں فرانس کے اندیشوں سے آگاہ اور خطے کیے لیے فرانس کی حکمت عملی سے واقف کرایا تھا۔ اس کے علاوہ فرانس کے وزیر دفاع نے اس مہینے کے اوائل میں اپنے آسٹریلیائی ہم منصب سے ملاقات کی تھی اور اس وقت بھی فرانس کو اس معاہدے کی بابت کوئی بھنک نہیں دی گئی تھی۔ جبکہ وہائٹ ہاؤس کے اعلامیہ میںکہا گیا ہے کہ اس معاہدے کے سلسلے میں عملی بات چیت 2020سے ہی شروع ہوگئی تھی۔ وزیر خارجہ ڈرائین نے اسے آسٹریلیا اور امریکہ دونوں کی جانب سے پیٹھ میں جھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے اور آسٹریلیا اور امریکہ سے اپنے سفیر واپس بلا لیے ہیں۔
اس کے علاوہ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنیڈا ارڈن نے اسے بالکل غیر ضروری قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان آبدوزوں کو نیوزی لینڈ کی سمندری حدود میں قطعی طور پر داخل نہیں ہونے دیں گے۔ نیوزی لینڈ کا یہ دیرینہ موقف رہا ہے کہ تمام جوہری اصلاح اور دفاعی سازوسامان جن میں جوہری توانائی کا استعمال ہوتا ہے، انھیں بالکل ختم کردینا چاہیے۔
یورپی یونین (EU)کے خارجی امور کے سفیر جوزف بوریل نے کہا ہے کہ ان تینوں ممالک نے EU کو بالکل اندھیرے میں رکھا، جب کہ انھیں معلوم تھا کہ 17 ستمبر کو ای یو Indo-Pacificکے ضمن میں اپنی نئی دفاعی حکمت عملی کا اعلان کرنے والا ہے تو اس سے صرف ایک دن قبل یعنی 15ستمبر کو یہ اعلان کرکے ان تینوں ممالک نے EU کے لیے اپنے نظریہ کو عام کردیا ہے کہ وہ جب چاہیں ای یو کا استعمال کرسکتے ہیں، صرف اپنے فائدے کے لیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس اعلان سے امریکہ نے یہ بالکل واضح کردیا ہے کہ وہ یورپی ممالک کے ساتھ مل کر چلنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
چین کا ردِ عمل :
چین کے صدر زی جنگ پن نے اسے خطے میں باہری طاقتوں کی دخل اندازی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ خطے کے تمام ممالک کو اپنی ترقی اور فلاح و بہبود کو اپنے طور پر نافذ کرنا چاہیے ناکہ اس کے لیے خطے سے باہر کے ملکوں سے مدد حاصل کرنا چاہیے۔ چین کے اخبار گلوبل ٹائمز نے آسٹریلیا کو امریکی مہرہ قرار دیا ہے اور کہا کہ ان معاہدوں کے ذریعے امریکہ دوبارہ سرد جنگ کی شروعات کرنا چاہتا ہے اور اگر خطے میں بدامنی کی شروعات ہوتی ہے تو آسٹریلیا اس کا سب سے بڑا شکار بنے گا۔
آسٹریلیا کا موقف :
اپنے اور اپنی حکومت کے دفاع میں آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ موریسن کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے خطے کی بدلتی ہوئی دفاعی صورت حال کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا ہے۔ جہاں پر کہ علاقائی تناز عات بڑھتے جارہے ہیں، ساتھ ہی دفاعی منظر نامہ بہت جلد تبدیل ہورہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ انھیں چین کی جوہری صلاحیت کی بابت تمام تفصیلات معلوم ہیں اور جس طرح چین خطے میں اپنی جارحیت کو جاری رکھے ہوئے ہے اس کا کوئی مؤثر جواب اور اس سے نپٹنے کے لیے کسی حکمت عملی کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آسٹریلیا کے ہم سایہ ممالک نے بھی اس کے اس فیصلے کی تائید کی ہے۔
ہندوستان کہاں ہے؟ :
اس پورے قضیہ میں جو ملک سرِ دست غائب ہے وہ ہے ہندوستان۔ ابھی تک ہندوستانی حکام کی جانب سے AUKUSپر کوئی بھی ردِ عمل نہیں آیا ہے۔ دفاعی تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ AUKUSکے بعد ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کی ترجیح جنوبی چینی سمندر ہے ناکہ شمالی چینی سمندر یا انڈین اوشین اس کے علاوہ علاقائی سطح پر بھی ہندوستان کو اپنے ہم سایہ ممالک کے ساتھ اکیلے ہی نپٹنا ہوگا۔
مجموعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ AUKUS کا سب سے بڑا فائدہ برطانیہ کی بحری صنعت کو ہوگا۔ کیونکہ اپنی ملاقاتوں کے دوران بھی وزیر اعظم مودی نے امریکہ کے ساتھ باہمی تعلقات، تجارت،ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی تبدیلی کی بابت بات کری، اس کے علاوہ انھوں نے ڈرون بنانے والی سب سے بڑی کمپنی General Atomics کے سربراہ سے 30ڈرون خریدنے کی بابت بات چیت کی۔ دونوں سیاست دانوں اور اعلیٰ حکام کی بات چیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ QUAD کو تجارت، تعلیم، سائنس اینڈ ٹکنالوجی کے شعبوں پر مرکوز کرے گااور AUKUSکے ذریعے جنوبی چینی سمندر میں اپنے اور اپنے اتحادی ملکوں کے دفاع کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گا۔
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ۔ ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز ،دبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔)
www.asad-mirza.blogspot.com
�������