بھائیو اور بہنو ! میں آپ کے سامنے آج آیا ہوں تاکہ کچھ دیروارتا لاب کر سکوں ۔ ویسے تو میں پچھلے پانچ سال سے من کی بات ریڈیو پر کہہ کر آپ کو سناتا رہا ہوں۔مانا کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ کبھی بھی جن کی بات ثابت نہیں ہو سکی، اس لئے مجھے سامنے آنا پڑا ۔میں نے تو ان پانچ برسوں میں پتر کاروں کو بھی انٹرویو کے لئے تڑپایا پرنتو ان کو انٹرویو دیا جنہوں نے مجھے آرمب میں ہی پرشن پتر حوالے کیا تھا۔کیا کریں میں اب بھی نہ آتا لیکن چنائو ہے۔اور کسے نہیں معلوم چنائو ہے تو تنائو ہے ۔تنائو ملک میں ہی نہیں بلکہ ہمارے دماغ میں بھی ہے کہ کہیں آپ لوگوں کو میرا بھاشن نہ بھائے ، مجھے ووٹ نہ دے کر فقیر بنائیں گے کہ جھولا اُٹھاکربھاگنا ہو گا،مگر جاؤں تو جاؤں کہاں۔میں نے پانچ سال پہلے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ میں سب کا ساتھ سب کا وکاس رائج کردوں گا ۔میں نے وہ کام کردیا ۔یقین نہ آئے تو میرے پریہ مِتر امت شاہ کے سپتر جے شاہ کو دیکھئے کہ پچاس ہزار سے شروع کی گئی کمپنی اسی کروڑ تک پہنچ گئی۔اڈانی گروپ اور امبانی گروپ نے دن رات اس قدر وکاس کیا کہ وہ دن دوگنی رات چوگنی والا محاورہ بالکل بچہ دِکھ رہا ہے کیونکہ اڈانی کو ٹھیکے میں ائر پورٹ ملے اور فرانس سے خریدے گئے جنگی جہازوں کی کھیپ ابھی ہوائی سینا کو تو نہیں ملی لیکن چھوٹے امبانی کو تیس ہزار کروڑ کی دولت نصیب ہوئی۔اور تو اور جموں و کشمیر سرکار نے بھی امبانی گروپ کو ہیلتھ انشورنس کا عطیہ گفٹ میں دے دیا۔میں نے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ جس قدر دولت بیرونی بنکوں میں کالا دھن جمع کی گیا ہے وہ میں واپس لے کر آکر آئوں گا اور جب یہ پیسہ واپس ملک میں لایا جائے تو ہر ایک ناگرک کے بنک کھاتے میں پندرہ پندرہ لاکھ روپے جمع ہوں گے۔آپ کیا سوچتے ہیں میں جو ہر مہینے کسی نہ کسی بدیشی ملک کے دورے پر جاتا، فقط گھومنے گھامنے اور عیش کرنے جاتا تھا۔میں نے ہر ملک میں بڑی بڑی صندوقیں تیار کروائی ہیں تاکہ ان ممالک میں چھپی بھارتی دھن دولت کو واپس ملک لانے میں آسانی ہو۔آپ یقین رکھیں کہ وہ دولت بہت جلد آپ کے بنک کھاتوں میں جمع ہو گی ۔اسی لئے میں نے عام لوگوں کے جن دھن کھاتے کھلوانے میںبلٹ ٹرین جیسی تیزی لائی تاکہ کوئی بھی اس دولت سے محروم نہ رہہ جائے۔ہاں، اس بیچ جب میں ملک سے باہر تھا تو بعض لوگ میری غیر موجودگی کا فائدہ اٹھا کر مزید دولت اٹھا کر ملک سے نکل گئے ۔ اپنی غیر موجودگی کے دوران میں نے راج ناتھ اور جیٹلی جیسے لوگوں کو ملک پر نظر رکھنے کے لئے کہا تھا لیکن مودی نام سے وہ لوگ گھبر اگئے اور یہ سوچ کر کہ نیرو جیسے لوگ مودی قبیلے کے ہی ہیں وہ تھوڑا سست پڑ گئے اور دولت کی مزید چوری ہو گئی ۔لیکن نیرو مودی ، وجے مالیا ، مکل چوکسی للت مودی وغیرہ جو دولت لے کر مفرور ہوئے ہیں وہ بھی صندقوں میں بھر کر واپس آئے گی اور مزید پیسہ آپ کے اکاونٹ میں جمع ہو گا ۔ آرمب دور میں ہی میں نے نوٹ بندی کا اعلان کردیا اور ملک کی مہیلائوں نے جو پیسہ پتی دیوؤں کے پیٹھ پیچھے جمع کر رکھا تھا، وہ سامنے آگیا ۔ مطلب صاف ہے کہ ہم نے مہیلائوں کے چھپے کھاتوں پر سرجیکل اسٹرائک کرکے ان کا کالا دھن سامنے لایا ؎
ارے دلکش اس چائے والے کو تو سمجھائو
غریبو ں کی کمائی کو بھی کالا دھن سمجھتا ہے
یہ نہ سمجھیں کہ اس سے عام لوگوں کو تکالیف اٹھانی پڑیں بلکہ خاص لوگوں کو بہت فائدہ ہوا ۔ ان میں بھاجپا سے وابستہ لوگ اور خاص کر امت شاہ شامل ہیں ۔ان بنکوں میں ہزار ہا کروڑ جمع ہو گئے جن کا تعلق امت شاہ سے ہے۔چلو آپ کو قطاروں میں رہ کر مصیبت سے دوچار ہونا پڑا لیکن کسی کو تو فائدہ ہوا اور وہ آپ کی اپنی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی ہے۔ تھوڑی سی تکلیف سے آ پ لوگ نہیں گھبرائے کہ فوجی لوگ تو اتنی تکالیف اُٹھا کر سرحدوں پر نگرانی کرتے ہیں۔ودیشی ممالک کے دوروں پر میں نے بچپن کی اس دوستی کو پھر سے زندہ کردیا جو میری امریکی صدر اوباما سے تھی۔ہم بچپن میں ایک ساتھ گلی ڈنڈا کھیلتے، میوہ دارپیڑوں پر چوریاں کرتے ،اس لئے تو اور تاڑی جیسے الفاظ استعمال کرتے۔مانا کہ یہ شبد انگریزی اور ہندی میں نہیں پھر بھی کیا ہوا۔اصل بات یہ ہے کہ نہ مجھے اس کی کوئی بات سمجھ آتی اور نہ ہی اسے میری کوئی بات ہضم ہوتی لیکن اتنے بڑے اور طاقت ور آدمی سے دوستی بجائے خود اہم ہے کہ نہرو کبھی بھی قائم نہ کر سکے۔
جب چنائو والا تنائو مزید بڑھ گیا تو ہم نے سوچا چلو ہمسایہ ملک کے ساتھ تھوڑا کبڈی کھیل کھیلتے ہیں تاکہ کچھ کچھ تنائو کم ہو جائے۔ کیا کریں وہاں تو وہ پٹھان بیٹھا ہے ،ہم نے ایک دن بالا کوٹ میں اپنے جہاز بھیجے تاکہ جیش لوگوں کی خبر گیری کرسکیں لیکن اس نے دوسرے ہی دن قرضہ اُتار دیا اور ہماری صحت وعافیت پوچھنے آئے ۔ ہمارا اصل مقصد لاہوری چائے اور بھارتی چائے میں فرق سمجھنا تھا ،پھر یہ ہوا کہ سید حسن اور ہمارا ابھی نندن گلے ملنے لگے تو لاہوری چائے پلانے کے لئے انہوں نے ابھی نندن کو نیچے اتار دیا لیکن وہاں جو چائے کا دور زیادہ کھینچ گیا تو مجھے تشویش ہوئی کیونکہ چائے پینے میں کتنا وقت لگتا ہے وہ بھلا مجھ سے بہتر کون جانے ۔اس لئے میں نے فوراً دھمکی دے ڈالی کہ ابھی نند ن کا میٹھی میٹھی چائے کے ساتھ اتنا ابھی نندن نہ کیا جائے کہ وہ شترو ہمسایہ کی شہریت ہی اختیار کر لے اور پھر وہیں کسی کوٹھری میں پڑا رہے۔اس دھمکی کا اثر یہ ہوا کہ پٹھان نے اپنے پارلیمان میں کھڑے ہوکر اعلان کردیا کہ ہم ابھی نندن کو چھوڑ رہے ہیں ۔یہ مت سمجھنا کہ پٹھان کی عزت اس سے بڑھ گئی بلکہ ہماری دادا گیری کا رعب بیٹھ گیا ۔یہ بھی یاد رہے کہ بر صغیر میں کافی سمے سے نیوکلیر ہتھیاروں کی بات چل رہی ہے۔کانگریسیوں نے چھوٹے نیوکلیر بم کا ٹیسٹ کیا تھا لیکن باجپائی سرکار نے کافی بڑے نیوکلیر دھماکے کو آزمایا ۔کسے نہیں معلوم کہ کانگریسی دھماکے سے پار والے نہیں ڈرتے تھے لیکن ہمارے دھماکے سے سب خوف زدہ ہیں ۔اسی لئے میں کہتا ہوں کہ ہمارے نیوکلیر دیوالی کے پٹاخے نہیں کہ ہم آتش بازی سے کام لیں ۔مانا کہ پٹھان کے یہاں بھی نیوکلیر ہے لیکن وہ انہیں شب برات کو خوشی منانے کے سوا کہیں استعمال نہیں کر سکتے کیونکہ مودی ہے تو سب کچھ ممکن ہے۔ابھی دھمکی کی بات چل رہی تھی ، ہاں اب کئی سال سے وہاں شہریت لئے کوٹھری میں قید کلبھوشن یادیو کا مسلٔہ ہے ۔ اس بات کو ہم عالمی عدالت میں لے کرگئے ہیں لیکن دھمکی والے الفاظ مجھے نہیں سجھاتے تاکہ میں اسے بھی واپس بلوا سکوں ۔آپ یقین رکھیں چنائو کا تنائو کم ہوتے ہوتے میں شبد کوش سے صحیح دھمکی والے الفاظ ڈھونڈ نکالوں گا اور پٹھان کے یہاں سے اسے بھی واپس لائوں گا۔
چنائو کے تنائو میں ہم نے ایک بہادر عورت جو سادھوی پر گیہ ہے کو بھوپال سے چنائو لڑنے کا ٹکٹ دلوایا ۔اس بہادر عورت نے مالیگائوں اور دوسر ی جگہوں پر بلاسٹ کرکے سینکڑوں مسلمانوں کو قتل کرایا ۔یوں اس نے گجرات فسادات کی ایک طرف یا دتازہ کردی۔ دوسری طرف ہمارے نقش و قدم پر چل کر ہماری پیرو کار بن گئی ۔یہی وجہ ہے کہ اس نے ثابت کردیا کہ وہ ہماری اچھی اور قابل کاری کرتا ہے۔اس لئے وہ چنائو ٹکٹ کا حق دار بن پائی۔اتنا ہی نہیں وہ گائے ماتا کی اس قدر پرشنسک ہے کہ اس نے تسلیم کیا کہ گائے کو پیچھے سے آگے تک رب کرو بلڈ پریشر ٹھیک رہے گا ۔اس نے گائے کے پیشاب سے بریسٹ کینسر کا اپناعلاج خود ہی کیا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اس نے شراپھ دے کر ایک بہادر پولیس افسر ہیمنت کرکرے کو سروناش کر ڈالا ۔وہ تو اچھا ہی ہوا نہیں تو وہ سارا ہندو دہشت گردی گروپ ننگا کردیتا ، کیا پتہ وہ مودی شاہ اینڈ کمپنی تک بھی قانون کا لمبا ہاتھ پہنچا دیتا ۔ہم تو ابھی تک اجمل قصاب کی دل ہی دل میں تعریف کر رہے تھے کہ کرکرے صاحب کا خون اسی کے اوپر ڈال دیتے تھے لیکن اب پتہ چلا کہ سادھوی میڈم کا کمال تھا ۔ اس لئے ہم اب واہ مودی واہ کے بدلے واہ سادھوی واہ کا جاپ کر تے ہیں ! ہاں اب مسلٔہ یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ گائے دیسی ہو یا بدیسی ۔بدیسی گائے لانے کا انتظام بھی میں خود کرسکتا ہوں آخر ملکوں ملکوں میرا دورہ کس بات کے لئے ہے۔دیسی لائیں تو گائے بریگیڈ مار ڈالے گ لیکن اس مار پیٹ میں تو وہی لوگ شکار ہوں گے جن کے لئے سادھوی پریگیہ سنگھ کو شاباشی کے طور الیکشن ٹکٹ دیا گیا۔ابھی تو میں سوچ رہا ہوں کہ تہاڑ جیل کے اس سپرنڈنٹ کو بھی ٹکٹ دلائوں جس نے مسلم قیدی کے شانے پر گرم ہتھیار سے اوم گودا۔ اس طرح پکا ہندو شردھالو ہونے کا ثبوت فراہم کردیا۔اس سے یہ بھی ثابت ہو گا کہ واقعی کوئی ہندو دہشت گرد نہیں ہو سکتا جس کا پرچار میں برابر ۲۰۰۲ ء سے کرتا آیا ہوں ۔اس کی تازہ مثال یہ بھی ہے کہ گجرات فسادات میں امن پسند میرے حامیوں کے ہاتھوں بلقیس بانو نامی خاتون کی اجتماعی عصمت دری اور خاندان کے چودہ افراد کو قتل کئے جانے کے بعد اسے سپریم کورٹ نے پچاس لاکھ معاوضہ، مکان اور سرکاری نوکری کا حکم نامہ جاری کردیا ۔اسے سب کا ساتھ سب کا وکاس کہتے ہیں۔
اتنا ہی نہیں ہم نے دو کروڑ نوکریاں سالانہ پیدا کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔اس سلسلے میں کسی پریم جی یونیورسٹی نے اعلان کیا ہے کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے سبب پچاس لاکھ نوکریاں ختم ہو گئیں ۔اس قسم کی افواہیں پھیلانے والے دیش دروہی ہیں اور ان کے لئے پڑوسی ملک کا ویزا تیار کروانا ہی بہتر ہوگا ۔ایک اور افواہ ہے کہ جیٹ ائر ویز بند ہونے سے بیس ہزار نوکریاں چلی گئیں اور بی ایس این ایل سے چوپن ہزار افراد کو برخاست کیا جائے گا ۔بھائی لوگو !مودی ہے تو ممکن ہے اور ساتھ میں پڑوسی ملک کا ویزا ٹکٹ بھی تیار ہے ؎
وہ خزانوں کو ردی سمجھ کر بیچ ڈالے گا
وہ چندن کو اگربتی سمجھ کر بیچ ڈالے گا
اور حکومت ہم نے دے دی چائے والے کو
وہ بھارت کو چائے پتی سمجھ کر بیچ ڈالے گا
یقین نہ آئے تو اپنے ملک کے کسانوں سے ہی پوچھ لیں جو آئے دن خود کشی کر رہے ہیں ۔ اس لئے کہ انہیں قرض دار روز روز تقاضہ کرنے آتے ہیں ۔بھلا سہن بھی کتنا کریں ؟؟؟ایسی زندگی سے تو موت ہی بہتر ہے لیکن اس کے لئے کانگریس اور نہرو ذمہ دار ہیں جنہوں نے سردار پٹیل کو وزیر اعظم نہیں بننے دیا ۔ مانا کہ پہلا الیکشن ہونے سے پہلے ہی سردار پٹیل سورگباش ہو گیا تھا لیکن اگر نہرو نے اس مہاپرش کو یہ راز بتایا ہوتا کہ وہی وزیر اعظم بننے والا ہے تو وہ مزید کچھ سال ضرور زندہ رہتا۔پٹیل کا آہنی مجسمہ بنانے پر ہم کوئی تیس ہزار کروڑ صرف کروائے جس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ خود کسانوں کے مسیحا کا کس قدر ہم آدر کرتے ہیں۔ادھر بنگال میں جیسا کہ امت شاہ نے کہا اردو زبان مسلط کی جا رہی ہے ۔آپ کو معلوم ہے کہ بھلے ہی وشال دیش کے جنتا کو روٹی نصیب نہ ہو لیکن اردو زبان کو وہ کبھی برداشت نہیں کرتے۔مانا کہ عام لوگوں کو اُردو کی شستگی سے بہت پیار ہے لیکن اسے خاص فرقے کے ساتھ جوڑنے کا کام ہم جیسے دیش بھگت دما دم کر رہے ہیں تاکہ ہماری سیاسی روٹی گرما گرم رہے ۔ اس کے ساتھ ہمارے ایک مہارتھی نے سچ کہا کہ مسلمانوںکوے وناش کے لئے مودی کو ووٹ دو۔ مسلم میاں بھی ہمارے ہی بکرے ہیں لیکن ووٹ کے معاملے میں آپ اشارہ سمجھ ہی گئے ہوں گے۔مسلم خواتین کے لئے ہم نے طلاق ثلاثہ پر روک لگوادی تاکہ مسلم خواتین کے لئے نام کی عزت بنی رہے ۔اب یشودا بن ایک بار طلاق لفظ سننے سے پہلے گھر چھوڑ گئی تو بھلا ہم کیا کریں؟اب کر پا کیجئے پھرایک بار مجھے ہی ووٹ دینا ، زور سے بولو واہ مودی جی آہ!!
……………………….
رابط ([email protected]/9419009169)