آج سے بندشیں ختم ،موبائل انٹرنیٹ خدمات بھی شروع،امن قائم رکھنے کی اپیل
شبیر ابن یوسف
سرینگر//جمعہ کے روز کشمیرمیں مجموعی طور پر صورتحال پُرسکون رہی۔ حکام نے حساس علاقوں میں احتیاطی سکیورٹی انتظامات برقرار رکھے جبکہ ہفتے کے آغاز میں عائد کی گئی بعض پابندیوں میں بتدریج نرمی کی گئی۔سینئر پولیس حکام کے مطابق کشمیر کے تمام اضلاع میں صورتحال پُرامن رہی اور کسی بڑے واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔پولیس کے اعلیٰ افسران نے بتایا کہ اگرچہ سکیورٹی فورسز چوکس رہیں، تاہم دن کے دوران احتیاطی اقدامات برقرار رکھے گئے تھے۔حکام کے مطابق شہر کے مختلف حصوں میں صبح کے وقت پولیس اور نیم فوجی دستوں سی آر پی ایف کے اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی تاکہ کسی بھی قسم کے اجتماع کو روکا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ شہر کے اہم چوراہوں پرخاردارتاریں اور بیریکیڈز لگائے گئے تھے۔
حکام کے مطابق یہ تمام اقدامات امن و امان برقرار رکھنے کے لیے احتیاطی طور پر کیے گئے تھے۔شہر کے مرکز لال چوک میں واقع **گھنٹہ گھر بدستور نو گو ایریا رہا۔ حکام نے اتوار کی رات اس علاقے کو مکمل طور پر بیریکیڈز لگا کر بند کر دیا تھا۔آئی جی پی کشمیر ودھی کمار بردی نے کہا’’ کشمیر بھر میں صورتحال پُرسکون رہی۔ ہفتہ کو کسی قسم کی پابندی نہیں ہوگی۔ تاہم مسلسل نگرانی جاری رہے گی‘‘۔انٹرنیٹ خدمات کے حوالے سے تشویش کا جواب دیتے ہوئے آئی جی پی نے بتایا کہ کشمیر بھر میں انٹرنیٹ سروس دیر رات بحال کردی گئی ،اس سے رہائشیوں، کاروباری افراد اور طلبہ کو بڑی راحت ملے گی جو عارضی معطلی کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔حکام کے مطابق انٹرنیٹ کی معطلی ایک احتیاطی اقدام تھا تاکہ حساس صورتحال کے دوران غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور عوامی نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتا ہے اور سکیورٹی صورتحال بہتر ہونے پر خدمات بحال کر دی جاتی ہیں۔اگرچہ نقل و حرکت پر باضابطہ پابندیاں نہیں تھیں، تاہم اہم چوراہوں، حساس علاقوں اور عوامی مقامات پر سکیورٹی اہلکار تعینات رہے تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔کچھ اضلاع میں موبائل گشت اور چیک پوائنٹس بھی قائم کیے گئے تھے جو معمول کے احتیاطی اقدامات کا حصہ تھے۔
پولیس حکام نے کہا کہ یہ تعیناتی عوام کو اعتماد دلانے اور امن خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کو روکنے کے لیے کی گئی تھی۔کوئک ریسپانس ٹیمیںبھی کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رکھی گئی تھیں۔حکام نے بتایا کہ سکیورٹی ایجنسیاں پورے خطے میں صورتحال پر قریبی نظر رکھیں گی۔ پولیس، سول انتظامیہ اور دیگر سکیورٹی اداروں کے درمیان مکمل رابطہ برقرار ہے تاکہ امن قائم رکھا جا سکے۔پولیس نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پُرسکون رہیں اور حکام کے ساتھ تعاون کریں، کیونکہ امن برقرار رکھنے میں عوامی تعاون انتہائی اہم ہے۔پولیس کا کہنا تھا’’ہماری ترجیح ہر شخص کے لیے امن اور تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ ہم لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور صرف سرکاری معلومات پر اعتماد کریں‘‘۔انتظامیہ نے بھی بندشیں ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی روزمرہ سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رکھیں اور کشمیر میں دیرپا امن برقرار رکھنے کی کوششوں میں تعاون کریں۔