سرینگر+پلوامہ//محکمہ موسمیات کی جانب سے موسمی ایڈوائزری کے عین مطابق22اکتوبر کی شام سے وادی بھر میںدرمیانہ اور موسلادھار بارشوں کا سلسلہ سنیچر کی صبح تک جاری رہا۔لیکن سنیچر کی صبح سے جنوبی کشمیر اور شمالی کشمیر کے کئی علاقوں میں ہلکی سے درمیانہ درجے کی برفباری ہوئی۔اس دوران اونتی پورہ میں تودا گرنے سے خانہ بدوش کنبے کے 3افراد لقمہ اجل جبکہ ایک شدید زخمی ہوا۔ دریں اثناء برفباری اور پسیاں گر آنے کے نتیجے میں سرینگر جموں ، بانڈی پورہ گریز اور سونہ مرگ لداخ شاہرائیں جبکہ سنتھن ٹاپ کشتواڑ سڑک اور مغل روڑ بند ہوگئے ہیں۔محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر سونم لوٹس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اتوار بھی موسم ابر آلود رہے گا اور چند ایک مقامات پر برفباری اور میدانی علاقوں میں بارشیں ہوسکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج دوپہر سے 3نومبر تک موسم خشک رہے گا۔
بارشیں و برفباری
شاہد ٹاک،خالد جاوید،عارف بلوچ، غلام نبی رینہ،عازم جان،اشرف چراغ کے مطابق شہرسرینگرسمیت بیشترمیدانی علاقوںمیں جمعہ کی شام سے سنیچر کی شام تک مسلسل 20گھنٹوں سے موسلا دھار بارشوں کاسلسلہ اوربالائی علاقوں میں برف باری ہونے سے کشمیرکے اطراف واکناف میں معمولات درہم برہم ہوئے۔ محکمہ موسمیات نے آج سہ پہر تک موسم جوں کا توں رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔اگر چہ شمالی کشمیر بشمول بارہمولہ میں سنیچرکی صبح بارشوں کا سلسلہ رُک گیالیکن بعددوپہرپھربارشیں شروع ہوگئیں۔اس دوران درمیانی رات گلمرگ،سونہ مرگ،پہلگام،خطہ پیرپنچال،شوپیان،ترال،زوجیلا،رازدان ٹاپ سمیت متعددبالائی علاقوںمیں برف باری کاسلسلہ شروع ہوگیاجوسنیچرکی دو پہر تک جاری رہا۔سنیچر کی شام تک شوپیان اور کولگام کے درمیانی پہاڑی علاقے میں سب سے زیادہ برفباری ریکارڈ کی گئی۔شوپیان ٹائون اور زینہ پورہ علاقوں میں 4انچ،ہیرپورہ میں 6انچ،کیلر میں 6انچ اور سعد پورہ، سدھو وغیرہ علاقوں میں بھی آدھ فٹ برفباری ہوئی۔دبجن میں ایک فٹ اور پیر کی گلی میںڈیڑھ فٹ برف گری۔پلوامہ کے میدانی علاقوں میں بارش کیساتھ ساتھ برف گری لیکن اوپری علاقوں کے علاوہ ترال ٹائون میں 2انچ،بالائی علاقوں میں 3انچ کے علاوہ پہاڑی علاقوں نارستان میں3انچ، ستورہ میں 2انچ،حاجن میں 3انچ،دودھ مرگ اور ناگہ پتھری میں4انچ،ناگہ بل میں 3انچ، برن پتھری میں 3انچ، مچہامہ زاڑی ہار میں 3انچ کے علاوہ کہلیل ، شاہ پورہ، چیوہ اولر، مندورہ، شکار گاہ میں 2انچ تک برف گری۔۔البتہ کولگام میں اچھی خاصی برف گری۔کولگام کے میدانی علاقوں میں 2انچ،دنیو کنڈی مرگ میں 6انچ، منزگام، وٹو اہربل میں 10انچ اورکنڈ دیوسر قاضی گنڈ میں8انچ برف پڑی۔بارہمولہ میں اگرچہ صرف بارشیں ہوئیں تاہم مضافاتی علاقوںحاجی بل میں ڈیڑھ انچ،ژور کھڈن میں 6 انچ،کنگہ ڈوری گلمرگ میں8انچ،گلمرگ میں5انچ اور رفیع آباد کے اوپری علاقوں میں تین سے چار انچ برف باری ہوئی۔اننت ناگ کے قاضی گنڈ میں ایک انچ، ٹنل پر 6انچ،ویری ناگ کے کپرن علاقے میں 2انچ،کوکرناگ کے سنتھن ٹاپ میں 6فٹ، پہلگام میں 3انچ، پنجترنی میں 6انچ اور گھپا کے آس پاس 10انچ برف ریکارڈ کی گئی ۔ ادھر سونہ مرگ ،زوجیلا ،گمری اور منی مرگ کے علاوہ دراس میں برفباری ہوئی۔سونہ مرگ، زوجیلا ،مٹاین اور گمری میں ڈیڑھ فٹ برف ریکارڈ کی گئی جبکہ دراس میں آٹھ انچ برف گری۔کپوارہ کے میدانی علاقوں میں ہلکی بارشیں ہوئیں تاہم پہاڑی علاقوں میں سادھنا ٹاپ میں ایک انچ، فرکیان گلی 2انچ،زیڈ گلی مژھل میں ڈیڑھ انچ برفباری ہوئی۔بانڈی پورہ میں شدید بارشیں جبکہ گریز میں5انچ،راز دان ٹاپ میں 6انچ،تلیل میں 4انچ،داورمیں 4انچ،تراگہ بل میں 3انچ، وون میں 2انچ،شمتھن ارن میں2انچ میں برفباری ہوئی۔
شوپیان کولگام میوہ باغات
بے وقت کی موسمی کروٹ نے شوپیان اور کولگام کے علاوہ بڈگام اضلاع میں میوہ باغات کو شدید نقصان سے دوچار کردیا۔ محکمہ باغبانی کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ متاثر شوپیان اور کولگام اضلاع ہوئے ہیں، جہاں 30فیصد سے زیادہ میوہ ابھی اتارنا باقی ہے۔ خالد جاوید کے مطابق کولگام کے تقر یبا ًسبھی علاقوں دیوسر،نورآباد،کنڈ، کولگام اورہوم شالی بگ،آونیورہ،یاری پورہ، فرصل، قاضی گنڈکے علاوہ داندواڑ ،نندی مرگ، سی ایس راتھر، سچک رنبیر پورہ، کھل ،اہربل،ٹنگمرگ، باڑی جالن،یاری کھاہ ، منزگام ،کھوری بٹہ پورہ، آڑیجن،گدر، مالون، بانی مولہ، اکہال، برنل لامڑ،حالن، سوپٹ ٹنگہ پورہ، دیوسر،دردہ گنڈ،چوگام،اور علاقہ کنڈ کے علاوہ دیگر علاقوں میں میوہ باغات کو شدید نقصان پہنچا۔ میوہ دار درخت جڑ سے اکھڑ گئے اور ہزاروں میوہ دار درختوں کی شاخیں ٹوٹنے کے ساتھ ساتھ کئی حصوں میں بٹ گئیں۔ شوپیاں سے شاہد ٹاک نے بتایا کہ شوپیان ضلع کے ہر پورہ، سیدھو ، بوہر ی ہالن اور چھوٹی پورہ میں کروڑوں روپے کے سیب کے پھلوں کو نقصان پہنچا۔باغ مالکان کا کہنا ہے کہ میوہ دار درخت یا تو برفباری کی وجہ سے اکھڑ گئے یا انکی شاخیں ٹوٹ گئیں۔ضلع میں ابھی کئی اقسام کے سیب درختوں پر ہی موجود ہیں۔ ضلع شوپیان میں قریب 30 فیصد کسان برفباری سے قبل درختوں سے سیب اتارنے سے قاصر رہے۔ ان علاقوں کے مالکان با غات کا کہنا ہے کہ اس سال میوہ پوری طرح پک گیا تھا لیکن غیر متوقع برف باری نے ان کی سال بھر کی محنت چھین لی۔پلوامہ میں ہوئی بارشوں سے میوہ باغات میں موجود سیبوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے ۔ترال اور پلوامہ میں بھی کئی ایک اقسام کے میوے درختوں سے نہیں اتارے گئے ہیں۔محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل نے سنیچر کو پلوامہ اور شوپیاں کے مختلف متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا جہاں انہوں نے نقصان کا جائزہ لیا۔ڈائریکٹر جنرل نے فیلڈ افسران کو ہدایت کی کہ وہ نقصان کا تخمینہ لگائیں۔ ڈائریکٹر جنرل اعجاز احمد بٹ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایاکہ میوہ باغات کو سب سے زیادہ نقصان شوپیاں میں ہوا ہے جہاں تقریبا 10فیصد میوہ زمین پر تھا ۔انہوں نے کہا کہ کولگام میں بھی 5فیصد نقصان ہوا ہے اور اگر برف باری کا سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو مزید مشکلات بڑھ سکتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آج جب وہ شوپیاں اور پلوامہ کا دورہ کر رہے تھے تو اس دوران بھی باغات میں درختوں کی ٹہنیاں ٹوٹ رہی تھیں ۔انہوں نے کہا کہ پلوامہ اور اننت ناگ میں بھی کچھ ایک باغات میں نقصان پہنچا ہے ۔جبکہ بڈگام کے چرار شریف کے اوپری علاقوں میں بھی باغات کو نقصان ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ کا پورا سٹاف اس وقت کام پر لگایا گیا ہے جو نقصان کا تخمینہ لگا رہے ہیں اور جلد رپورٹ اعلیٰ حکام کو بھیجی جائے گی ۔
ترال حادثہ
اونتی پورہ کے کانی ناگ گائوں میںعارضی طور مقیم ایک خانہ بدوش کنبے کے خیمہ پر مٹی کا بھاری تودا آگرا جس کے باعث افراد خانہ اسکے نیچے دب گئے جس کے نتیجے میں 3کی موت واقع ہوئی جن میں 2خواتین شامل ہیںجبکہ ایک کو بچا لیا گیا۔اونتی پورہ قصبے سے قریب دو کلو میٹر دور کانجی ناگ کے مقام پر کئی خانہ بدوش بکروال کنبے عارضی خیموں میں رہائش پذیر ہیں۔ سنیچر کے روز دن کے ایک بجے شدید بارشوں کی وجہ سے ایک کنبے کا خیمہ مٹی کے ایک بڑے تودے کے نیچے آیا ، جس کے نتیجے میں خیمے میں موجود4افراد زندہ دب گئے ۔ یہاں دیگر کنبوں نے شور مچایا جس کے بعد یہاں آس پاس کے لوگوں نے پولیس اور سیول انتظامیہ کو مطلع کیا ، جنہوں نے موقعہ پر پہنچ کر بچاو کارروائیوں میں حصہ لیا ۔اس دوران پولیس نے بلڈوزر کی مدد سے پہلے تین اور بعد میں ایک دبے ہوئے شخص کو مٹی کے نیچے سے نکالا اور فوری طور مقامی ہسپتال منتقل کیا جہاں2خواتین سمیت3افراد زخموں کی تاب نہ لا کر لقمہ اجل بن گئے جبکہ ایک کو نازک حالت میں سرینگر منتقل کیا گیا ۔پولیس نے مرنے والوں کی شناخت ارشاد برگٹ ولد عبد الغنی، مہناز اختر دختر عبد القیوم اوروہاب جان زوجہ عبد الغفور کے طور کی ہے ۔پولیس نے بتایایہ چاروں افرادجموں کے ریاسی سے تعلق رکھتے ہیں۔اس دوران سیول انتظامیہ نے بعدمیںیہاں موجود باقی خانہ بدوشکنبوںکے تقریبا ًدس دیگر افراد کو گورنمنٹ مڈل سکول نور پورہ منتقل کر دیا ۔