کاٹھمنڈو//نیپال کا مشہور شہریت ترمیمی قانون آنے والے انتخابات میں بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ نیپال کے ایوان نمائندگان نے صدر کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے دوبارہ شہریت ترمیمی ایکٹ منظور کر لیا ہے۔نیپال میں موجودہ وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا کی حکومت نے شہریت ترمیمی ایکٹ منظور کر کے صدر کی منظوری کے لیے بھیج دیا ہے۔ صدر ودیا دیوی بھنڈاری نے متعدد اعتراضات اٹھاتے ہوئے مذکورہ قانون کو دوبارہ غور کے لیے حکومت کو بھیج دیا تھا۔ نیپال کی حکومت نے صدر کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے اسے دوبارہ پارلیمنٹ میں منظور کرانے کی پہل کی ہے۔ نیپال کے ایوان نمائندگان نے اس قانون کی دوبارہ منظوری دے دی ہے۔
اب اگر اسے اصل شکل میں پارلیمنٹ کے ایوان بالا سے منظور کیا جاتا ہے تو صدر کے پاس اس پر دستخط کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ نیپال کے آئین کے مطابق صدر بل کو صرف ایک بار دوبارہ غور کے لیے واپس کر سکتے ہیں۔نیپالی ایوان نمائندگان میں اس قانون پر ووٹنگ کے دوران وہاں موجود 195 ارکان میں سے 135 نے اس کی حمایت اور 60 نے مخالفت کی۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ نیپال میں آنے والے انتخابات میں یہ قانون بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ حکمراں جماعت کو لگتا ہے کہ ملک کے مدھیس خطے میں اس قانون کا فائدہ حکمراں جماعت کو ملے گا۔ تاہم اپوزیشن جماعتیں اس قانون کو منظور کرانے میں حکمران جماعت کی طرف سے دکھائی گئی جلد بازی کو مسئلہ بنا سکتی ہیں۔ حکمراں جماعت کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ قدم نیپالی مردوں سے شادی کرنے والی غیر ملکی خواتین کے بچوں کے مفاد میں اٹھایا ہے۔ اب تک چار لاکھ 40 ہزار غیر ملکی خواتین نیپالی مردوں سے شادی کر کے نیپال کی شہریت لے چکی ہیں۔ تاہم روزگار کی کمی کی وجہ سے ان کے بچوں کو ملک کی شہریت نہیں مل سکی۔ شہریت ترمیمی قانون ان لاکھوں بچوں کو شہریت دینے کا راستہ کھول دے گا۔(ایجنسیز)