رمیش کیسر
نوشہرہ//سب ڈویژن نوشہرہ میں جموں و کشمیر اسٹیٹ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی مقامی شاخ نہ ہونے کی وجہ سے طلباء کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مقامی عوام اور طلباء نے حکومت کی اس لاپرواہی پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اس دیرینہ مسئلے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کے باعث ہزاروں طلباء متاثر ہو رہے ہیں۔علاقہ کے لوگوں کے مطابق نوشہرہ ایک اہم تعلیمی مرکز ہونے کے باوجود یہاں اب تک جموں و کشمیر اسٹیٹ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی کوئی برانچ قائم نہیں کی گئی۔ اس وجہ سے طلباء ، چاہے وہ ریگولر ہوں یا پرائیویٹ، بورڈ سے متعلقہ تمام سرکاری امور کے لیے جموں یا راجوری جانے پر مجبور ہیں۔ ان امور میں رجسٹریشن، مائیگریشن، اسناد کی تصدیق، امتحانی فارم جمع کرانا، مارک شیٹس کی درستگی اور دیگر دفتری معاملات شامل ہیں۔مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ نوشہرہ سے جموں اور راجوری کا سفر وقت طلب اور مہنگا ہے۔
اکثر طلباء کو معمولی کام کے لیے بھی کئی مرتبہ چکر لگانے پڑتے ہیں کیونکہ تمام کام ایک ہی دن میں مکمل نہیں ہو پاتے۔ اس صورتحال سے نہ صرف وقت اور پیسے کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ طلباء کی تعلیم بھی متاثر ہوتی ہے۔لوگوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ تقریباً 70 برسوں سے مقامی عوام سیاسی نمائندوں اور حکام سے بورڈ کی شاخ کھولنے کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں، مگر ہر بار صرف وعدے کیے جاتے ہیں۔ عوام کے مطابق سیاستدان انتخابات کے دوران بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں لیکن کامیابی کے بعد پانچ سال تک عوامی مسائل کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے۔طلباء اور والدین نے کہا کہ اگر نوشہرہ میں بورڈ کی شاخ قائم کی جائے تو نہ صرف مقامی طلباء کو راحت ملے گی بلکہ آس پاس کے دیہی علاقوں کے نوجوان بھی آسانی سے اپنے تعلیمی معاملات حل کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں جب حکومت تعلیم کے فروغ کی بات کر رہی ہے، ایسے میں بنیادی تعلیمی سہولیات کی عدم دستیابی افسوسناک ہے۔عوام نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر اور وزیر تعلیم سے پرزور اپیل کی ہے کہ نوشہرہ میں جلد از جلد جموں و کشمیر اسٹیٹ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی شاخ قائم کرنے کی منظوری دی جائے تاکہ طلباء کو درپیش طویل عرصے سے چلے آ رہے مسائل کا مستقل حل ممکن ہو سکے اور انہیں دور دراز علاقوں کے غیر ضروری سفر سے نجات مل سکے۔