سرینگر//متحدہ مجلس علماء کے فیصلے اور اعلان کے مطابق مجلس کے سربراہ اور بانی میرواعظ مولوناعمرفاروق کی گزشتہ20ماہ سے مسلسل نظربندی کے خلاف جمعہ کو جموں کشمیرکی بڑی مساجد،خانقاہوں ،امام باڈوں اور آستانو ں میں علماء،خطباء اور ائمہ نے اپنے خطبوں میں شدیدبرہمی کااورردعمل کااظہار کرتے ہوئے حکومت کے اس طرزعمل کی مذمت کی اور کہا کہ یہ شخصی آزادی کی سنگین خلاف ورزی اور مداخلت فی الدین کے مترادف ہے۔ایک بیان کے مطابق علماء اور خطیبوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مقدس ماہ صیام کی آمد پر میرواعظ کو فوری طور بلاشرط رہا کیاجائے تاکہ میرواعظ جامع مسجد میں اپنے دینی فرائض اداکرسکیں۔انہوں نے کشمیر کے دیگر سیاسی قیدیوں،نظربندوں اور نوجوانوں کی بلا شرط رہائی کابھی مطالبہ کیا۔ جامع مسجد سرینگرمیں انجمن کے نائب صدر اور خطیب وامام مولانا سعیداحمد نقشبندی کے اپنے خطاب میں کہاکہ میرواعظ کی نظر بندی سے عوام کے دینی جذبات مجروح ہورہے ہیں اورجامع مسجد کے محراب میں قال اللہ اور قال رسول ؐ کے درس وتبلیغ کو خاموش کرایا گیا،جوحددرجہ افسوسناک ہے ۔مجلس کے دیگر سرکردہ اراکین میں دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ کے مولانا رحمت اللہ میر، انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ آغا سیدحسن نے بڈگام میں ، جمعیت اہلحدیث جموںوکشمیر کے مفتی اعظم مفتی محمد یعقوب بابا مدنی اور دیگر جمعیت کے زیر اہتمام مساجد کے ائمہ ، کاروان اسلامی کے مولانا غلام رسول حامی،انجمن اتحاد المسلمین کے سربراہ مولوی مسرور عباس انصاری، انجمن تبلیغ الاسلام کے پرنسپل مولانا سیدعلی اکبر، انجمن حمایت الاسلام کے سرپرست شوکت حسین کینگ و صدر مولانا خورشید احمد قانونگو، کھرم سرہامہ اور جامع مسجد بجبہاڑہ کے خطیب و امام مفتی ضیاء الحق ناظمی، انجمن علمائے احناف کے سربراہ پیرزادہ اخضر حسین، جمعیت ہمدانیہ جموںوکشمیر کے سرپرست مولانا ریاض احمد ہمدانی ، جمعیت انوار الاسلام کے مولاناشیخ غلام محمد،آستانہ عالیہ نقشبند صاحب کے خطیب و امام میر محمد طیب کاملی، آستانہ عالیہ خانیار کے متولی خالد گیلانی، دارالعلوم سبیل الھدیٰ کے مفتی اعجاز الحسن بانڈے، بزم توحید اہلحدیث کے پیر رحمت اللہ، مولانا طارق الاسلام، خطیب و امام جامع مسجد ہندوارہ مفتی نظام الحق ندوی، انجمن مظہر الحق بیروہ کے سربراہ اور خطیب و امام جامع مسجد بیروہ کے مولانا لطیف احمد بخاری، مفتی سید احمد بخاری، ائمہ مساجد جموںوکشمیر کے جنرل سیکریٹری حافظ عبدالرحمن اشرفی، مولانا طارق احمد، مفتی ریاض احمد شاہ، مفتی محمد احمد ،کاروان ختم نبوت کے سربراہ مفتی مدثر،مفتی شبیر احمد، قاضی محمد شبیر، مفتی ارشاد احمد قاسمی، مولانا معروف احمد، بشیر احمد راتھر، اور مولانا ایم ایس رحمن شمس کے علاوہ جامع مسجد بانہال اور جامع مسجد جموں کے خطیب و امام حضرات نے میرواعظ کی نظر بندی ختم کرنے اور انکی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔نماز جمعہ کے موقعہ پر علما ائمہ اور خطیب حضرات نے یہ بات بھی واضح کی کہ کووِڈ- 19کی تازہ لہر کے پیش نظر مساجد ، خانقاہوں ، امام باڑوں اور عبادت گاہوں میں سختی کے ساتھ رہنما خطوط پر عمل کرتے ہوئے سماجی دوریوں، ماسک کا استعمال اور صفائی ستھرائی کا خصوصی طور پر اہتمام کیا جائیگا اور عام نمازیوں کو اسکا پابند بنایا جائیگا۔
جامع مسجدمیں نمازتروایح کی معطلی کی خبریں بے بنیاد
سرینگر//انجمن اوقاف جامع مسجد نے ابھی تک تاریخی جامع مسجدمیں ماہ صیام کے دوران نمازتراویح کی معطلی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیںلیا ہے۔ایک بیان کے مطابق طبی ماہرین کی رائے اور مشاورت کے بعد ہی اس سلسلے میں کوئی فیصلہ لیا جائے گا۔بیان میں ذرائع ابلاغ میں اس حوالے گردش کررہی خبروں کو افواہ قرار دیتے ہوئے انہیں بے بنیاد بتایا گیا۔