نواز رونیال
بٹوت //نئی دلی میں براجمان حکمران جماعت کا مقصد جموں وکشمیر کی انفرادیت، اجتماعیت اور تشخص کو ختم کرنا کے سوا اور کچھ نہیں اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کئے جارہے تمام دعوے، وعدے اور اعلانات محض جھوٹ اور فریب پر مبنی ہے، اگر حکمرانوں کو واقعی یہاں کے عوام کی فلاح و بہبود کی فکر ہوتی تو وڈون، مڑواہ اور دچھن کو الگ اسمبلی نشست اور پونچھ راجوری کو علیحدہ پارلیمانی سیٹ دی گئی ہوتی۔ ان باتوں کا اظہار صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بٹوت میں چناب ویلی زون کے ضلع صدور، انچارج کانسچونسیز،بلاک صدور اور یوتھ ونگ کے عہدیداروں کے یک روزہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن میں پارٹی جنرل سکریٹری حاجی علی محمد ساگر کے علاوہ ترجمانِ اعلیٰ تنویر صادق، صوبائی صدر جموں ایڈوکیٹ رتن لعل گپتا، نائب صدر صوبہ جموں خالد نجیب سہروردی، چناب ویلی زون صدر سجاد احمد کچلو، صوبائی یوتھ صدر اعجاز جان، ضلع صدر رام بن سجاد شاہین، سینئر پارٹی لیڈران عبدالغنی تیلی،اسرار خان، برج موہن شرما اور ارجن سنگھ راجو بھی موجود تھے۔کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مرکزی حکومت کو آڑ ے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ حال ہی ہوئی حدبندی کے دوران جب سیٹیں بڑھائی جارہی تھی تو خطہ چناب کے وڈون، مڑواہ اور دچھن کو الگ اسمبلی نشست دینے سے کون سا پہاڑ ٹوٹ جاتا یا پھر خطہ پیرپنچال کے راجوری اور پونچھ کو اننت ناگ سے ملانے کے بجائے ان جڑواں اضلاع کیلئے الگ پارلیمانی نشست سے کون سا نقصان ہوجاتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں (مرکز) کو یہاں کے عوام کی راحت کاری سے کوئی لینا دینا نہیں بلکہ ان کا مقصد اس تاریخی ریاست اور اس کے تشخص کو ختم کرنا ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کو اس وقت زبرست چیلنجوں کا سامنا ہے اور موجودہ صورتحال میں ہمیں آپسی اختلافات اور ذاتی اغراض و مقاصد کو بالائے طاق رکھ کر مل جُل کر اپنی ریاست کے بہترکل کیلئے جدوجہد کرنی ہے اور اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ انہوں نے پارٹی سے وابستہ عہدیداروں اور کارکنوں پر زور دیا کہ وہ ایسے نمائندوں کو آگے لائیں جو نڈر ہوں، جن کی عوام میں ساکھ ہو، جن کا ایمان نہ ڈگمگاتا ہو ۔ ہمیں ایسے نمائندوں کی ضرورت نہیں جو آپ کا قیمتی ووٹ لیکر اپنا ایمان بھیج ڈالیں ، ہمیں ایسے نمائندوں کی ضرورت ہے جن کا ایمان نہ تو دھونس و دبائو اور نہ ہی کروڑوں روپے دیکھ کرسے ڈگمگائے ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں سے تاکید کی کہ وہ پارٹی کی مضبوطی کیلئے عوام کیساتھ قریبی رابطہ رکھیں کیونکہ عوامی اشتراک اور تعاون ہی ایک پارٹی کی مضبوطی ہوتی ہے۔